
لیبیا میں گزشتہ سال کی بغاوت کے نتیجے میں وجود میں آنے والی قومی عبوری کونسل کو ختم کر دیا گیا ہے
لیبیا میں قومی عبوری کونسل نے ملک کا نظم و نسق نو منتخب اسمبلی کے حوالے کر دیا ہے۔
لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے دارالحکومت طرابلس میں بدھ کو ہونے والی ایک تقریب میں قانون ساز ادارے کے سب سے معمر رکن محمد علی سلیم کو انتقال اقتدار کی دستاویزات پیش کیں۔
عبدالجلیل نے لیبیا کی قومی عبوری کونسل کی جانب سے ملک میں سکیورٹی قائم کرنے پر ناکامی کو تسلیم کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ کونسل نے غیر معمولی حالات میں حکومت کی۔
انتقال اقتدار کے بعد لیبیا میں گزشتہ سال کی بغاوت کے نتیجے میں وجود میں آنے والی قومی عبوری کونسل کو ختم کر دیا گیا ہے۔
طرابلس میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار رعنا جواد کا کہنا ہے کہ اگرچہ دارالحکومت میں سکوت ہے تاہم لیبیا کے دیگر شہروں میں لڑائی جاری ہے اور کئی مقامات پر عسکریت پسند کافی مضبوط ہیں۔
واضح رہے کہ دو سو ارکان پر مشتمل اسمبلی بعد ازاں ایک حکومت تشکیل دے گی جو ملک میں نئے انتخابات تک اپنا کام کرے گی۔
اس اسمبلی کو سات جولائی کو منتخب کیا گیا تھا اور یہ آزاد امیدواروں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کا مجموعہ ہے۔
لیبیا میں کرنل قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد منعقد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں روشن خیال گروپ نیشنل فورسز الائنس اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔
لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی سنہ انیس سو انہتر میں اقتدار آئے تھے اور انہوں نے تقربیاً چالیس برس تک لیبیا پر حکومت کی۔ گزشتہ برس کئی ماہ کی خانہ جنگی کے بعد انہیں مخالفین نے لڑائی کے دوران گرفتار کرکے قتل کردیا تھا۔






























