’سکیولرازم کی مزاحمت کرنی چاہیے‘

پوپ بینیڈکٹ نے پورے برطانیہ سے کہا ہے کہ ’سکیولرازم کی مزید جارحانہ شکلوں‘ کی مزاحمت کی جانی چاہیے۔ وہ برطانیہ پہنچنے کے بعد ایڈنبرا کے ہولی روڈ ہاؤس میں ملکہ کی جانب سے اپنے خیر مقدم کے بعد خطاب کر رہے تھے۔
اس سے قبل انھوں نے کہا کہ وہ اپنے دورے کے دوران پورے برطانیہ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔
پوپ اپنی مخصوص گاڑی میں جب شہر کے مرکزی حصے سے گزر رہے تھے تو ہزاروں لوگوں نے جھنڈیاں ہلاک کر ان کا استقبال کیا جب کہ کچھ لوگ احتجاج کرنے والے بھی موجود تھے۔
پوپ لندن آنے سے پہلے گلاسگو میں کھلے مقام پر عبادت کرائیں گے۔
عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ کا برطانیہ کا یہ دورہ اٹھائیس سال بعد ہو رہا ہے ان سے قبل پوپ جان پال دوم نے انیس سو بیاسی میں برطانیہ کا دورہ کیا تھا۔
ان کی آمد سے پہلے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ پوپ کے استقبال کے لیے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔
پوپ کے ایک رفیقِ کار نے اس دورے پر ان کے ساتھ نہیں آئے کہا تھا کہ برطانیہ کے ہیتھرو ہوائی اڈے پر اترتے ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کسی ’تیسری دنیا کے ملک‘ میں آ گئے ہوں۔
پوپ بینیڈکٹ یہ دورہ سرکاری دورہ ہے کیونکہ پوپ ملکہ برطانیہ کی دعوت پر برطانیہ آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ پوپ کا چار روزہ دورہ صرف ساٹھ لاکھ کیتھولکوں کے لیے ہی نہیں بلکہ برطانیہ کے تمام عیسائیوں کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
تاہم پوپ کا یہ دورہ متنازع بھی ہے کیونکہ چند لوگوں کا کہنا ہے کہ کیتھولک پادریوں نے ان کے ساتھ بچپن میں جنسی زیادتی کی تھی۔







