فلپائن: امتحانات میں نقل سے بچاؤ کی انوکھی تدبیر، طلبہ کی ٹوپیاں وائرل

فلپائن

،تصویر کا ذریعہMARY JOY MANDANE-ORTIZ

    • مصنف, جیمز فیتزګیرلاد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

فلپائن میں کالج کے امتحانات کے دوران نام نہاد ’اینٹی چیٹنگ ٹوپیاں‘ پہنے طلبہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں، جو لوگوں کے لیے تفریح کا باعث بن گئی ہیں۔

لیگازپی شہر کے ایک کالج میں طلبہ سے کہا گیا کہ وہ اپنے سر پر ایسے پوشاک پہنیں، جو انھیں دوسروں کے پیپرز میں جھانکنے سے روکیں۔

بہت سے طلبہ نے گتے، انڈوں کے ڈبوں اور دیگر ری سائیکل شدہ مواد سے گھریلو ساختہ ٹوپی بنا کر اسے کمرہ امتحان میں اپنے سروں پر پہن لیا۔

ان طلبہ کی استاد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی کلاسوں میں ’دیانت اور ایمانداری‘ کو یقینی بنانے کے لیے ’تفریحی طریقے‘ کی تلاش میں تھیں۔

بیکول یونیورسٹی کالج آف انجینئرنگ میں مکینیکل انجینئرنگ کی پروفیسر مریم جوئے مینڈن اورٹیز نے کہا کہ یہ خیال ’واقعی موثر‘ تھا۔

یہ حالیہ وسط مدتی امتحانات کے لیے لاگو کیا گیا تھا، جس پر اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں کالج میں سینکڑوں طلبہ نے اس پر عمل کیا۔

امتحانات میں نقل

،تصویر کا ذریعہMARY JOY MANDANE-ORTIZ

پروفیسر مینڈن اورٹیز نے کہا کہ ان کی ابتدائی درخواست طلبہ سے تھی کہ وہ کاغذ سے باہر ’سادہ‘ ڈیزائن بنائیں۔

وہ مبینہ طور پر کچھ سال پہلے تھائی لینڈ میں استعمال ہونے والی تکنیک سے متاثر تھیں۔ سنہ 2013 میں ایک تصویر وائرل ہوئی، جس میں بنکاک میں یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک کمرے کو ’کان فلیپس‘ پہنے ہوئے امتحانی پرچے لیتے ہوئے دکھایا گیا۔

پروفیسر مینڈن-اورٹیز نے کہا کہ ان کے زیر تربیت انجینئرز نے اس ماڈل کو اختیار کیا۔ اب سر پر ایسی ٹوپیاں بھی بہت دلچسپ انداز میں تیار کی گئیں۔ کچھ نے تو شرط پوری کرنے کے لیے ٹوپیاں، ہیلمٹ یا ہالووین ماسک ہی پہن لیے۔

فلپائن

،تصویر کا ذریعہMARY JOY MANDANE-ORTIZ

پروفیسر کی فیس بک پوسٹس میں نوجوانوں کو ان کی اس تخلیقات کی خوب تشہیر کی گئی۔ ان پوسٹس کو چند دنوں میں ہزاروں صارفین نے ’لائیک‘ کیا اور فلپائنی میڈیا نے بھی اس کی خوب تشہیر کی۔

یوں انھوں نے ملک کے دیگر حصوں میں سکولوں اور یونیورسٹیوں کو بھی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے طالب علموں کو امتحانی نقل سے بچاؤ کے لیے ’ہیڈ ویئر‘ اکٹھا کرنے کی ترغیب دیں۔

یہ بھی پڑھیے

فلپائن

،تصویر کا ذریعہMARY JOY MANDANE-ORTIZ

پروفیسر مینڈن-اورٹیز نے کہا کہ ان کے طلبہ نے اس سال بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق اس طریقے سے ان کی یہ حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ زیادہ محنت سے مطالعہ کریں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے اپنے ٹیسٹ جلد مکمل کر لیے۔ اور اس سال کوئی بھی امتحان میں نقل کرتے ہوئے یا غیرقانونی ذریعے اختیار کرتے ہوئے نہیں پکڑا گیا۔