لیبیا میں مصراتہ میں ہنگامی صورتحال
اقوام متحدہ کے ہنگامی صورتحال کے لیے رابطۂ کار ویلری ایموس نے لیبیا کے شہر مصراتہ میں، جہاں کرنل معمر قذافی کے حامیوں اور مخالفین میں لڑائی ہو رہی ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری رسائی کا مطالبہ کیا۔
بیرونس ایموس نے کہا مصراتہ میں زخمیوں اور زندگی اور موت کی کشمکش میں پھنسے افراد کی دیکھ بھال کے لیے امدادای کارکنوں کو فوری طور پر شہر میں داخلے کی اجازت ملنی چاہیے۔
شہر کے باسیوں نے کہا کہ حکومت کی فوج ٹینکوں اور توپخانے کی مدد سے اتوار کو اندر گھس آئی تھی لیکن انہیں واپس دکھیل دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کہہ چکے ہیں کہ لیبیا میں لڑائی کا شہری بڑی تعداد میں نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کی حکومت نے اقوام متحدہ کی امدادی ٹیم کو طرابلس میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔
مصراتہ میں لڑائی

،تصویر کا ذریعہOther
اتوار کو لیبیا میں شدید لڑائی جاری رہی جہاں کرنل معمر قذافی کے مخالفین ان کی فوج کے حملوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ باغیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شدید لڑائی کے بعد زاویہ سے کرنل قذافی کی فوج کو نکال دیا ہے۔
اسی طرح ملک کے مشرق میں لیبیا کی فوج مصراتہ میں داخل ہو گئی تھی لیکن اسے بعد میں وہاں سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ ساحلی شہر بن جواد میں حکومتی فوج کی طرف سے بھاری گولہ باری کے نتیجے میں باغیوں نے پسپائی اختیار جو سنیچر کو شہر پر قابض ہو گئے تھے۔
کرنل قذافی کی ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کے دوران طرابلس ان کا گڑھ رہا ہے۔ باغیوں نے اس دوران ملک کے زیادہ تر مشرقی حصوں اور مغرب میں طرابلس کے قریب کچھ شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔
اتوار کو شدید ترین لڑائی کی اطلاعات طرابلس سے دو سو کلومیٹر دور مشرق میں مصراتہ سے ملیں جہاں ایک مقامی ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومتی فوج کی طرف سے شہر میں داخل ہو کر ٹینکوں اور توپخانے کی گولہ باری کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ حکومتی فوج نے مسلح اور غیر مسلح افراد کی تفریق کے بغیر حملہ کیا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ پانچ گھنٹے کی لڑائی کے بعد قذافی کے حامی پسپا ہونے پر مجبور ہوئے اور اس دوران کم سے کم اٹھارہ لوگ مارے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شہر کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ قذافی کی فوج کی پسپائی کے بعد شہر میں خوشی منائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی فوج کا ایک ٹینک بھی تباہ ہوا اور سولہ فوجی ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ فوجی پکڑے بھی گئے ہیں جن سے پیر کو پوچھ گچھ ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر قذافی کے فوجی واپس آئے تو وہ آخری گولی اور آخری سانس تک لڑیں گے۔ مصراتہ کی آبادی تین لاکھ ہے اور یہ باغیوں کے قبٰضے میں ملک کے مشرقی حصوں کے باہر سب سے بڑا شہر ہے۔
دریں اثناء باغیوں نے کہا کہ وہ حکومتی فوج کےحملے کے بعد بن جواد سے پسپاء ہونے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ان پر سڑک کے کناروں سے بم پھینکے گئے اور فائرنگ کی گئی۔ حکومتی فوج کی طرف سے حملوں میں شدت کے ساتھ ساتھ باغیوں کو اب تیل کی کمی کا بھی سامنا ہے۔
برطانوی ٹیم رہا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
برطانیہ کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ مشرقی لیبیا میں دو روز پہلے حراست میں لی گئی برطانوی سفارتی ٹیم کو رہا کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق رہا ہونے کے بعد سفارتی ٹیم بن غازی سے روانہ ہو گئی ہے اور برطانوی بحریہ کی جنگی کشتی ایچ ایم ایس کمبرلینڈ میں سوار ہو گئی ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ ایک برطانوی سفارت کار جو حکومت مخالف رہنماؤں سے رابطے کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ چھ برطانوی کمانڈوز بھی تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سفارتی ٹیم کو جمعہ کے دن اس وقت حزب مخالف نے حراست میں لے لیا جب وہ ایک ہیلی کاپٹر میں بن غازی کے نزدیک ایک جگہ پر پہنچے تھے۔
ان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جو لیبیا کے سکیورٹی گارڈز کے معلوم ہوا کہ ان کے پاس، ہتھیار، اسلحہ، دھماکہ خیز مواد، نقشے اور کم از کم چار مختلف شہریت کے پاسپورٹ تھے۔
برطانوی سکیرٹری خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی ٹیم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم اب اس کو اطمینان بخش طریقے سے حل کر لیا گیا ہے۔
اس سے پہلے برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے مطابق آٹھ برطانوی کمانڈوز سادہ لباس میں ملبوس تھے لیکن ان کے پاس اسلحہ تھا۔ یہ کمانڈوز ایک برطانوی سفارتکار کے ساتھ مشرقی لیبیا میں حکومت مخالف رہنماؤں سے ملاقات کے لیے گئے تھے۔
جنیوا کی ہیومن رائٹس سالیڈیریٹی گروپ نے کہا تھا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ کمانڈوز کو حکومت مخالف لوگوں نے حراست میں لے لیا ہے لیکن ان کو اس بات کا معلوم نہیں کہ یہ کمانڈوز کس ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس سے قبل برطانوی وزارتِ داخلہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ سکاٹ لینڈ کی فوجیں لیبیا سے انخلاء کے آپریشن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔
دریں اثناء ہالینڈ کے سپیشل فورسز کے دستے کو لیبیا کی فوج نے مغربی لیبیا میں میں اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ ہالینڈ کے شہریوں کے انخلاء کے آپریشن میں شامل تھے۔
سلامتی کونسل کو خط

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں لیبیا کے وزیر خارجہ موسٰی قوسی نے کہا ہے کہ نہتے مظاہرین پر طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا البتہ ملک میں افراتفری پھیلانے والے عناصر کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس خط میں اقوام متحدہ سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ان ممالک کے خلاف کھڑی ہو جو لیبیا کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کی بات کر رہے ہیں۔
لیبیا نے سابق وزیرِ خارجہ علی عبدالسلام ترکی کو اقوام متحدہ میں اپنا نیا سفیر بھی مقرر کیا ہے۔ لیبیا کے اقوام متحدہ میں سفیر عبدالرحمان شاہغلام نے لیبیا میں مظاہرین کے خلاف مبینہ عسکری قوت کے استعمال پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ نئے سفیر کو نیویارک جانے کا ویزا جاری کرے گا یا نہیں۔
اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق لیبیا میں ہونے والی لڑائی میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ یو این ایچ سی آر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان حالات سے تنگ آ کر تیونس جانے والے افراد کی راہ میں حکومتی مسلح افواج حائل ہیں۔
ادارے کے مطابق لیبیا سے باہر نکلنے والے افراد کی تعداد میں اچانک کمی کی وجہ بھی یہی ہے۔ ہفتۂ رواں کے آغاز پر لیبیا سے کم از کم دس ہزار افراد باہر جا رہے تھے اور جمعرات کو اچانک یہ تعداد کم ہو کر دو ہزار رہ گئی تھی۔







