دمشق میں یونیورسٹی پر حملہ 15 ہلاک

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق دمشق کی ایک یونیورسٹی پر مارٹر گولوں کے حملے کے نتیجے میں پندرہ طلباء ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
شامی حکام نے اس حملے کا الزام باغیوں پر عائد کیا ہے جس میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق اس حملے کا نشانہ یونیورسٹی کا شعبۂ فنِ تعمیر تھا۔
شام کے دارالحکومت دمشق میں آج کل باغیوں اور حکومتی افواج کے درمیان شدید لڑائی ہو رہی ہے اور حال ہی میں باغیوں نے مارٹر گولوں کا استعمال زیادہ شروع کیا ہے۔
حکومت کے زیر انتظام چلنے والے الاخباریہ ٹی وی کے مطابق یونیورسٹی میں گرنے والے مارٹر گولے کینٹین پر گرے اور ٹی وی چینل نے اس جگہ کی ویڈیو بھی دکھائی جہاں مارٹر گولے گرے تھے۔
اس کے علاوہ ٹی وی چینل پر زخمیوں اور ڈاکٹروں کو دکھایا گیا جو ایک تباہ شدہ کینٹین میں لوگوں کی کی جانیں بچانے میں مصروف تھے اور فرش پر ٹوٹے ہوئے شیشے اور خون بکھرا ہوا ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سوموار کو دمشق کے مرکزی علاقے میں مارٹر گولوں کے حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اسی یونیورسٹی کے شعبۂ قانون کے قریب بھی کچھ گولے گرے تھے۔

اس کے علاوہ متضاد اطلاعات ہیں کہ ترکی کی جانب سے بعض شامی نقل مکانی کرنے والے افراد کو واپس منتقل کیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل بدھ کو پولیس اور نقل مکانی کرنے والے افراد کے درمیان ترکی میں جھڑپیں ہوئیں جن کی وجہ ان نقل مکانی کرنے والے افراد کی جانب سے ان کے کیمپ میں حالات پر احتجاج بتایا گیا ہے۔
استنبول سے بی بی سی کے جیمز رینلڈز کے مطابق پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔
ترک خبر رساں ادارے دگان کے مطابق کئی سو افراد کو مہاجر کیمپ سے واپس شام میں منتقل کر دیا گیا ہے جن پر اس کشیدگی کو شروع کرنے کا الزام ہے۔
ترک وزارتِ خارجہ نے اس بات کی تردید کی اور ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پچاس سے ساٹھ افراد نے کیمپ چھوڑ کر شام واپس جانے کی درخواست کی جس پر انہیں اجازت دے دی گئی۔







