
یہ حملہ اس وقت پیش آیا جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد عید الفطر کے موقع پر عید کی نماز پڑھنے کی تیاری کر رہی تھی
اطلاعات کے مطابق لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں دو بم دھماکوں میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایک بم دھماکہ وزارتِ داخلہ کی عمارت کے قریب جبکہ دوسرا فوج کے خواتین کے لیے سابقہ تربیتی دفاتر کے پاس ہوا۔ ہلاک ہونے والے دونوں افراد وزارتِ داخلہ کی عمارت کے قریب ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہوئے۔ دوسرے دھماکے سے ہونے والے جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ملیں۔
امدادی عملہ فوراً جائے وقوع پر پہنچ گیا اور علاقوں کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
گزشتہ سال معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد لیبیا میں یہ پہلا جان لیوا بم حملہ تھا۔
طرابلس میں حفاظتی انتظامات کے سربراہ نے ان حملوں کی ذمہ داری سابق حکمران کرنل قدافی کے حمایتیوں پر ڈال دی ہے اور ان کے مطابق دو ہلاکتوں کے علاوہ چاد یا پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قذافی حمایتیوں کو مالی امداد ہمسایہ ملک کے ذریعے بھیجی جا رہی ہے۔
یہ حملہ اس وقت پیش آیا جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد عید الفطر کے موقع پر عید کی نماز پڑھنے کی تیاری کر رہی تھی۔
اس ماہ کے آغاز میں لیبیا میں اقتدار کی منتقلی کے لیے بنائی گئی عبوری کونسل نے پہلی بار لیبیا میں ایک منتخب حکومت کو اقتدار سونپا۔
تاہم حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج دہشت گردی کاخاتمہ ہے۔ مشرقی شہر بن غازی میں گزشتہ کئی ماہ میں بہت سے حملے ہوئے ہیں۔
البتہ حکومت ان حملوں کی ذمہ داری قذافی کے حمایتی گروہوں پر سونپتی ہے تاہم سیکورٹی فورسز بھی مسلح گروہوں کے خلاف نتیجہ خیز کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہیں۔






























