کرسمس کی’چکاچوند‘ پر پوپ کی تنقید

پوپ بینیڈكٹ نے عقیدت مندوں سے خطاب کرنے کے لیے متحرک پلیٹ فارم کا استعمال کیا
،تصویر کا کیپشنپوپ بینیڈكٹ نے عقیدت مندوں سے خطاب کرنے کے لیے متحرک پلیٹ فارم کا استعمال کیا

عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے کرسمس کے تجارتی رخ پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔

کرسمس کے موقع پر روم میں سینٹ پیٹرز بیسیلكا میں منعقدہ تقریب میں انہوں نے عیسائی عقیدت مندوں سے کہا کہ اس موقع کو سطحی نمود نمائش سے دور کر کے دیکھیں۔

پوپ نے عقیدت مندوں سے اپیل کی کہ وہ مسیح کی پیدائش کی کہانی پر ہی توجہ مرکوز کریں اور حقیقی لطف اور روشنی تلاش کریں۔

چوراسی سالہ پوپ بینیڈكٹ نے عقیدت مندوں سے خطاب کرنے کے لیے متحرک پلیٹ فارم کا استعمال کیا۔

پوپ نے پوری دنیا میں تشدد کے واقعات میں اضافے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے غربت کا شکار لوگوں کے لیے دعا کی۔

مذہبی پیشوا کچھ گھنٹے بعد کرسمس کے موقع پر اپنی سالانہ تقریر کرنے والے ہیں۔

اس دوران ، دنیا بھر سے ہزاروں کی تعداد میں عیسائی عقیدت مند کرسمس کے موقع پر غربِ اردن کے فلسطینی قصبے بیت اللحم میں اكٹھے ہیں۔ بیت اللحم کو حضرت عیسٰی کی جائے پیدائش مانا جاتا ہے۔

چوبیس اور پچیس دسمبر کی درمیانی شب کرسمس کے جشن کا آغاز بیت اللحم کے اس سترہ سو سال پرانے گرجا گھر چرچ آف نیٹویٹی میں ’مڈ نائٹ ماس‘ سے ہوا جہاں عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیٰسی پیدا ہوئے تھے۔

اس موقع پر اس فلسطینی قصبے میں دنیا بھر سے آئے ایک لاکھ بیس ہزار سے بھی زیادہ لوگ موجود ہیں۔ سیاحوں کی تعداد اس سال تیس فیصد زیادہ رہی ہے۔

کرسمس کے موقع پر بیت المقدس سے بیت اللحم آئے کئی افراد نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی بحالی کی بھی دعا کی۔

فلسطین کے صدر محمود عباس بھی کرسمس کی تقریبات میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’میری خواہش ہے کہ فلسطینی عوام کے لیے آنے والا سال مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں قیامِ امن کا سال ہو‘۔