
السنسوئی گزشتہ برس کرنل قذافی کے خلاف بغاوت کے بعد ملک سے فرار ہو گئے تھے۔
موریطانیہ کے سرکاری میڈیا کے مطابق موریطانیہ نے لیبیا کے سابق انٹیلی جنس چیف عبداللہ السینوسی کو لیبیائی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
لیبیا کرنل قذافی کے دورِ حکومت میں ہونے والے مبینہ جرائم کے لیے عبداللہ السینوسی پر مقدمہ چلانا چاہتا ہے۔ عبداللہ السینوسی کرنل قذافی کے داہنے ہاتھ تصور کیے جاتے تھے جبکہ وہ فرانس اور جرائم کی بین لاالقوامی عدالت کو بھی مطلوب تھے۔
اس سے قبل موریطانیہ نے کہا تھا کہ حوالگی سے پہلے عبداللہ السینوسی موریطانیہ میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کے مقدمے کا سامنا کریں۔
عبداللہ السینوسی لیبیا کے سابق حکمران کرنل قدافی کے انتہائی قریبی اور قابلِ اعتماد ساتھی اور رشتے دار بھی تھے۔
عبداللہ السینوسی قدافی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد لیبیا سے فرار ہو گئے تھے۔ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے مقدمات میں مطلوب ہیں۔
موریطانیہ پہنچنے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
السینوسی کو لیبیا کے حوالے کرنے کی خبریں موریطانیہ کے سرکاری ٹی وی اور اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرکاری ذرائع نے سابق لیبائی انٹیلی جنس چیف کی حوالگی کی تصدیق کی ہے۔
خبروں کے مطابق عبداللہ السینوسی کو لیبیا کے سرکاری وفد کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اب وہ کہاں ہیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔






























