چین میں گوگل کی ’نئی ترکیب‘

گوگل
،تصویر کا کیپشنویب سنسرشپ پر چینی حکام اور گوگل میں اختلافات رہے ہیں

چین میں گوگل کے اپنے انٹرنیٹ لائسنس یعنی آئی سی پی کی مدت ختم ہونے سے ایک روز پہلے اس نے اپنی سائٹ سے متعلق ایک تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس سے کمپنی کو امید ہے کہ صارفین بھی خوش رہیں گے اور چینی حکام بھی۔

چین میں انٹرنیٹ کی سنسرشِپ اور دیگر ویب سائٹس پر پابندیوں کے حوالے سے گوگل کو کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

اب تک گوگل کے چین میں صارفین کو فوری اور خود ساختہ طور پر ہانگ کانگ کی گوگل سائٹ پر لے جایا جاتا تھا جس پر کسی قسم کی پابندیاں یا سنسرشپ نہیں ہے۔ لیکن اب گوگل کا کہنا ہے کہ اس عمل میں تبدیلی لائی جائے گی کیونکہ اس سے چینی حکام نا خوش تھے۔

تبدیلی یہ ہوگی کہ چینی صارفین کو گوگل ہانگ کانگ کی سائٹ پر لے جائے جانے کے بجائے انہیں ایک عبوری صفحہ یعنی ’لینڈنگ پیج‘ پر لے جایا جائے گا جہاں سے ان کے پاس ہانگ کانگ کی سائٹ پر جانے کا اختیار ہوگا لیکن اس کے لیے انہیں خود اس پیج پر کہیں بھی کلک کرنا ہوگا۔

چین کے قوانین کے مطابق تمام کمنیوں کو چین میں موجود ویب سرور استعمال کرنے ہوتے ہیں۔

گوگل نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ چینی حکام اس تبدیلی سے خوش ہونگے اور اب گوگل کے آئی سی پی لائسنس کے معاملے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔

تاہم بی بی سی کے ٹیکنولوجی کے نامہ نگار روری کیلین جونز کا کہنا ہے کہ یہ بات بالکل یقینی نہیں ہے کہ اس تبدلی کے بعد چینی حکام خوش ہوں یا لائسنس کی مدت بڑھا دیں۔

گوگل کے ترجمان نے کہا ہے کہ کمپنی نے چینی حکومت کو لائسنس کے لیے درخواست دے دی ہےاور اس درخواست میں نئی حکمت عملی کو بیان کیا گیا ہے۔ گوگل کا کہنا تھا کہ اس نے کچھ صارفین کے لیے عبوری صفحہ کا یہ آپشن سروع کر دیا ہے اور اگلے چند روز میں تمام صارفین کویہ مل جائے گا۔

گوگل کو چین میں حکام کے ساتھ کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ اس سال جنوری میں اس نے سنسر شپ اور ہیکِنگ کے ایک تنازعہ کے بعد کہا تھا کہ وہ شاید چین میں اپنی بزنس پوری طرح ختم کر دے۔ تنازع چین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کئی کارکنوں کے گوگل ای میل اکاؤنٹس کی ہیکنگ سے متعلق تھا۔ اس کے علاوہ گوگل اور دیگر امریکی کمپنیوں کے کمپیوٹر اور سائٹ پر حملے کیے گئے۔گوگل کا الزام تھا کہ ان سائبر حملوں کے ذمہ دار چینی حکام ہی تھے۔

چین سے نکلنے کی دھمکی کے باوجود گوگل نے چین میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور اس وقت سے صارفین کو ہانگ کے گوگل پیج پر ری ڈائریکٹ کرنا شروع کر دیا۔

چین میں اس وقت تقریباً تیس فیصد آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے اور خیال ہے کہ پانچ سا ل کے اندر پچاس فیصد آبادی کو انٹریٹ تک رسائی ہوگی۔ گوگل کو اندازہ ہے کہ چین سے نکلنے کا اسے بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ صرف ایک کلک کی تبدیلی سے چینی حکام مطمئن ہوتے ہیں یا نہیں۔