لیبیا: روشن خیال اتحاد کو اکثریت حاصل

لیبیا میں ووٹنگ کی ایک فوٹو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلیبیا میں ہونے اولے انتخابات میں تین ہزار سے زیادہ امیدوار نے حصہ لیا تھا

لیبیا میں سینتالیس برس کے بعد منعقد ہونے والے عام انتخابات کے نتائج میں روشن خیال سیاسی اتحاد نے اکثریت حاصل کر لی ہے۔

لیبیا کے سابق عبوری وزیر اعظم کی فیادت والے نیشنل فورسز اتحاد نے قومی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کے لیے مختص اسی میں سے انتالیس سیٹوں پر فتح حاصل کی ہے۔

اخوان المسلمین سترہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

دو سو سیاسی نشستوں پر مشتمل قومی اسمبلی میں کئی درجن آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اسمبلی میں کس پارٹی کو اکثریت حاصل ہو گی۔

طرابلس میں بی بی سی کی نامہ نگار رانا جواد کا کہنا ہے کہ ابھی دیکھنا باقی ہے کہ ان انتخابات کے بعد اسمبلی میں کسی پارٹی کو اکثریت حاصل ہوگی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح ساٹھ فیصد رہی ہے۔

ابتدائی رجحانات سے یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ طرابلس اور بن غازی جیسے کلیدی انتخابی حلقوں میں سیکولر اتحاد نے سبقت حاصل کر رکھی تھی۔

انتخابات میں فتح حاصل کرنی والی دیگر پارٹیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اخوان المسلمین سے رابط رکھنے والی جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی کا کہنا تھا کہ اس نے ان سیٹوں پر سبقت حاصل کی ہے جو آزاد پارٹیوں کے لیے مختص تھیں۔

لیبیا کے موجودہ عبوری وزیر اعظم عبدالرحیم الکیب نے کہا ہے کہ انتخابات کے یہ نتائج ’خوشی منانے کا وقت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’لیبیا میں ہر شخص خوش ہے۔ اور ہم ان اتحادی اور دوستوں کے شکر گزار جنہوں نے ہمیں اس مقام تک لانے میں مدد کی۔‘

انتخابات کے نتائج کے خلاف اپیل کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت ہے۔

ان انتخابات میں سو سے زائد پارٹیوں نے حصہ لیا تھا۔ ان میں سے بیشتر پارٹیاں ایسی تھیں جو حال ہی میں وجود میں آئی تھیں۔

ان انتخابات میں تین ہزار سے زیادہ امیدواروں نے حصہ لیا اور چند واقعات کے علاوہ پولنگ مجموعی طور پر پرامن رہی۔

اس الیکشن کا مقصد ایک عبوری اسمبلی کا چناؤ تھا جس کا کام کابینہ اور وزیراعظم کا انتخاب ہوگا۔

یہ عبوری حکومت لیبیا کا نیا آئین بنانے کے لیے ریفرنڈم کی تیاری کرے گی۔

واضح رہے کہ لیبیا میں اس وقت پینتیس لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جن میں سے انتیس لاکھ افراد رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔

لیبیا میں یہ انیس سو پینسٹھ کے بعد سنیچر کو منعقد ہونے والے پہلے عام انتخابات تھے اور انیس سو پینسٹھ کے الیکشن میں بھی کسی سیاسی جماعت کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔