’لیبیا کو نقصان پہنچانے والوں کی سزا موت ہے‘

کرنل قذافی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکرنل قذافی نے کہا کہ ملک نہیں چھوڑیں گے

لیبیا کے صدر کرنل قدافی نے مظاہرین کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افراد لیبیا کو ایک اور افغانستان بنانا چاہتے ہیں جہاں بالآخر امریکہ قابض ہو جائے۔

لیبیا کے سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عوام ان افراد کو گرفتار کر کے غیر مسلح کر دیں۔

انہوں نے کہا: ’میں معمر قذافی، میں ایک بین الاقوامی لیڈر ہوں، لاکھوں لوگ میرا دفاع کرتے ہیں۔ میں صحرائے صحارا کے لاکھوں لوگوں کو بلاؤں گا اور ہم مارچ کریں گے۔ میں اور وہ تمام لاکھوں لوگ۔ تاکہ لیبیا کے ایک ایک انچ حصے، ایک ایک گھر کی صفائی کی جائے، اس وقت تک جب تک کہ پورا ملک اس گندگی اور غلاظت سے پاک نہیں ہوجاتا۔‘

مظاہرے کرنے والوں کو بزدل اور غدار قرار دیتے ہوئے کرنل قدافی نے کہا ہے کہ یہ افراد لیبیا کو انتشار کے شکار ملک کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے خطاب کے دوران لیبیا میں قانون کا درجہ رکھنے والی خود ان کی تصنیف کردہ گرین بک اپنے ہاتھ میں اٹھا رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ لیبیا کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ان کی سزا موت ہے۔

انہوں نے نسبتاً جذباتی لہجے میں کہا کہ لیبیا میں اختیارات عوام کے پاس ہیں نا کہ ان کے پاس۔

کرنل قذافی نے کہا کہ وہ دوسرے عرب رہنماؤں کی طرح استعفی نہیں دیں گے اسلیے کہ وہ ملک کے صدر نہیں ہیں بلکہ ان کے بقول وہ ایک انقلابی رہنما ہیں اور انقلاب کا مطلب آخر دم تک قربانی دینا ہوتا ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں حکومت مخالف مظاہرین پر تشدد کی مذمت کرنے والے مغربی ملکوں خاص کر امریکہ اور برطانیہ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ لیبیا کو غیرمستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

’کیا آپ چاہتے ہیں کہ امریکہ آئے اور آپ پر قبضہ کر لے جس طرح اس نے افغانستان، صومالیہ اور پاکستان میں کیا۔ کیا آپ یہی چاہتے ہیں؟ ہمارے ملک کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو افغانستان کے ساتھ ہوا ہے۔ کیا یہی آپ چاہتے ہیں؟ اگر یہ نہیں چاہتے تو سڑکوں پر جائیں، ان کا پیچھا کریں اور انہیں غیرمسلح کریں۔‘

کرنل قذافی نے کہا کہ جو کوئی بھی ملک کی یکجہتی کے ساتھ کھیلے گا اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں انہوں نے روس کے سابق صدر بورس یلسن کی جانب سے حکومت مخالف ارکان پارلیمینٹ اور چین کے تیانن من سکوائر میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا: ’یلسن نے ٹینکوں کو حکم دیا اور پارلیمینٹ کو اڑوا دیا جبکہ پارلیمینٹ کے ممبرز اندر ہی تھے اور وہ چوہوں کی طرح بھاگے۔ اور مغرب نے اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا بلکہ کہا کہ یہ کارروائی جائز تھی کیونکہ پارلیمینٹ کا اجلاس اندرونی بغاوت تھا۔ لیکن یاد رہے کہ پارلیمنٹ کے ارکان نہتے تھے اور ان کے پاس ہتھیار نہیں تھے۔ اسی طرح جب بیجنگ کے تیانن مین سکوائر میں طلبہ نے دھرنا دیا تو چینی صدر کے حکم پر فوجی توپوں نے انہیں تباہ کر دیا۔ اور ایسا اس لیے ہوا کہ روس اور چین کی سالمیت مٹھی بھر مظاہرین سے زیادہ قیمتی تھی۔‘