رشی سونک برطانیہ کے نئے وزیر اعظم، پینی مورڈنٹ مقابلہ سے دستبردار

رشی سنک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ستمبر کے مہینے میں برطانیہ کا وزیراعظم بننے کے دوڑ میں شکست سے دو چار ہونے والے رشی سونک برطانیہ کے نئے وزیر اعظم ہوں گے۔ وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شامل دوسری امیدوار پینی مورڈنٹ مقابلے سے دستبردار ہو گئی ہیں۔

سابق وزیر اعظم بورس جانسن کے اس دوڑ سے باہر ہونے کے بعد نئے وزیر اعظم بننے کے لیے رشی سونک پسندیدہ ترین امیدوار تصور کیے جا رہے تھے۔

حمران جماعت کی جانب سے رشی سونک کے وزیراعظم نامزد ہونے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے پارٹی کے سینئئر رہنما اور 1991 کمیٹی کے چیئرمین سر گراہم بریڈی نے کا کہنا تھا کہ مقابلے میں شریک دونوں امیدواروں میں صرف ایک، یعنی رشی سونک پارٹی کے ایک سو سے زیادہ ارکان پارلیمان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

حتمی نامزدگی کے بعد اپنے پہلے مختصر بیان میں رشی سونک کا کہنا تھا کہ وہ پوری ’دیانت داری اور عاجزی‘ سے ملک کی خدمت کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ’برطانوی عوام کی خدمت کے لیے دن رات ایک کر دیں گے۔‘

نومنتخب وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ ایک عظیم ملک ہے، لیکن اسے ’شدید نوعیت کے‘ معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ انھوں نے اس موقع پر ملک میں استحکام اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔

اس سے قبل جب کنزرویٹو پارٹی کی سرہراہی کے لیے اپنا نام پیش کرنے کے مقررہ وقت (پیر دن دو بجے) سے چند منٹ پہلے پینی مورڈنٹ نے مقابلے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ ایک بیان میں ن کا کہنا تھا کہ چاہے ہم منتخب ارکان ہوں، پارٹی کے کارکن ہوں، پارٹی کے لیے فنڈز جمع کرنے والے لوگ ہوں یا جماعت کے عام حامی، ہم سب کے لیے اہم یہی ہے کہ ہمارا لیڈر کون ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے نئے وزیر اعظم کا انتخاب کر لیا ہے، یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے اور اس فیصلے سے ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہماری جماعت میں کتنا تنوع ہے اور یہ جماعت کتنی باصلاحیت ہے۔ رشی سونک کو میری مکمل حمایت حاصل ہے۔‘

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم بورس جانسن کے قیادت کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد کئی ارکانِ پارلیمان نے اپنی نامزدگیوں کو باقی دو امیدواروں میں تبدیل کرنا شروع کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اس سے قبل 375 ٹوری ایم پیز میں سے تقریباً 180 نے عوامی طور پر یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ کس کی حمایت کر رہے ہیں۔ رشی سونک کو 155 کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ پینی مورڈنٹ کو اعلانیہ طور پرصرف 25 ارکان کی حمایت حاصل ہو سکی۔

رشی سونک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرشی سونک

رشی سونک کون ہیں؟

رشی سُونک بورس جانسن کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے اور وہ مشہور کمپنی 'انفوسس' کے بانی این آر نارائن مورتی کے داماد ہیں۔ اُن کی اہلیہ اکشتا مورتی کا شمار برطانیہ کی امیر ترین خواتین میں ہوتا ہے۔رشی سُونک سنہ 2015 سے رچمنڈ، یارکشائر سے کنزرویٹو پاٹی کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ ان کے والد ایک ڈاکٹر اور والدہ فارماسسٹ تھیں۔ان کی تعلیم ایک پرائیویٹ سکول ونچسٹر کالج میں ہوئی جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ آکسفورڈ گئے تھے اور بعد میں سٹینفورڈ یونیورسٹی سے انھوں نے ایم بی اے کیا۔سیاست میں آنے سے پہلے انھوں نے سرمایہ کاری بینک 'گولڈمین سیکس' میں کام کیا۔

آئندہ چند دنوں میں جب وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے تو رشی سونک برطانیہ کے پہلے ایشیائی نژاد وزیراعظم بن جائیں گے۔

پارٹی کے سینئر رہنما سر گراہم بیلی کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ رشی سونک وزارت عظمیٰ کے واحد حتمی واحد ہیں، مسٹر رشی سونک نے اپنی جماعت کے ارکان پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دن مشکل ہوں گے اور ملک کو درپیش مسائل کا حل آسان نہیں ہوگا۔

پینی مورڈنٹ

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنپینی مورڈنٹ نے مقابلے سے دستبرداری کا اعلان آخری وقت میں کیا

نامزدگی کا وقت ختم ہونے سے قبل اگر پینی مورڈنٹ 100 ارکان پارلیمان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتیں تو رشی سونک اور ان کے درمیان مقابلہ کنزرویٹو پارٹی کے اراکین کے آن لائن بیلٹ تک جا سکتا تھا، لیکن بات وہاں تک نہیں گئی اور پینی موراں مقابلے سے دستبردار ہو گئیں۔

لِز ٹرس کے اچانک متسعفی ہونے سے پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال میں کنزرویٹو پارٹی کے اکثر ارکان نجی سطح پر یہ تسلیم کر رہے تھے کہ موجودہ صورت حال ان کی پارٹی کی ساکھ کو گہرا نقصان پہنچانے والی مضحکہ خیز سرکس کے مترادف ہے۔

مصبرین کا کہنا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کے جانب سے جو بھی منتخب ہوتا اسے ان ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جو لز ٹرس کو درپیش تھے، یعنی شدید طور پر منقسم پارٹی، بڑھتی ہوئی قیمتیں، سنگین عوامی مالی صورت حال اور اپوزیشن جماعتوں کا یہ کہنا کہ ان کے پاس حکومت کا کوئی جواز نہیں رہا ہے جیسے مسائل سامنے ہوں گے۔