لیبیا: خود مختاری کے خلاف مظاہرے

،تصویر کا ذریعہl
لیبیا کے دو بڑے شہروں میں ہزاروں افراد نے مشرقی علاقوں کے قبائلی رہنما کے خلاف احتجاج کیا ہے جنہوں نے گزشتہ ہفتے نیم خودمختاری کا اعلان کیا تھا۔
احتجاج کے شرکاء نے قومی اتحاد کے نعرے بلند کیے اور قبائلی رہنماء احمد زبیر السینوسی کی تصاویر پر جوتے برسائے جنہوں نے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔
یہ احتجاجی مظاہرے دارالحکومت طرابلس اور مشرقی شہر بن غازی میں نمازِ جمعہ کے بعد ہوئے۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زبیر السینوسی کا کہنا تھا کہ وہ قومی قیادت کے ساتھ، ملک کے مشرق میں ’سائرنکا‘ نامی نیم خودمختار علاقے کے قیام کے لیے بات چیت کرنے کو تیار تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ وفاقی نظام کے قیام کے لیے پر عزم اور مذاکرات کے لیے رضامند تھے۔
لیبیا کی نیشنل ٹرانزیشنل کونسل کے عبوری سربراہ مصطفٰی عبد الجلیل نے بدھ کو ٹی وی چینل پر نشر کیے گئے ایک خطاب میں مذاکرات کا مطالبہ کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ قومی یکجہتی کا پاس رکھا جائے گا، چاہے اس کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑے۔
طرابلس اور بن غازی میں مظاہروں سے پہلے جمعہ کے خطبات میں بتایا گیا کہ خودمختاری کے اقدامات ملک کو توڑ سکتے ہیں۔
طرابلس میں ’مارٹرز سکوائر‘ احتجاجی مظاہروں کا اہم مرکز تھا جہاں لوگوں نے لیبیا کی یکجہتی کے حق میں نعرے لگائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگاروں کے مطابق عوام میں لیبیا کے سابق حکمران کرنل قذافی کا تختہ الٹے جانے کی بعد تبدیلی کے عمل کی آہستہ رفتار پر شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔







