شمالی کوریا کی دھمکیاں: جان کیری جاپان پہنچ گئے

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اتوار کی صبح جاپان پہنچ گئے ہیں جہاں وہ جاپان کی اعلیٰ قیادت سے شمالی کوریا کے مسئلے پر بات چیت کریں گے۔
جاپان کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ جان کیری کے دورے سے شمالی کوریا کو ایک سخت پیغام ملے گا۔
جاپان کے وزیر دفاع اٹسونوری آنوڈیرا نے اتوار کو صحافیوں سے کہا کہ’یہ ضروری ہے کہ ہم بین الاقوامی سطح پر رابطے کریں اور شمالی کوریا کو سختی سے یہ پیغام دیں کہ وہ اپنے جوہری اور میزائل تیار کرنے کے پروگرامز لازماً بند کریں۔‘
جان کیری نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی اور اپنے اتحادیوں کا دفاع کریں گے۔
اس دورے میں جان کیری اپنے جاپانی ہم منصب فیومیو کیشیدہ اور وزیراعظم شینزو ابے سے ملاقات کریں گے۔
رائٹر خبر رساں ادارے کے مطابق اس دورے کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خلاف محاذ کو مضبوط کرنا اور اپنے اتحادیوں کو تحفظ کا احساس دلانا ہے۔
حبکہ دوسری طرف اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے تازہ بیان میں امریکی پالیسی کی مذمت کی ہے اور واضح کر دیا ہے کہ اس نیوکلئر پروگرام ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں جسے وہ اپنے ملک کی سکیورٹی کی ضمانت سمجھتا ہے۔

واضح رہے کہ ، جاپان پہلے ہی اپنے تحفظ کے لیے ٹوکیو میں پیٹریاٹ ائیر ڈیفنس میزائیل نصب کر چکا ہے تاکہ شمالی کوریا کی کسی بھی جارحانہ کاروائی روکا جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے سنیچر کو بیجنگ میں امریکہ اور چین نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔
جبکہ چین کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر شمالی کوریا کو اس بات پر رضامند کرنے کے عمل میں شریک ہو گا کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے اور تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بیجنگ میں مذاکرات کے بعد کہا تھا کہ دونوں جانب اس معاملے پر مذاکرات جاری رکھیں گے تاکہ بعض معینہ فیصلوں پر پہنچا جا سکے جن کی مدد سے ان پر عمل در آمد اور پیش رفت پر نظر رکھی جا سکے۔
چین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ یینگ جائچی نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ اور جنوبی کوریا کو دھمکیاں دینے کے بعد پیدا ہونے والے محاذ آرائی کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ چینی حکومت دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
امریکہ نے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے کو اس وقت تک کے لیے منسوخ کر دیا ہے جب تک شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام ترک نہیں کر دیتا۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یہ بھی کہا تھا کہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی پالیسی کو مزید موثر اور سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اگر اس میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوتی تو کسی قسم کے اقدامات کی گنجائش رکھی جا سکے۔
جان کیری خطے کا ایک ایسے وقت میں دورہ کر رہے ہیں جب یہ اطلاعات گردش میں ہیں کہ شمالی کوریا ایک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کرنے والا ہے جو کہ ممکن ہے پندرہ اپریل کو کیا جائے گا جب شمالی کوریا اپنے آنجہانی رہنما کِم اِل سنگ کی ایک سو ایک ویں سالگرہ منائے گا۔

شمالی کوریا کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس نے دو موسودان بیلسٹک میزائیل بیٹریاں مشرقی ساحل کے قریب بھجوا دی ہیں مگر سنیچر کو جنوبی کوریا کی یونہاپ خبر رساں ادارے نے کہا کہ گزشتہ دو روز سے موبائیل لانچرز کی کسی قسم کی کوئی نقل و حرکت نہیں دیکھی گئی ہے۔
شمالی کوریا کی حکومت بنیادی طور پر جنوبی کوریا اور امریکہ کی جانب سے مشترکہ فوجی مشقوں پر غصے ہے۔
یاد رہے کہ امریکی ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی نے یہ خبر دی تھی کہ شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار سے لیس میزائل داغنے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ ممکن ہے کہ شمالی کوریا نے ایسی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہو جس کے ذریعے میزائل جوہری ہتھیار سے لیس کیے جا سکیں۔
چین روانگی سے قبل جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں جان کیری نے شمالی کوریا کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ میزائل تجربہ ’اشتعال انگیز‘ قدم اور ’بہت بڑی غلطی‘ ہو گی۔
جنوبی کوریا کی صدر پارک گیوئن ہائی، وزیر خارجہ اور ملک میں موجود امریکی فوجی کمانڈروں سے بات چيت کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’رواں سال تیسرا جوہری دھماکہ کرنے کے باوجود شمالی کوریا کو جوہری طاقت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا‘۔
جان کیری نے کہا تھا کہ چین کا شمالی کوریا پر بہت اثرو رسوخ ہے اور چین کو چاہیے کہ وہ شمالی کوریا پر ایٹمی پروگرام ترک کرنے کے لیے مزید دباؤ ڈالے۔
شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کے اپنے پروگرام کی وجہ سے عائد ہونے والی اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے ردعمل میں حالیہ چند ہفتوں میں کئی مرتبہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ چھیڑنے کی دھمکی دی ہے۔







