افغان پارلیمان میں خواتین کے قانون پر بحث ختم

افغان خواتین کے خلاف تشدد، بچوں کی شادی اور جبری شادی کے خلاف سنہ 2009 میں ایک صدارتی حکم کے ذریعے ایک قانون پاس کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنافغان خواتین کے خلاف تشدد، بچوں کی شادی اور جبری شادی کے خلاف سنہ 2009 میں ایک صدارتی حکم کے ذریعے ایک قانون پاس کیا گیا تھا

افغانستان کی پارلیمان میں اراکین کی ہنگامہ آرائی کے باعث خواتین پر تشدد کے خلاف قانون پر بحث روک دی گئی ہے۔ پارلیمان میں قانون پر بحث شروع ہونے کے پندرہ منٹ بعد ہی سپیکر نے بحث روک دی۔

ایوان کے قدامت پرست اراکین نے خواتین کے حقوق کے مجوزہ قانون کو ختم کرنے پر زور دیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بحث کے دوران ملاؤں اور قدامت پرست اراکینِ پارلیمان نے صدر حامد کرزئی پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے صدارتی آرڈینس کے ذریعے شریعی قوانین کی مخالفت کی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قانون پر بحث نہ ہونے کے باوجود بھی موجودہ صدارتی آرڈینس نافذ العمل ہوگا۔

افغان خواتین کے خلاف تشدد، بچوں کی شادی اور جبری شادی کے خلاف سنہ 2009 میں ایک صدارتی حکم کے ذریعے ایک قانون پاس کیا گیا تھا لیکن اسے پارلیمان کی جانب سے منظوری نہیں مل سکی تھی

لیکن عورتوں کے تحفظ کے قانون پر پارلیمانی منظوری پرسرگرم خواتین کی آراء منقسم ہیں۔بعض کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں اس قانون پر بحث کرانے سے قدامت پسند اور بنیاد پرست اس میں ترامیم کرکے اسے کمزور بنا دیں گے یا پھر اسے کلی طور پر ختم کر دیں گے۔

خواتین کو تحفظ دینے کے قانون کی ایوان میں بحث کی مخالفین میں زہرہ نادری بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ آج ایوان میں ہونے والے ہنگاموں کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ان کا موقف درست تھا۔

دو سال قبل فوزیہ کوفی طالبان کے جان لیوا حملے میں بال بال بچ گئی تھیں
،تصویر کا کیپشندو سال قبل فوزیہ کوفی طالبان کے جان لیوا حملے میں بال بال بچ گئی تھیں

ممتاز رکن پارلیمنٹ فوزیہ کوفی دو سال قبل طالبان کے قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئی تھیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس قانون کو پارلیمان سے منظوری ملنی چاہیے۔انھیں خدشہ ہے کہ بصورت دیگر یہ قانون کمزور ہو جائے گا کیونکہ افغانستان طالبان تحریک کو صلح کی جانب مائل کرنا چاہے گا۔

فوزیہ کوفی نے بی بی سی کو بتایا، ’یہ بات یقینی نہیں کہ افغانستان کا کوئی بھی صدر خواتین کے مسائل بطور خاص اس قانون کے تحت اس قدر سنجیدہ ہوگا۔‘

سنہ 2009 میں افغان صدر حامد کرزئی کے منظور کیےگئے حالیہ قانون کے تحت خواتین کے خلاف تشدد کرنے پر سینکڑوں افراد کو جیل بھیجا جا چکا ہے۔

صدر حامد کرزئی کو خواتین کے حقوق پر اپنے موقف میں تبدیلی کے باعث خواتین کے حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔2012 میں صدر کرزئی نے ملک میں اثررورسوخ رکھنے والی ملا کونسل کے فیصلے کی تصدیق کی تھی جس میں شوہر کو اجازت دی گئی کہ وہ مخصوص حالات میں اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھا سکتے ہیں۔

افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے لیے کوششوں کے باوجود جبری شادیاں اور خواتین کے ساتھ بدسُلوکی واقعات عام ہیں۔

افغان آبادی کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں غربت، فسادات اور قدامت پسندانہ روائیوں کے باعث لڑکیاں گھروں تک ہی محدود ہیں۔