شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے شام میں باغیوں کی جانب سے مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لئے سویڈن سے تعلق رکھنے والے سائنسدان کا نام تجویز کیا ہے جو تحقیقحاتی ٹیم کے سربراہ کے طور پر اس میں شامل ہوں گے۔
ان سائسدان کا نام ہے ایکے سیلسٹورم جو انیس سو نوے میں عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش اور تلف کرنے کے لیے اقوام متحدہ ک جانب سے مقرر کیے گئے معائنہ کار کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔
سیکرٹری جنرل بان گی مون نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے کسی ایک کے شہری کو بھی اس تفتیش میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
شام کی حکومت اور باغیوں نے ایک دوسرے پر الزام لگایا ہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں حلب شہر کے قریب ایک گاؤں میں زہریلی گیس پرمشتمل راکٹ داغے گئے تھے۔
انیس مارچ کو شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ راکٹ باغیوں نے داغے اور شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ثناء نیوز کے مطابق صوبہ حلب کے علاقے خان ال اصل میں شدت پسندوں نے ان ہتھیاروں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں پندرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں بتایا گیا تھا کہ زیادہ تر عام شہری شامل تھے۔
شامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شدت پسندوں نے ایک میزائل استعمال کیا جس میں کیمیائی مواد شامل تھا۔
چونکہ اس معاملے کی آزاد زرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اس لیے اقوام متحدہ کے اس مشن کی تشکیل سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان ہتھیاروں کے استعمال کرنے والوں اور اس کے اثرات کے بارے میں پتہ چل سکے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







