’لیبیا میں سیف الاسلام کو انصاف ملنا ناممکن‘

،تصویر کا ذریعہReuters
لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کی وکیل میلنڈا ٹیلر نے لیبیا میں چار ہفتے کی حراست سے رہائی کے بعد کہا ہے کہ ان کے مؤکل کو لیبیا میں انصاف ملنے کو کوئی امید نہیں ہے۔
آسٹریلیا سےتعلق رکھنے والی بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی وکیل میلنڈا ٹیلر کو لیبیا کی انتظامیہ نے اس وقت گرفتار کر لیا تھا جب وہ آئی سی سی کے تین دوسرے اہلکاروں کے ہمراہ زنتان میں مقید سیف الاسلام سے ملنےگئی تھی۔
رہائی پانے کے بعد وکیل میلنڈا ٹیلر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کو لیبیا میں انصاف ملنا ناممکن ہو چکا ہے۔
سیف الاسلام کرنل قذافی کے وہ بیٹے ہیں جو سب سے زیادہ خبروں میں رہتے تھے اور آئی سی سی نے ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
آئی سی سی سیف الاسلام قذافی پر مقدمہ چلانے کے لیے انہیں ہیگ منتقل کرنا چاہتی ہے جبکہ لیبیا کی عبوری انتظامیہ ان کا مقدمہ لیبیا میں ہی چلانے پر اصرار کر رہی ہے۔
وکیل میلنڈا ٹیلر نے کہا ہے کہ ان کی لیبیا میں سرگرمیاں آئی سی سی کے رولز سے مطابقت رکھتی تھیں اور انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ اپنے مؤکل کے حقوق کی خاطر کیا۔
وکیل میلنڈا ٹیلر اور آئی سی سی کے تین دوسرے اہلکاروں نے جب سیف الاسلام سے ملاقات کی تھی تو لیبیا کی عبوری انتظامیہ انہیں گرفتار کر کے ان پر جاسوسی کا الزام عائد کیا تھا۔
وکیل میلنڈا ٹیلر اور آئی سی سی کے دوسرے تین اہلکاروں کو تیس جولائی کو طرابلس کی ایک عدالت کے سامنے پیش ہونا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







