مصر:’سویلین اور فوجی قیادت ملکر کام کرے‘

ریٹائر کیے جانے والے فیلڈ مارشل طنطاوی نے ہی جون کے اواخر میں محمد مرسی کو اقتدار سونپا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنریٹائر کیے جانے والے فیلڈ مارشل طنطاوی نے ہی جون کے اواخر میں محمد مرسی کو اقتدار سونپا تھا

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے ہی توقع تھی کہ مصر کی فوجی قیادت میں ردو بدل کیا جائے گا۔

امریکہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دو دن پہلے اتوار کو مصر میں صدر محمد مرسی نے فوج کے سربراہ اور وزیر دفاع فیلڈ مارشل حسین تنطاوی کو ریٹائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے مطابق ’ہم توقع کر رہے تھے کے صدر مرسی کسی موقع پر فوجی قیادت میں ردو بدل کرتے ہوئے نئی ٹیم بنائیں گے۔‘

پینٹاگون کے ترجمان جارج لٹل کے مطابق امریکی حکومت اور امریکی محکمۂ دفاع آگے بڑھتے ہوئے مصر کی فوجی کونسل کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات جاری رکھنا چاہتا ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار کم گھاٹس کے مطابق اگرچہ صدر مرسی کے اقدامات نے مصبرین کو چونکا دیا ہے لیکن امریکہ نے کسی حیرانگی کا اظہار نہیں کیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مصر میں نئی دفاعی ٹیم ان افسران پر مشتمل ہے جنہوں نے امریکہ میں تربیت حاصل کر رکھی ہے اور پینٹاگون ان کو جانتا ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان جارج لٹل کے مطابق’ نئے وزیر دفاع کے بارے میں ہم جانتے ہیں اور وہ مصر کی فوج سے ہی منتخب ہوئے ہیں، ہمارا یقین ہے کہ ہم مضبوط شراکت داری قائم رکھیں گے جیسا کہ ہماری مصر کے ساتھ پہلے ہے۔‘

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ نے کہا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ مصر میں جمہوری تبدیلی کے اہداف کی جانب آگے بڑھتے ہوئے سویلین اور فوجی قیادت مل کر کام کرے۔

صدر مرسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل حسین طنطاوی کی برطرفی کا اقدام قومی مفاد میں اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان کا مقصد کسی فرد کو ہدف بنانا یا کسی خاص ادارے کو شرمندہ کرنا نہیں تھا۔

محمد مرسی کا کہنا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ ملک کی فوجی قیادت کو اپنے عسکری کردار پر توجہ دینے کا موقع فراہم کرے گا۔

صدر مرسی کے فیصلے کے حق میں ان کے حامیوں نے دارالحکومت میں مظاہرہ کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر مرسی کے فیصلے کے حق میں ان کے حامیوں نے دارالحکومت میں مظاہرہ کیا

صدر مرسی نے اتوار کو ایک صدارتی حکم کے ذریعے ملک کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل حسین طنطاوی اور ان کے نائب مصری فوج کے چیف آف سٹاف جنرل سمیع عنان کو ان کے عہدوں سے ریٹائر کر دیا تھا اور جنرل عبدالفتاح السيسي کو ملک کا نیا فوجی سربراہ اور وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا ہے۔

اس اعلان کے بعد ایک تقریر میں مصری صدر نے کہا کہ ’میں نے آج جو فیصلہ کیا اس کا مقصد مخصوص افراد کو نشانہ بنایا یا اداروں کو شرمندہ کرنا نہیں تھا اور نہ ہی میں آزادیاں سلب کرنا چاہتا ہوں‘۔

محمد مرسی جن کا تعلق اخوان المسلین سے ہے جون کے عام انتخابات میں صدر منتخب ہوئے تھے۔ اخوان المسلین اور مصری فوج کے تعلقات میں ابتدا سے ہی تناؤ رہا ہے۔

فیلڈ مارشل طنطاوی سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد مصر کے عبوری حکمران بنے تھے اور انہوں نے جون کے اواخر میں محمد مرسی کو اقتدار سونپا تھا۔

محمد مرسی کے صدر بننے سے پہلے فوج کی اعلیٰ کونسل نے صدر کے کئی اختیارات ختم کر دیے تھے ان میں فوج سے متعلقہ اختیارات، ان کے سربراہان کا تقرر یا ان کے عہدے کی معیاد میں اضافہ شامل ہیں۔