رشی سونک: کیا انڈین نژاد شہری برطانیہ کے وزیراعظم بن کر نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, زبیر احمد
- عہدہ, بی بی سی نیوز، لندن
انڈین نژاد رشی سونک برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کی سربراہی حاصل کرنے اور ملک کا وزیر اعظم بننے کی دوڑ کے لیے درکار 100 ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے قریب ہیں۔
رشی سُونک برطانیہ کے وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں اور کنزرویٹو پارٹی کے اہم رہنما ہیں۔ رشی سونک کو اب تک ٹوری پارٹی کے 94 ارکان کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ تاہم ان کی انتخابی مہم سے منسلک ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ انھیں پہلے ہی 100 ارکان کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔
برطانوی وزیر اعظم بننے کی دوڑ میں سابق وزیر اعظم بورس جانسن 44 ارکان کی حمایت کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، اور وہ لز ٹرس کے مستعفی ہو جانے کے بعد اس انتخابی مقابلے میں حصہ لینے کے لیے کیریبین سے چھٹیوں سے واپس آ رہے ہیں۔
پینی مورڈانٹ وزیر اعظم کی انتخابی مہم کا اعلان کرنے والی پہلی امیدوار تھیں، جنھیں اب تک 21 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
برطانیہ کے وزیر تجارت سر جیمز ڈوڈرج جو بورس جانسن کی حمایت کر رہے ہیں، نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’وہ واپس آ رہے ہیں اور اس انتخابی مہم کے لیے تیار ہیں۔‘
اگرچہ ابھی تک نہ ہی رشی سونک نہ یا بورس جانسن نے برطانوی وزیر اعظم کی انتخابی مہم کا باضابطہ اعلان کیا ہے مگر اس دوران بھی ان کے حمایتوں نے اُن کے حق میں اپنی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم بورس جانسن، جو اس وقت ڈومینک ریبپلک میں چھٹیاں گزارنے گئے ہوئے ہیں،واپس آ رہے ہیں اور وہ سنیچر کی صبح لندن پہنچیں گے۔
ان کی فلائٹ میں موجود بی بی سی کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ چند مسافروں نے ان کے ساتھ تصاویر لینے کی کوشش کی مگر ان کی سکیورٹی ٹیم نے ان مسافروں کو ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ارکان اسمبلی اس انتظار میں ہیں کہ جب وہ واپس لندن پہنچتے ہیں تو کیا وہ وزیر اعظم کے لیے انتخابی دوڑ میں شمولیت کا اعلان کریں گے یا نہیں۔
دوسری طرف رشی سونک کی انتخابی مہم سے منسلک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں پہلے ہی 100 ارکان کی حمایت حاصل ہو چکی ہے اور انھیں بس اس حمایت کو بیلٹ پیپر پر ووٹوں میں بدلنے کی ضرورت ہے۔
رشی سونک کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رشی سونک ’انفوسس‘ کے بانی این آر نارائن مورتی کے داماد ہیں۔ اُن کی اہلیہ اکشتا مورتی برطانیہ کی امیر ترین خواتین کی فہرست میں شامل ہیں۔
سُونک بورس جانسن کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے اور سنہ 2015 سے رچمنڈ، یارکشائر سے کنزرویٹو ایم پی منتخب ہوئے۔ ان کے والد ایک ڈاکٹر اور والدہ فارماسسٹ تھیں۔
ان کی تعلیم ایک خصوصی پرائیویٹ سکول ونچسٹر کالج میں ہوئی جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ آکسفورڈ گئے تھے اور بعد میں سٹینفورڈ یونیورسٹی سے انھوں نے ایم بی اے کیا۔
سیاست میں آنے سے پہلے انھوں نے سرمایہ کاری بینک ’گولڈمین سیکس‘ میں کام کیا۔
کیا رشی سونک نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں؟
ایک وقت تھا جب انڈین نژاد لوگوں کو برطانیہ میں کئی طرح کے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تب یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ان میں سے کوئی شخص اس ملک کا وزیراعظم بننے کا خواب دیکھے گا۔
برطانیہ میں حزب اختلاف کی لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ وریندر شرما اب 75 سال کے ہو گئے ہیں۔ وہ 55 سال قبل انڈین پنجاب سے لندن آئے تھے۔
اپنے ابتدائی دنوں میں ہونے والے امتیازی سلوک کا ذکر کرتے ہوئے وریندر شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ ’1960 کی دہائی میں گھروں کے باہر لکھا ہوتا تھا کہ ’کرائے کے لیے دستیاب یہ گھر ایشیا سے تعلق رکھنے والوں اور سیاہ فاموں کے لیے نہیں ہے‘، اسی طرح کلبوں کے باہر لکھا ہوتا تھا کہ ’کتوں، آئرش، خانہ بدوشوں اور سیاہ فاموں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے‘۔
اسی طرح انگریز جب انڈیا کے لوگوں کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ ’یہ تو ہمارے غلام تھے، اب ہمارے ساتھ بیٹھے ہیں۔‘
لیکن اب برطانیہ میں وریندر شرما جیسے کئی انڈین نژاد رکن پارلیمان ہیں جبکہ کئی انڈین نژاد وزرا ہر کابینہ کا حصہ ہوتے ہیں۔
تو کیا یہ ممکن ہے کہ برطانیہ کا اگلا وزیر اعظم انڈین نژاد ہو؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے بی بی سی نے برطانوی معاشرے کی مختلف برادریوں اور برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی کے اراکین سے بات کی تھی۔ یہ گفتگو لگ بھگ دو ماہ قبل اس وقت ہوئی تھی جب جب رشی سونک لز ٹرس کے مدمقابل تھے تاہم وہ یہ مقابلہ ہار گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لندن سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر چیلٹن ہیم برطانیہ کی حکمران کنزرویٹو پارٹی کا گڑھ ہے۔ یہ بنیادی طور پر سفید فام لوگوں کا شہر ہے۔
شہر کی ایک نوجوان خاتون نے رشی سُونک کے وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ میں شامل ہونے پر کہا کہ ’معیشت کے لیے تو وہ بہتر ثابت ہوں گے کیونکہ وہ ایک ماہر معاشیات ہیں۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ اس لحاظ سے اُن کا کیس زیادہ مضبوط ہے۔‘
جبکہ ان کی ایک ساتھی نے کہا کہ ’ان کی پالیسیاں ان جیسے امیر لوگوں کے علاوہ کسی کی مدد نہیں کرتیں۔ اسی لیے میں ان میں سے کسی کی حمایت نہیں کرتی۔‘
میں نے ایک خاتون سے پوچھا، کیا برطانوی معاشرہ ایک غیر سفید فام وزیراعظم کے لیے تیار ہے؟ خاتون نے جواب دیا ’ذاتی طور پر میں اس کے بارے میں نہیں سوچتی لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں بالکل تیار ہوں۔ میرا جھکاؤ رشی کی جانب ہے۔‘
میں نے شہر کے بازار میں ایک آدمی سے پوچھا، کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہاں کا معاشرہ کسی براٰؤن نسل کے وزیر اعظم کے لیے تیار ہے، اس شخص نے کہا ’میں ضرور تیار ہوں، میں کسی اور کے بارے میں نہیں جانتا لیکن ہاں، میرا خیال ہے کہ یہ اچھا ہو گا۔‘

پاکستانی نژاد لوگوں کی حمایت
برمنگھم برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں کی آبادی میں تنوع نظر آتا ہے۔ شہر میں حال ہی میں دولت مشترکہ کھیلوں کی ثقافتی تقریبات میں اس تنوع کو محسوس کیا گیا۔
یہاں پاکستانی نژاد لوگوں کی بڑی تعداد ہے۔ کیا پاکستانی نژاد لوگ انڈین نژاد رشی سُونک کو وزیر اعظم بنانا پسند کریں گے؟
یہ بھی پڑھیے
جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلنے والے ایک شخص نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ اب پورا معاشرہ اتنا سمجھدار ہو گیا ہے کہ وہ قابلیت کو دیکھے گا، یہ نہیں دیکھے گا کہ اس آدمی کی نسل یا اس کا رنگ کیا ہے یا وہ کہاں سے آیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ رشی ایک قابل آدمی ہیں، اس لیے مجھے اُن پر یقین ہے کہ وہ ایک اچھے وزیر اعظم بھی بنیں گے۔‘
ایک اور شخص نے کہا ’میں سمجھتا ہوں کہ اقلیت ہونے کی وجہ سے، برطانیہ کے اگلے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر رشی ایک بہترین امیدوار ہیں۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر میرپور سے انگلینڈ میں آباد ایک اور شخص نے کہا ’میرے خیال میں رشی سُونک کو وزیر اعظم بننا چاہیے کیونکہ پچھلے کئی برسوں سے ہم نے دیکھا ہے کہ زیادہ تر سفید فام لوگ وزیر اعظم بنتے ہیں تو اب انڈین نژاد یا ایشیائی نژاد وزیر اعظم ہونا چاہیے، جس کی وجہ سے بھی کافی تبدیلی کی توقع ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPA Media
رشی سُونک ایک ہندو ہیں اور مذہبی طور طریقے بھی اپناتے ہیں۔ سنہ 2015 میں پہلی بار پارلیمانی انتخابات جیتنے کے بعد، انھوں نے بھگوت گیتا پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا تھا۔ انڈین نژاد لوگ اُن کی جیت کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔ لیکن کیا وہ واقعی وزیر اعظم بننے کے مضبوط دعویدار ہیں؟
رشی سُونک 12 مئی 1980 کو ساؤتھمپٹن شہر میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ ان کے والدین اب بھی اسی شہر میں رہتے ہیں، وہ اور ان کے خاندان کا ویدک سوسائٹی ’ہندو مندر‘ سے گہرا تعلق ہے۔
جب بی بی سی کی ٹیم اس مندر میں پہنچی تو ہماری ملاقات 75 سالہ نریش سون چاٹلا سے ہوئی۔ سون چاٹلا رشی سُونک کو بچپن سے جانتے ہیں۔
انھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ وہ وزیر اعظم بن جائیں گے۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو اس کی وجہ ان کی جلد کی رنگت ہو سکتی ہے۔‘
سنجے چندرانا اس مندر کے صدر ہیں۔ ان کے مطابق رشی کے ساتھ امتیازی سلوک کی کوئی امید نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’اس ملک میں دیکھا جاتا ہے کہ کس کی پالیسی اچھی ہے، کس کا رویہ درست ہے، کون اس ملک کو آگے لے کر جائے گا۔ رنگ یا نسل سے اتنا فرق نہیں پڑتا۔‘
بھلے ہی سماج میں رشی کی مقبولیت دیگر امیدواروں سے زیادہ دکھائی دے رہی ہے، لیکن جیت یا ہار کا فیصلہ ان کی پارٹی کے ارکان ہی کریں گے۔ کنزرویٹو پارٹی کی نوجوان نسل رشی کے حق میں نظر آتی ہے لیکن سینیئر ارکان رشی کے بارے میں مختلف خیالات رکھتے ہیں۔

پارٹی کے اندر کا ماحول
رشی سونک کو پارٹی کے متعدد سینیئر ارکان کی حمایت حاصل ہے، جن میں سابق چانسلر اور سیکریٹری صحت ساجد جاوید، وزیر سکیورٹی ٹام ٹوگینڈہت اور سابق سیکریٹری ہیلتھ میٹ ہینکوک شامل ہیں۔
سیکریٹری صحت ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ 'یہ بات پوری طرح سے واضح ہے کہ رشی سونک کے پاس قابلیت ہے جس کی ہمیں درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، وہ ہماری پارٹی کی قیادت کرنے اور ملک کو آگے لے جانے کے لیے صحیح شخص ہیں۔'
ان کے ایک اور حمایتی، ٹوبیاس ایل ووڈ نے کہا کہ وہ رشی سونک کی حمایت کرنے والے 100ویں رکن پارلیمنٹ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'اب ایک ایسی قابل اعتماد قیادت کے سامنے آنے کا وقت ہے جو ملکی و عالمی سطح پر اپنی ایک ساکھ رکھتی ہو اور مرکزیت کی نمائندہ، مستحکم، معاشی طور پر ذمہ دار حکومت بنا سکے۔‘
جبکہ برطانیہ کے وزیر تجارت سر جیمز ڈوڈرج اور بورس جانسن کے حامی کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس وہ واحد الیکشن ونر ہیں جن کا لندن، بریگزٹ کے معاملے پر، اور ہمیں ملنے والے مینڈیٹ کا ثابت شدہ ٹریک ریکارڈ ہے۔‘
دوسری جانب رشی کے کیمپ میں ہر طرف مثبت رویہ دیکھا جا رہا ہے۔ رچرڈ گراہم گلوسٹر حلقے سے کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ہیں اور رشی سُونک کے حامی ہیں۔

ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا لوگ رشی کے لیے تیار ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا ’میں تیار ہوں اور بہت سے دوسرے بھی۔ ان میں کنزرویٹو پارٹی کے زیادہ تر ارکاِن پارلیمنٹ شامل ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ ملک بھر میں ہمارے ممبران کی ایک بڑی تعداد تیار ہے۔ لیکن ہم اراکین کی رائے کا انتظار کریں گے۔ ہم سب رشی کو صحیح انتخاب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس مقابلے میں جیت کے لیے کسی کا رنگ کوئی کردار ادا کرے گا۔‘
رشی سُونک کی مہم ٹیم کے ایک رکن نے امتیازی سلوک کے معاملے پر کہا ’یہ سوچیں بھی نہیں کہ یہ ایک قابل بحث مسئلہ ہے۔ میرے خیال میں ہم جس پر بحث کر رہے ہیں وہ امیدواروں کی پالیسیاں ہیں۔‘
ٹیم کے ایک نوجوان رکن نے کہا ’مجھے نہیں لگتا کہ رشی کا پس منظر کوئی تشویش کا باعث ہو گا۔ عام طور پر لوگوں کو ان کے کام کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے نہ کہ ان کی نسل یا بیک گراؤنڈ کی بنیاد پر۔ کووڈ کے دوران رشی سُونک کی فرلو جیسی پالیسی نے لاکھوں لوگوں کو ان کی ملازمتوں میں قائم رکھا، لاکھوں چھوٹے کاروباروں کی مالی مدد کی اور معیشت کو ڈوبنے سے بچایا۔‘
انڈین نژاد ہونے کے نقصانات؟
بات چیت میں بہت سے دیگر امیدواروں کے حامی بھی موجود تھے، جن میں سے ایک نے کہا ’میرے خیال میں رشی ہم میں سے زیادہ تر سے کٹے ہوئے ہیں، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کا پس منظر کیا ہے؟ 2010 کے بعد سے اور گذشتہ پانچ برسوں میں میں واقعی بہت بدل چکا ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ مجھے اس وقت سیاہ فام یا کسی یا نسل سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
ہم نے مارسیا جیکو نامی ایک ریٹائرڈ خاتون ٹیچر سے پوچھا کہ کیا انھیں رشی سُونک کے وزیر اعظم بننے سے کوئی مسئلہ ہے؟

ان کا کہنا تھا ’اس سے تھوڑا سا فرق پڑتا ہے حالانکہ میرے شوہر یہاں برطانیہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ لیکن ووٹ دیتے ہوئے میں اس کا خیال رکھتی ہوں۔‘
اور پھر وہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اپنی پسند کو واضح کرتے ہوئے کہتی ہیں ’مجھے رشی پسند ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ بہت ہوشیار شخص ہیں لیکن میرے لیے اگلے وزیر اعظم نہیں ہیں۔‘











