مشرقِ وسطٰی:ایٹمی اسلحہ سےپاک کرنے پرغور

جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے دستخط کنندگان مشرقِ وسطٰی کو جوہری اسلحہ سے پاک کرنے کے سلسلے میں کام کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

یہ ممالک اس معاملے پر گذشتہ دس برس سے اختلافِ رائے کا شکار تھےتاہم اب انہوں نے جوہری ہتھیاروں میں کمی کے ایک ایسے منصوبے کو منظور کرلیا ہے جس سے مشرقِ وسطٰی میں جوہری ہتھیاروں پر پابندی لگانے کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔

نیویارک میں این پی ٹی کے ارکان کے اجلاس کے بعد ایک سو نواسی رکن ممالک نے سنہ 2012 میں ایران سمیت مشرقِ وسطٰی کے دیگر ممالک کی عالمی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے جس میں علاقے کو ہتھیاروں سے پاک خطہ قرار دینے پر غور ہوگا۔

اس منصوبے کے تحت اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کر دے۔تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ منصوبے کی دستاویز میں اسرائیل کے تذکرہ سے اسرائیل 2012 میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے انکار بھی کر سکتا ہے۔

این پی ٹی کے ارکان کے اجلاس کے بعد اس اجلاس کے صدر فلپائنی رہنما لبران کیباکتولان نے کہا کہ ’ساری دنیا کی نظریں ہم پر لگی ہوئی ہیں۔ ایک سو اٹھارہ ترقی پذیر ممالک کی نان الائنڈ موومنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے مصر کے ماجد عبدالعزیز نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ این پی ٹی کے مقاصد کو حقیقت بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے‘۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عرب ممالک اسرائیل پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائے۔

این پی ٹی ممالک کا اجلاس ہر پانچ برس بعد ہوتا ہے اور سنہ 2005 میں ہونے والی کانفرنس میں رکن ممالک متفقہ اعلان کے مسودے پر بھی متفق نہیں ہو سکے تھے۔