کچھ حالات میں کنڈوم کا استعمال جائز

پوپ ماضی میں ضبط تولید کے ہر طریقےکو غیر اخلاقی قرار دیتے رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنپوپ ماضی میں ضبط تولید کے ہر طریقےکو غیر اخلاقی قرار دیتے رہے ہیں

عیسائیوں کے رومن کیتھولک فرقے کے سربراہ پوپ بینیڈکٹ نے بعض حالات میں کنڈوم کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔

پوپ بینیڈکٹ کی جانب سے بعض حالات میں کنڈوم کے استعمال کو جائز قرار دیئے جانے کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے کیتھولک چرچ ضبط تولید کے کسی بھی طریقے کو غیر اخلاقی قرار دیتا آیا ہے۔

پوپ بینیڈکٹ نے کنڈوم کے استعمال کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اگر کوئی طوائف ایڈز کے مرض سے بچنے کی نیت سے کنڈوم کا استعمال کرے تو اس کا یہ عمل اخلاقیات کے دائرے میں آتا ہے۔

پوپ بینیڈکٹ نے ان خیالات کا اظہار ایک جرمن صحافی کو دیئےگئے کئی انٹرویوز میں کیا ہے۔ پوپ کے انٹرویوز پر مبنی کتاب منگل کے روز شائع ہو رہی ہے۔

پوپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا کیتھولک چرچ ضبطِ تولید کے ہر طریقے کا مخالف ہے تو پوپ نے جواب دیا:’یقیناً وہ (کیتھولک چرچ) اس کو حقیقی اور اخلاقی نہیں سمجھتا۔‘

پوپ نے کہا کہ ایسے حالات میں جہاں نیت بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا ہو تو کنڈوم کا استعمال ایک اچھے مقصد کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے۔

پوپ بینیڈکٹ نے کہا کہ ہر جنسی عمل کےدوران کنڈوم کے استعمال پر اصرار جنسی عمل کو بے توقیر کر بنا دیتا ہے۔’ایسا جنسی عمل محبت کے اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ ایسی دوا کا روپ دھار لیتا ہے جو انسان اپنے آپ کو کو دیتا رہتا ہے۔‘

ضبط تولید کے طریقوں کی مخالفت کی وجہ رومن کیتھولک چرچ پر تنقید ہوتی رہی ہے اور اس پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ ایڈز کے مرض پر قابو پانے کے راستے میں روکاٹ بن رہا ہے۔

پچھلے سال افریقی ملک کیمرون کے دورے کے دوران پوپ بینیڈکٹ نے ایڈز پر قابو پانے کے لیے کنڈوم کے استعمال کے جواز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کنڈوم کے استعمال سے نہ صرف صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں بلکہ اس کا استعمال ایڈز کے مرض کے پھیلاؤ کی ایک وجہ بن سکتی ہے۔