’پاکستان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے‘

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آنرس راسموسن نے ایک بار پھر پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے جو افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان امریکہ اور نیٹو کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ میں ہے اور پاکستان سے اس قسم کے مطالبے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔
راسموسن امریکہ کی سربراہی میں ہونے والی بات چیت کے موقع پر منگل کو افغان صدر حامد کرزئی کے ہمراہ بات کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ نیٹو افغانستان میں سالوں تک جاری اپنی فوجی مشن کو آئندہ سال کے آخر تک ختم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
نیٹو کے برسلز ہیڈکوارٹر میں راسموسن نے بات کرتے ہوئے کہا ’اگر ہم نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں دیر پا قیامِ امن کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستان کے مثبت کردار کی ضرورت ہے۔‘
انہوں نے کہا ’پاکستان اور افغانستان کا باہمی مفاد شدت پسندی، انتہا پسندی اور سرحد پر غیر قانونی نقل وحرکت کے خلاف لڑنا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں اتحادی افواج سکیورٹی کے معاملات افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کر رہی ہے اور ایساف کا کردار اب جنگجو قوت سے امدادی قوت میں بدل رہا ہے۔
تقریباً ایک لاکھ افراد پر مشتمل اتحادی افواج 2014 کے اخر تک افغانستان سے نکل جائیں گے جس کے بعد نیٹو کے مطابق نیٹو کا کردار صرف ٹریننگ دینے کا ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ وہ نیٹو کی مسلسل حمایت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان ضرور اس قابل ہو گا کہ وہ افغان عوام کو سکیورٹی فراہم کرے۔
خیال رہے کہ بدہ کو افغان صدر حامد کرزئی، امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری اور پاکستانی فوج کےسپہ سالار جنرل اسفاق پرویز کیانی ملاقات کر رہے ہیں جس میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل جیلانی اور افغانستان کے وزیرِ دفاع بسم اللہ خان محمدی کی شرکت بھی متوقع ہے۔
واضح رہے کہ یہ بات چیت افغانستان ، پاکستان اور امریکہ کے مابین سہ فریقی مذاکرات کی کڑی کی طور پر بتائی جاتی ہے۔
جان کیری نے امید ظاہر کی ہے کہ بدھ کو ہونے والے مذاکرات سے پاک افغان سرحد پر سکیورٹی بڑھانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے 2013 کو افغانستان کے لیے ایک اہم سال قرار دیا ہے۔
دوسری طرف نیٹو کی ایک رپورٹ میں جو لیک یا افشا ہو گئی ہے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ان کے سرزمین پر پناہ لینے والے طالبان رہنماؤں کے بارے میں جانتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نصیرالدین حقانی جیسے سینیئر طالبان رہنما اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے قریب رہائش پذیر ہیں۔
پاکستان اس کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کا افغانستان میں کوئی پوشیدہ ایجنڈا نہیں ہے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان نے اپنے سرزمین پر عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں ہیں۔







