لیبیا:’فریقین حقوقِ انسانی کی پامالی کے ذمہ دار‘

’لیبیا میں حراستی مراکز میں قید افراد پر جنگجو گروہوں کی جانب سے تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’لیبیا میں حراستی مراکز میں قید افراد پر جنگجو گروہوں کی جانب سے تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں‘

لیبیا کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معمر قذافی کے خلاف ہونے والی عوامی بغاوت کے دوران دونوں جانب سے حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کے واقعات پیش آئے۔

اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرنل قذافی کی افواج بڑے پیمانے پر قتل، تشدد، جبری گمشدگیوں اور جنسی زیادتی جیسے واقعات کی ذمہ دار تھی۔

رپورٹ میں باغی افواج کو بھی ایسے ہی واقعات کا مرتکب ٹھہرایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات اب بھی رونما ہو رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے نے نیٹو پر بھی تنقید کی ہے کہ وہ ان فضائی حملوں کی ضروری تحقیقات میں ناکام رہی جن میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرنل قذافی کی افواج نے ’شہری آبادی پر منظم حملے‘ کیے۔

حقوقِ انسانی کونسل کی رپورٹ میں یہ بھی کہنا ہے کہ قذافی مخالف مسلح گروہوں نے بھی غیر قانونی طور پر لوگوں کی ہلاکت یا انہیں زیرِ حراست رکھنے، ان پر تشدد اور بلاامتیاز حملوں جیسے جنگی جرائم کیے ہیں۔

خیال رہے کہ حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی کہہ چکی ہے کہ لیبیا میں حراستی مراکز میں قید افراد پر جنگجو گروہوں کی جانب سے تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

معمر قذافی کو ان کے آبائی قصبے سرت سے پکڑا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمعمر قذافی کو ان کے آبائی قصبے سرت سے پکڑا گیا تھا

تنظیم کے مطابق اس نے طرابلس، مصراتہ اور دیگر شہروں میں ایسے مریض دیکھے ہیں جن کے سر، کمر اور دیگر اعضاء پر زخم موجود تھے۔

کونسل کے مطابق جہاں تک کرنل معمر قذافی کی ہلاکت کا معاملہ ہے، انہیں بارہا درخواستوں کے باوجود لیبیائی رہنما کی پوسٹ مارٹم رپورٹ تک رسائی نہیں دی گئی۔

خیال رہے کہ کرنل قذافی کی ہلاکت سے متعلق جو فوٹیج ٹی وی پر دکھائی گئی تھی ان میں مشتعل باغیوں کا ایک ہجوم انہیں پکڑنے کے بعد تشدد کا نشانہ بناتا دکھائی دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ لیبیا میں نیٹو کی فضائی مہم میں اہداف ’انتہائی مخصوص‘ تھے لیکن اس دوران کچھ فضائی حملوں میں شہری بھی مارے گئے۔ ہلاک ہونے والے ان شہریوں کی تعداد ساٹھ تھی جبکہ پچپن زخمی ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو مواقع پر نیٹو کے بم ایسے مقامات پر گرے جہاں کمیٹی کسی عسکری ہدف کی موجودگی کی تصدیق نہیں کر پائی۔