لز ٹرس یا رشی سونک: برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کا انتخاب صرف ایک لاکھ 60 ہزار افراد ہی کیوں کریں گے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب بطور کنزرویٹو رہنما اور برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کا متبادل سامنے آئے گا تو یہ انتخاب کسی عام انتخاب کے ذریعے نہیں کیا جائے گا۔
بلکہ ان کے جانشین کا انتخاب ان کی اپنی سیاسی جماعت کے ایک لاکھ 60 ہزار افراد کریں گے۔
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے کم افراد کیسے کسی ملک کا رہنما چن سکتے ہیں جب آخری عام انتخابات میں چار کروڑ 70 لاکھ افراد نے ووٹ رجسٹر ہوئے تھے۔
اس سوال کا جواب برطانیہ کے منفرد سیاسی نظام میں چھپا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس مرتبہ جن افراد کا وزیرِ اعظم منتخب کرنے میں ہاتھ ہو گا وہ کنزرویٹو جماعت کے ساتھ منسلک تنخواہ دار اراکین ہیں۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ایسا ہوا ہے اور کئی مرتبہ نئے رہنماؤں کو اس سے بھی کم افراد نے چنا ہے۔
ایسا کیوں ہے کہ صرف ایک لاکھ 60 ہزار افراد کا ہی ووٹ ہے؟
برطانیہ میں اگر کوئی وزیرِ اعظم استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرے تو اس مطلب فوری عام انتخابات نہیں ہوتا، عام طور پر حکمران جماعت ایک نیا سربراہ چن لیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب موجودہ وزیرِ اعظم بورس جانسن نے اعلان کیا کہ وہ استعفیٰ دے رہے ہیں تو اس کے بعد ٹوری ممبرانِ پارلیمان کے لیے اگلا مرحلہ جماعت کے سربراہ کے طور پر ان کا جانشین چننا تھا۔
انتخاب کے اس مرحلے کے ابتدائی راؤنڈز میں صرف کنزرویٹو ممبرانِ پارلیمان ہی ووٹ کر سکتے ہیں۔ وہ کئی مرتبہ پولنگ کا انعقاد کرتے ہیں یہاں تک کہ صرف دو امیدوار باقی بچ جائیں۔ اس مرتبہ یہ دو امیدوار برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ لز ٹرس اور ملک کے سابق چانسلر رشی سونک ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس مرحلے میں کنزرویٹو جماعت کے تمام اراکین پولنگ کا حصہ بنتے ہیں اور اپنے رہنما کا انتخاب کرتے ہیں۔
لیکن یہ صرف ایک لاکھ 60 ہزار افراد کی بات ہو رہی ہے جو برطانیہ میں موجود ووٹرز کا صرف 0.3 فیصد ہے۔
اس نظام سے متعلق ماضی میں سوالات اٹھائے جا چکے ہیں لیکن یہ کسی نئے برطانوی وزیرِ اعظم کے لیے انتہائی عام ہے کہ ان کا انتخاب صرف ان کی اپنی جماعت اور اس کے حمایتی ہی کریں۔
گذشتہ آدھی صدی کے دوران ملک کے تقریباً آدھے سربراہوں کو ان کی جماعت نے چنا ہے نہ کہ عام انتخابات کے ذریعے عوام نے۔
ایسا اس لیے بھی ہے کیونکہ برطانوی سیاسی نظام میں حکومت کے سربراہوں کو ان کی جماعت کی جانب سے ہٹانے کا رواج ہے اگر وہ عام انتخابات سے پہلے غیر مقبول ہو جائیں۔ یہ امریکہ میں رائج صدارتی نظام سے بالکل مختلف ہے۔
عمر رسیدہ اور سفید فام

،تصویر کا ذریعہAFP
تاہم کسی ایک سیاسی جماعت کے اراکین پورے ملک کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔
تحقیق کے مطابق، بڑی جماعتوں کے اراکین کی طرح کنزرویٹو اراکین عام آبادی کے برعکس زیادہ عمر رسیدہ زیادہ مڈل کلاس اور زیادہ تر سفید فام ہوتے ہیں۔
کوئینز میری یونیورسٹی آف لندن اور سسکس میں یونیورسٹی پارٹی ممبرز پراجیکٹ کے سربراہ پروفیسر ٹم بیل کہتے ہیں کہ ’جو لوگ ہمارا اگلا وزیرِ اعظم چنیں گے وہ تمام ووٹرز کی نمائندگی ہرگز نہیں کر رہے ہوں گے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ لسانی طور متنوع نہیں ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر کا تعلق جنوبی انگلینڈ سے ہے، ان میں مردوں سے زیادہ خواتین ہیں، وہ کھاتے پیتے گھروں سے ہیں، اور یہ اتنے زیادہ عمر رسیدہ تو نہیں ہیں (اوسطاً وہ 50 کے اواخر میں ہیں، حالانکہ ہر 10 میں سے چار افراد 65 سال سے زیادہ عمر کے ہیں) لیکن پھر بی باقی آبادی کے مقابلے میں ان کی عمر زیادہ ہے۔
’مختصراً یہ کہ جسے سیاسی ماہرین سیلیکٹوریٹ کہتے ہیں وہ الیکٹوریٹ سے بہت مختلف ہے۔‘

پروفیسر بیل کی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں اکثر جماعتوں کے اکثر اراکین متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کنزرویٹو جماعت کے اراکین کی سب سے بڑی تعداد متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔

برطانیہ کی تمام ہی جماعتوں میں نسبتاً کم سیاہ فام اور اقلیتی نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں۔
ٹم بیل کی ٹیم کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق 97 فیصد کنزرویٹو اراکین سفید فام برطانوی شہری تھے۔ اس کا موازنہ لیبر اور لبرل ڈیموکریٹس سے کیا جائے تو یہ تناسب 96 فیصد بنتا ہے۔
جہاں اگلے برطانوی وزیرِ اعظم کا انتخاب ایک ایسے گروہ کی جانب سے کیا جائے گا جو پورے ملک کی نمائندگی نہیں کرتا، وہیں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا، اور ہر گز آخری مرتبہ بھی نہیں۔
اس سے بھی زیادہ چھوٹا گروہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ انتخابات کے درمیان وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لیے لوگوں کی تعداد اس سے بھی کم رہی ہے۔
سنہ 1998 تک کنزرویٹو اور سنہ 1981 تک لیبر جماعت میں صرف ممبرانِ پارلیمان کو ہی نئے سربراہ کے انتخاب کا حق حاصل تھا۔ اس سے مجموعی طور پر ووٹ کرنے والوں کی تعداد چند سو افراد تک محدود ہو گئی تھی، اور ظاہر ہے یہ افراد برطانیہ کی مزید کم نمائندگی کر رہے تھے۔
یہ ہمیشہ سے ایک جمہوری عمل بھی نہیں تھا۔ سنہ 1965 تک کنزرویٹو جماعت میں سربراہ کا انتخاب ممبرانِ پارلیمان نہیں کرتے تھے، بلکہ یہ روایت تھی کہ کچھ امیدواروں سے کامیاب امیدوار خود ’ابھر‘ کر سامنے آ جائے گا۔
یعنی سینیئر پارٹی قیادت آپس میں صلاح مشورہ کر کے یہ فیصلہ کر لیتی تھی کہ کون نئے رہنما کے طور پر بہترین ثابت ہو گا اور بالآخر کسی باضابطہ ووٹ کے بغیر ایک کا انتخاب کر لیا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
محبت اور نفرت
برطانوی وزرائے اعظموں کے انتہائی عجیب انداز میں انتخاب کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ برطانوی سیاسی جماعتوں کو اپنے سربراہوں کو اقتدار سے ہٹانے کے عمل سے محبت ہے۔
سنہ 2010 میں جب سے کنزرویٹو جماعت نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے، ڈیوڈ کیمرون، تھریسا مے اور بورس جانسن تمام ہی وزرا اعظموں نے اپنے استعفے دیے ہیں۔
برطانوی سیاست کے انتہائی قدآور سیاست دان بھی اس سے نہیں بچ پائے۔

گذشتہ ایک صدی کے سب سے مضبوط ووٹ بینک کے حامل وزرا اعظم کنزرویٹو جماعت کی مارگریٹ تھیچر اور لیبر جماعت کے ٹونی بلیئر دونوں کو اپنی جماعت کی جانب سے حملے کرنے کے باعث اقتدار سے ہٹنا پڑا۔
تاہم جہاں ممبرانِ پارلیمان اپنے رہنماؤں کے پیٹھ میں چھرا گھونپنا معیوب نہیں سمجھتے وہیں وہ ان کی عوامی طور پر تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
بورس جانسن کی پارلیمان میں آخری تقریر پر ان کی اپنی جماعت کے اراکین نے انھیں خوب داد دی گئی اور کھڑے ہو کر ان کا خیر مقدم کیا گیا (جو ہاؤس آف کامنز میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے جہاں تالیاں بجانے کو شدید ناپسند کیا جاتا ہے۔)
تاہم ان میں سے اکثر افراد نے گذشتہ کئی ہفتے ایک ایسی تلخ لڑائی لڑنے میں گزارے تھے جس کے ذریعے بورس جانسن کو وزیرِ اعظم کے دفتر سے نکالنے کی تیاری کی گئی تھی اور انھیں عوامی طور ملک کی سربراہی کرنے کے لیے غیر موزوں قرار دیا گیا تھا۔
ان کے جانشین کو ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اس دفتر میں ان کا وقت بھی محبت اور نفرت کی اسی اونچ نیچ کا شکار ہو گا جیسے بورس جانسن کے دور اقتدار میں ہوا۔











