پاکستان کے ساتھ شدت پسندی پر تعاون جاری رے گا: امریکہ

امریکہ کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ پاکستان کے ساتھ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی شدت پسندی جیسے مسائل پر قریبی تعاون جاری رہے گا۔
واشنگٹن میں پیر کو میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستان کے بارے میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جن ساکی نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف اپنے عوامی تاثرات میں یہ ظاہر کرچکے ہیں کہ وہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’پہلے تو انہیں حکومت بنالینے دیں جو کہ مقررہ مدت کے اندر ہوگا اور اسکے بعد ہم ان کے ساتھ کئی ایشوز پر مل کر کام کرنے پر بات چیت کریں گے۔‘
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کرنا چاہتے ہیں مگر فی الوقت وہ اسکی تاریخ اور دوسری تفصیلات نہیں بتاسکتے۔
انہوں نے کہا کہ جان کیری پاکستان کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی سمیت کئی معملات پر تعلقات کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
ترجمان نے میاں نواز شریف کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو پاکستان آنے کی دعوت کو مثبت قدم قرار دیا۔
پاکستان میں انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’ہم پاکستانی عوام کے انتخاب کی قدر کرتے ہیں اور جمہوری طور پر نئے بننے والی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔‘
امریکی وزاتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم اس بات پر خوش ہیں کہ بہت سے پاکستانیوں نے انتخابات کے جمہوری عمل میں حصہ لیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق انتخابات میں ٹرن آؤٹ تقریباً ساٹھ فیصد رہا جو کہ گذشتہ 35 سال میں سب سے زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن ساکی نے کہا کہ امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری نے میاں نواز شریف کو مبارک باد دینے کے لیے اتوار کو ٹیلی فون بھی کیا اور کہا کہ نئی حکومت بننے کے بعد وہ ان کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان میں گیارہ مئی کے عام انتخابات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مرکزی حکومت کی تشکیل کے لیے مشاورت جاری ہے جبکہ صوبوں میں بھی حکومتیں بنانے کے لیے منختلف پارٹیوں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔







