برطانیہ کی نئی وزیر اعظم لز ٹرس جنھیں بچپن سے ہار پسند نہیں

،تصویر کا ذریعہReuters
لز ٹرس برطانیہ کی نئی وزیراعظم بن گئی ہیں۔ انھوں نے اپنے مخالف امیدوار رشی سونک کو شکست دی ہے۔ لز ٹرس نے 57 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
سات سال کی عمر میں لز ٹرس نے اپنے سکول کے فرضی عام انتخابات میں مارگریٹ تھیچر کا کردار ادا کیا تھا۔
لیکن مارگریٹ تھیچر کے برعکس، جنہوں نے سنہ 1983 میں بھاری اکثریت حاصل کی تھی، لز ٹرسٹ نے اس طرح اپنی کامیابی ثابت نہیں کی۔
کئی سال بعد اس موقع کو یاد کرتے ہوئے لز ٹرسٹ نے کہا تھا 'میں نے اُس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور ہسٹِنگز میں ایک شاندار تقریر کی لیکن مجھے ایک بھی ووٹ نہیں ملا یہاں تک کہ خود میں نے بھی اپنے آپ کو ووٹ نہیں دیا تھا'۔
اب 29 سال بعد، انہوں نے حقیقی طور پر آئرن لیڈی کی پیروی کرنے اور برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کی رہنما اور وزیر اعظم بننے کے موقع کو بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔
47 برس کی خارجہ سکریٹری نے سابق چانسلر (وزیر خزانہ) رشی سونک کو برسرِ اقتدار کنزرویٹو پارٹی کے اراکینِ پارلیمان کی ووٹنگ کے پانچوں دور میں پیچھے چھوڑ دیا۔
لز ٹرس کے کنزرویٹور پارٹی کے انتخابی حلقوں کی انجمنوں کے ساتھ مضبوط تعلقات رہے ہیں اور انہوں نے بورس جانسن کے دور کے تاریک ترین دنوں میں اُن کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کیا تھا۔
میری الزبتھ ٹرس کون ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر دیکھا جائے تو کئی معنوں میں لز روایتی ٹوری نہیں ہے۔ (ٹوری ۔ برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی کے اراکین کے لیے استعمال ہونے والی عام اصطلاح ہے۔)
میری الزبتھ ٹرس سنہ 1975 میں آکسفورڈ میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد ریاضی کے پروفیسر اور والدہ ایک نرس تھیں اور لز کے مطابق وہ 'بائیں بازو' نظریات کے حامی تھے۔
ایک نوجوان لڑکی کے طور پر اُن کی والدہ نے جوہری اسلحے کی تخفیف کی مہم کے لیے مارچز میں حصہ لیا تھا۔
جب لز ٹرس کی عمر چار سال تھی تب اُن کا خاندان گلاسگو کے بالکل مغرب میں واقع علاقے پیسلی منتقل ہو گیا۔
بی بی سی ریڈیو 4 سے بات کرتے ہوئے، اُن کے بھائی نے کہا کہ اُن کے گھر والوں کو بورڈ گیمز کھیلنے میں مزہ آتا تھا، لیکن لز ٹرس جب چھوٹی تھیں تو انہیں ہارنے سے نفرت تھی اور اگر اُنہیں لگتا کہ وہ ہار جائیں گی تو وہ کھیل چھوڑ کر چلی جاتی تھیں۔
کچھ عرصے بعد لز کا خاندان برطانوی شہر لیڈز منتقل ہو گیا۔ جہاں انہوں نے ایک سرکاری سکول راؤندھے میں تعلیم حاصل کی۔
سکول کی تعلیم کے بعد لز ٹرس نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں انہوں نے فلسفہ، سیاست اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی اور طالب علمی کے دور سے ہی سیاست میں سرگرم رہیں، ابتدا میں وہ برطانوی سیاسی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کے لیے سرگرم تھیں۔
سنہ 1994 میں لبرل ڈیموکریٹس کی جانب سے منعقد کی گئی کانفرنس میں اُنہوں نے بادشاہت کے نظام کے خاتمے کے حق میں بات کی، برائٹن میں ہونے والی اس کانفرنس میں انہوں نے مندوبین سے کہا: 'ہم لبرل ڈیموکریٹس سب کو موقع دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم یہ نہیں مانتے کہ کچھ لوگ حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔‘
برطانوی پارلیمان ویسٹ منسٹر کے لیے اُن کے عزائم
آکسفورڈ میں لز ٹرس کنزرویٹو پارٹی کی جانب راغب ہو گئیں۔
فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے شیل اور کیبل اینڈ وائرلیس کے لیے اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کیا، اور سنہ 2000 میں اپنے ساتھ کام کرنے والے اکاؤنٹنٹ ہیو اولیری سے شادی کی۔ اُن کے دو بچے ہیں۔
لز ٹرس سنہ 2001 کے عام انتخابات میں ہیمس ورتھ، ویسٹ یارکشائر کے لیے ٹوری امیدوار کے طور پر کھڑی ہوئیں، لیکن ہار گئیں، اُنہیں سنہ 2005 میں ویسٹ یارکشائر میں بھی کالڈر ویلی میں ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن اس ناکامی نے اُن کے سیاسی عزائم کو ختم نہیں کیا۔ وہ سنہ 2006 میں جنوب مشرقی لندن کے گرینّچ علاقے میں کونسلر کے طور پر منتخب ہوئیں، اور 2008 سے رائٹ آف سینٹر ریفارم تھنک ٹینک کے لیے کام کیا۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
سنہ 2010 میں لز رکن پارلیمان منتخب ہوئیں۔
کنزرویٹیو رہنما ڈیوڈ کیمرون نے لز ٹرس کو 2010 کے انتخابات کے لیے ترجیحی امیدواروں کی 'اے-لسٹ' میں شامل کیا اور انہیں جنوب مغربی نورفولک کی محفوظ نشست کے لیے منتخب کیا گیا۔
لیکن انھیں حلقے کی ٹوری ایسوسی ایشن کی جانب سے اس وقت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جب یہ انکشاف ہوا کہ کچھ سال پہلے ایک ٹوری ایم پی مارک فیلڈ کے ساتھ ان کا معاشقہ تھا۔
تاہم انہیں ہٹانے کی کوشش ناکام ہو گئی اور ٹرس نے 13 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے اس نشت پر کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے سنہ 2010 میں منتخب ہونے والے چار دیگر کنزرویٹو اراکینِ پارلیمان کے ساتھ مل کر ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا ' برطانیہ انچینڈ '۔جس میں دنیا میں برطانیہ کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ریاستی ضابطوں کو واپس ہٹانے کی سفارش کی گئی، جس کے بعد انہیں ٹوری حلقوں میں آزاد منڈی کی پالیسیوں کی ایک ممتاز وکیل کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
انھیں 'برطانیہ انچینڈ' میں ایک تبصرے کے بارے میں چیلنج کیا گیا، جس میں برطانوی مزدوروں کو 'دنیا کے بدترین کاہلوں میں سے ایک' کے طور پر بیان کیا گیا۔ تاہم اُن کا اصرار تھا کہ اُنھوں نے یہ الفاظ نہیں لکھے تھے۔
سنہ 2012 میں، برطانوی پارلیمان کی رکن بننے کے صرف دو سال بعد، وہ بطور وزیر تعلیم کابینہ کا حصہ بنیں اور سنہ 2014 میں وہ سیکرٹری برائے ماحولیات بن گئیں۔
سنہ 2015 کی کنزرویٹو کانفرنس میں کی جانے والے ایک تقریر پر لز ٹرس کا مذاق اڑایا گیا تھا جس میں انہوں نے جذباتی آواز میں کہا تھا: ’ہم اپنے پنیر کا دو تہائی حصہ باہر سے منگواتے ہیں جو بڑے شرم کی بات ہے۔‘
بریگزٹ یو ٹرن
ایک سال سے بھی کم عرصے کے بعد اس دور کا سب سے بڑا سیاسی واقعہ اُس وقت رونما ہوا جب یورپی یونین کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے سے متعلق ریفرنڈم ہوا۔
لز ٹرس نے یورپی یونین میں رہنے کے لیے مہم چلائی، روزنامہ 'سن' میں انہوں نے لکھا کہ 'بریگزٹ ایک ٹرپل ٹریجڈی ہو گا جس میں یورپ کو چیزیں فروخت کرتے وقت مزید قواعد، مزید مشکلیں اور مزید تاخیر کا سامنا ہو گا'۔
تاہم، بریگزٹ میں جب فیصلہ اُن کے خیال کے برعکس آیا تو اُنھوں نے یو ٹرن لیتے ہوئے کہا ’بریگزٹ کی وجہ سے چیزوں کو نئے سرے سے اور نئے انداز میں کام کرنے کا موقع ملا ہے۔‘
لز ٹرسٹ کا سیاسی عروج
ٹریسا مے کی وزارت عظمیٰ کے دوران انھوں نے وزارتِ خزانہ کی چیف سیکرٹری بننے سے پہلے سیکرٹری انصاف کے طور پر کام کیا۔
جب بورس جانسن سنہ 2019 میں وزیر اعظم بنے تو لز ٹرس کو وزیر برائے بین الاقوامی تجارت کے عہدے پر منتقل کر دیا گیا، ایک ایسی ملازمت جس کا مطلب یو کے کو فروغ دینے کے لیے عالمی سیاسی اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کرنا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سنہ 2021 میں 46 سال کی عمر میں وہ حکومت کے سب سے سینئر عہدوں میں سے ایک پر فائز ہو گئیں اور انھوں نے وزیرِ خارجہ کا عہدہ سنبھالا۔
اس عہدے میں انھوں نے بریگزٹ کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ کے معاہدے کے کچھ حصوں کو ختم کر کے، شمالی آئرلینڈ پروٹوکول کے پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی اُن کے اس اقدام پر یورپی یونین نے شدید تنقید کی۔
انھوں نے دو برطانوی ایرانی شہریوں کی رہائی کو یقینی بنایا جنھیں ایران میں قید کر لیا گیا تھا۔
اور جب فروری میں روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو انھوں نے سخت موقف اختیار کیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ ولادیمیر پیوتن کی تمام افواج کو یوکرین سے نکال باہر کیا جائے۔
انھیں یوکرائن میں لڑنے کے خواہشمند برطانوی لوگوں کی پشت پناہی کرنے پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
لز کے کچھ فیصلوں کی مخالفت
پارٹی قیادت کے لیے لز ٹرس کی مہم تنازعات سے پاک نہیں رہی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ تیزی سے بڑھتی مہنگائی کے بحران سے کیسے نمٹیں گی، انھوں نے کہا ہے کہ وہ'ٹیکس کا بوجھ کم کرنے، غیر ضروری رعایتیں نہ دینے کی کوشش کریں گی۔
کنزرویٹو پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے شدید ردعمل کے ذریعہ وہ پبلک سیکٹر کی تنخواہوں کو علاقائی رہن سہن کے اخراجات سے جوڑنے کے منصوبے کو واپس لینے پر مجبور ہو گئیں۔ سینیئر رہنماوں کا کہنا تھا کہ اس سے لندن سے باہر رہنے والے لاکھوں ملازمین کی تنخواہیں کم ہو جائیں گی۔
انھوں نے سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن کو ایک 'توجہ کی متلاشی' شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'انہیں نظر انداز کرنا بہتر ہے۔‘
تاہم، رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ وہ اپنے حریف رشی سونک کے مقابلے میں پارٹی کے اراکین میں زیادہ مقبول ہیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لز ٹرس اپنے لباس کے ذریعے مسز تھیچر کی نقل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، انھیں کی طرح فر کی ٹوپی اور سفید بو پہنتی ہیں۔
لز ٹرس نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے ایک مقامی چینل جی بی نیوز سے کہا 'یہ کافی مایوس کن ہے کہ خواتین سیاستدانوں کا موازنہ ہمیشہ مارگریٹ تھیچر سے کیا جاتا ہے جبکہ مرد سیاستدانوں کا موازنہ ٹیڈ ہیتھ سے کیوں نہیں کیا جاتا۔'
لیکن جب کنزرویٹو پارٹی کے ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی بات آتی ہے تو شاید اس طرح کا موازنہ انھیں نہیں کھٹکتا۔










