لیبیا: ہلالِ احمر پر حملہ، سرگرمیاں معطل

لیبیا کے ساحلی شہر مسراتہ میں عالمی ہلالِ احمر کی ایک رہائشی عمارت پر نامعلوم حملہ آوروں نے حملہ کیا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ حملہ گرینڈوں اور راکٹوں کی مدد سے کیا گیا اور اس میں شدید نقصان ہوا ہے۔
تنظیم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے بعد اب وہ مسراتہ اور بن غازی میں اپنی سرگرمیاں معطل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
ان شہروں میں گزشتہ تین ماہ میں یہ پانچواں حملہ تھا۔
عالمی ہلالِ احمر کے لیبیل میں سربراہ اشفاق محمد خان کا کہنا تھا ’ہم اس تازہ ترین حملے اور اپنے اہلکاروں کے نشانہ بنائے جانے پر انتہائی غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان لوگوں (ہلالِ احمر کے اہلکاروں) نے کشیدگی کے دوران اور اس کے بعد بھی لیبیائی قوم کی خدمت کرنے کے لیے اپنی جانیں پر خطرے میں ڈالی ہیں‘۔
حملے کے وقت تنظیم کے سات اہلکار عمارت میں موجود تھے مگر کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔
تنظیم کے اہلکاروں کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایک ماہ قبل لیبیا میں سابق حکمران معمر قدافی کی ہلاکت کے بعد پہلے قومی انتخابات کا انعقاد ہوا تھا تاہم وقتاً فوقتاً علاقائی اور سماجی تناؤ کی وجہ سے کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔ انتخابات میں روشن خیال سیاسی اتحاد نے اکثریت حاصل کر لی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیبیا کے سابق عبوری وزیر اعظم کی فیادت والے نیشنل فورسز اتحاد نے قومی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کے لیے مختص اسی میں سے انتالیس سیٹوں پر فتح حاصل کی جبکہ اخوان المسلمین سترہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
دو سو سیاسی نشستوں پر مشتمل قومی اسمبلی میں کئی درجن آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے۔







