’چین شمالی کوریا کو جارحیت سے باز رکھنے میں مدد کرے‘

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری چین پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے کہا ہے کہ وہ چینی حکام پر زور دیں گے کہ وہ شمالی کوریا پر اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے اسے جارحیت سے باز رکھے۔
جان کیری سنیچر کو بیجنگ پہنچے ہیں جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے بات چیت کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق وہ چین کے وزیراعظم اور صدر سے بھی ملاقات کریں گے۔
دورۂ چین کے آغاز سے قبل جان کیری نے جمعہ کو کہا تھا کہ’میرے خیال میں پوری دنیا پر یہ واضح ہے کہ چین کا شمالی کوریا کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں یا اس پر اثر رکھتا ہے۔‘
انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اور چین جوہری عدم پھیلاؤ کی جس پالیسی کے حامی ہیں اسے کارگر ہونا چاہیے۔
خیال رہے کہ چین کو اس خطے میں شمالی کوریا کا واحد حامی اور اتحادی کہا جاتا ہے۔
وزیرِ خارجہ کا عہدہ سنھالنے کے بعد جان کیری پہلی مرتبہ خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔
وہ سنیچر کو بیجنگ میں چینی حکام سے بات چیت کے بعد اتوار کو جاپانی دارالحکومت ٹوکیو جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جان کیری خطے کا ایک ایسے وقت میں دورہ کر رہے ہیں جب یہ اطلاعات گردش میں ہیں کہ شمالی کوریا ایک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کرنے والا ہے۔
تاہم امریکہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے ثبوت موجود نہیں کہ شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں سے لیس میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس سے قبل امریکی ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی نے یہ خبر دی تھی کہ شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار سے لیس میزائل داغنے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ ممکن ہے کہ شمالی کوریا نے ایسی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہو جس کے ذریعے میزائل جوہری ہتھیار سے لیس کیے جا سکیں۔
چین روانگی سے قبل جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں جان کیری نے شمالی کوریا کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ میزائل تجربہ ’اشتعال انگیز‘ قدم اور ’بہت بڑی غلطی‘ ہو گی۔
جنوبی کوریا کی صدر پارک گیوئن ہائی، وزیر خارجہ اور ملک میں موجود امریکی فوجی کمانڈروں سے بات چيت کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’رواں سال تیسرا جوہری دھماکہ کرنے کے باوجود شمالی کوریا کو جوہری طاقت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ میزائل تجربہ جزیرہ نما کوریا میں پہلے ہی سے خطرناک صورتحال کو مزید خراب کرے گا۔
جان کیری نے کہا کہ چین کا شمالی کوریا پر بہت اثرو رسوخ ہے اور چین کو چاہیے کہ وہ شمالی کوریا پر ایٹمی پروگرام ترک کرنے کے لیے مزید دباؤ ڈالے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ میں جان کیری چین سے کہیں گے کہ خطے میں کشیدگي کم کرنے کے لیے وہ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالے اور اس کے لیے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرے۔
امریکی انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے دورانِ پرواز صحافیوں کو بتایا تھا ’یہ بات کوئی راز نہیں کہ شمالی کوریا پر چین کا سب سے زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس اثر و رسوخ کو استعمال کرے کیونکہ بصورتِ دیگر یہ صورتحال پورے خطے کے لیے خطرناک ہے اور عدم استحکام کا باعث بنےگی۔‘
شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کے اپنے پروگرام کی وجہ سے عائد ہونے والی اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے ردعمل میں حالیہ چند ہفتوں میں کئی مرتبہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ چھیڑنے کی دھمکی دی ہے۔
اس نے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی ہاٹ لائن بند کرنے کے علاوہ یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنا جوہری ری ایکٹر دوبارہ چلائے گا اور یہ کہ وہ شمالی کوریا میں موجود عالمی سفارتی عملے کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتا اس لیے وہ ملک چھوڑ دیں۔







