سی ایس ایس 2021 نتائج: سندھ میں ہندو برادری کے مینگھواڑ کون ہیں اور میدانِ تعلیم میں ان کی کامیابیوں کی وجہ کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہRajinder
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
’میرے دادا غیر تعلیم یافتہ تھے ان کی جوتوں کی دکان تھی، والد اپنے خاندان کے پہلے گریجویٹ اور ڈاکٹر ہیں، ہماری مینگھواڑ کمیونٹی کے پاس نہ کوئی پراپرٹی ہے اور نہ زرعی زمین ان کے پاس تعلیم اور ملازمتوں کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں۔‘
یہ کہنا ہے راجندر مینگھواڑ کا جن کا نام سی ایس ایس کے امتحان اور انٹرویو میں پاس ہونے کے بعد پولیس گروپ میں آیا ہے۔ 22 سالہ راجندر مینگھواڑ کا تعلق ضلع بدین کے علاقے ملکانی سے ہے انھوں نے انٹر مٹھی کالج اور ماسٹرز سندھ یونیورسٹی سے کیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے راجندر نے بتایا کہ وہ جب کالج میں زیر تعلیم تھے تو وہاں دھرمو مل بھوانی آئے تھے جو ڈی ایم جی گروپ کے افسر تھے، ان سے متاثر ہو کر انھوں نے سی ایس ایس کا ارادہ کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سی ایس ایس میرا خواب تھا میں انگریزی ناول پڑھتا، انگریزی اخباروں کا مطالعہ کرتا اور بی بی سی ریڈیو سنتا انٹر کے بعد میرا داخلہ مہران انجینیئرنگ یونیورسٹی میں ہوا لیکن میں انگریزی ادب پڑھنا چاہتا تھا۔
’والد سے مشورہ کیا اور بتایا کہ میں سی ایس ایس میں دلچسپی رکھتا ہوں تو انھوں نے کہا جو آپ بہتر سمجھیں وہ فیصلہ کریں تو میں نے انگریزی ادب کا انتخاب کیا۔ یونیورسٹی میں پہنچے تو شعور آتا رہا کہ سول سروسز کیا ہوتی ہے اس میں کیا چیلینجز ہوتے ہیں۔‘
مینگھواڑ کون ہیں؟
سندھ میں اس وقت ہندوؤں میں مینگھواڑ کمیونٹی کے نوجوانوں میں شرح خواندگی متاثر کن ہے اور اس وقت اس کمیونٹی کے نوجوان، فوج، میڈیکل، انجینیئرنگ اور تدریس سمیت زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہیں۔
حکومت سندھ کے مرتب کردہ انسائیکلوپیڈیا سندھیانہ کے مطابق مینگھواڑ ہندوؤں کی نچلی ذات میں شامل کی جاتی ہے جو دراصل راجپوتانا کے رہائشی ہیں۔ یہ بعد میں سندھ میں آ کر آباد ہوئے۔ یہ کمیونٹی موچی کا کام کرتی تھی اور ان کی ذاتیں راجپوتوں سے ملتی ہیں جیسے راٹھوڑ، چوہان، سولنکی، اور یہ پرماریہ مھادیو اور رام دیو عرف راما پیر کے پیروکار ہیں۔

محقق و صحافی معصوم تھری کا کہنا ہے کہ مینگھواڑ کمیونٹی بھی ان دراوڑ قبائل میں شامل ہے جو یہاں کے قدیمی لوگ ہیں۔ جب آریا اس خطے میں آئے تو انھوں نے ان کے لیے تعلیم کے دروازے بند کر دیے جس کی وجہ سے وہ پسماندگی کی طرف دھکیلے گئے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک انگریز اس خطے میں نہیں آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’انگریزوں نے ایک شیڈول پاس کیا اور اس میں ان کمیونٹیز کو شامل کیا جن کو اچھوت سمجھا جاتا تھا اور انھیں تعلیم کی سہولیات فراہم کیں، ان کمیونٹیز میں کولھی، بھیل، باگڑی سمیت دیگر بھی شامل تھے لیکن مینگھواڑ سب سے بڑی کمیونٹی تھی۔‘
مینگھواڑ کمیونٹی کے آگے بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق مارکیٹ اور شہروں سے تھا کیونکہ یہ ایک ہنر مند قبیلہ ہے جبکہ دیگر قبائل جیسے کولھی بھیل وغیرہ ان کا تعلق دیہی علاقے اور زراعت سے تھا لہٰذا مینگھواڑوں کو شہروں کی وجہ سے تعلیم کے حصول کے زیادہ مواقع میسر ہوئے۔
مینگھواڑ میدانِ تعلیم میں کامیاب کیوں ہیں؟
تقسیمِ ہند سے قبل کانگریس نے شیڈول کاسٹ کی تعلیم کے لیے کئی سکول قائم کیے جنھیں ہریجن سکول کا نام دیا گیا ان سکولوں سے کئی طالب علموں نے خاصی ترقی کی۔
ان میں کانگریس کے مشہور رہنما کامریڈ سگل چند بھی شامل تھے جن کا تعلق ننگر پارکر سے تھا وہ تحصیل دار رہے اور انھوں نے بعد میں ملازمت سے مستعفی ہو کر رانا چندر سنگھ کے خلاف انتخاب میں حصہ لیا تھا۔
معصوم تھری کا کہنا ہے کہ ’سندھ کی بمبئی (موجودہ ممبئی) سے علیحدگی کے بعد مینگھواڑ کمیونٹی نے تعلیم کی طرف راغب ہونا شروع کیا جو ابتدائی تعلیم ہوتی تھی وہ حاصل کی کیونکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے وسائل میسر نہیں تھے اس ابتدائی تعلیم کے بعد کئی تعلیم کے شعبے سے جڑ گئے اور اس طرح استاد بن گئے۔
’1970 کی دہائی سے کچھ پروفیشنل کالجز اور یونیورسٹیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے یوں یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور تعلیم کے شعبے سے جڑنے کی وجہ سے یہ تبدیلی آئی۔‘

،تصویر کا ذریعہjewan lal
ایسے ہی ایک سی ایس ایس پاس وفاقی افسر گوبند مینگھواڑ کہتے ہیں کہ ’ہم دھتکارے ہوئے لوگ تھے سی ایس ایس ایسا ذریعہ تھا جس سے ہمارے اپنے اور خاندان کے سماجی اور معاشی مسائل حل ہو سکتے تھے اور ترقی کی نئی راہیں کھل گئیں۔
’یہ دھتکار نہ صرف سماج میں بلکہ ہمارے اپنے دھرم کے لوگوں میں مذہبی تفریق کی وجہ سے بھی موجود تھی۔ اس صورتحال میں صرف تعلیم واحد راستہ تھا جو ہمیں اوپر لا سکتا تھا اس لیے مینگھواڑ کمیونٹی نے یہ راستہ اپنایا، اس سب کے لیے ہمارے والدین جو پہلی یا دوسری نسل سے تھے انھوں نے قربانیاں دیں اور نتیجے میں ہم اس مقام پر پہنچے ہیں۔‘
کیا یہ افسران کمیونٹی کے مددگار ہوتے ہیں؟
دھرمو مل مینگھواڑ نے سی ایس ایس پاس کر کے ڈی ایم جی گروپ حاصل کیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ کمیونٹی سطح پر بالکل مدد فراہم کی جاتی ہے۔
دھرمو مل مٹھی میں جواہر لال کی مثال دیتے ہیں جو ٹیچر ہیں لیکن وہ پسماندہ بچوں کو انگریزی سکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے ان بچوں کے لیے ایسا نصاب بنایا ہے تاکہ انھیں سی ایس ایس امتحانات میں آسانی ہو، ان کے طالب علم پوزیشن ہولڈر ہیں اور کئی سکالر شپ پر پڑھ رہے ہیں۔‘
’میں ذاتی پر خود بھی وقت دیتا ہوں، ہم بچوں کو بتاتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں ٹیوشن پڑھائیں، میڈیکل، انجنیئرنگ کے علاوہ بھی فیلڈ ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’نوجوان ایک دوسرے کو دیکھ کر بھی آگے بڑھتے ہیں جیسے کئی تھر کے بچے اس وقت بیرون ملک سکالرشپ پر پڑھ رہے ہیں۔ ایک بچہ دیکھتا ہے کہ اگر ایک کسان کا بیٹا باہر جا کر پڑھ سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں جا سکتا۔
’دوسری بات یہ ہے کہ سکالرشپ کے حصول کے لیے جی آر ای کے لیے انگریزی، میتھس اور فزکس کی ضرورت ہے جس میں یہ بچے ماہر بن جاتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
راجندر مینگھواڑ کہتے ہیں کہ ’کمیونٹی سپورٹ کوئی خاص نہیں ہے کوئی منظم سپورٹ پروگرام نہیں جو لوئر کلاس کی مدد کرتا ہو لیکن انفرادی سپورٹ حاصل ہو جاتی ہے اگر آگے بڑھنے والا بندہ ہو تو یہ بھی کافی ہوتا ہے۔‘
جیون لال نے بھی رواں سال سی ایس ایس پاس کیا ہے اور انھیں کسٹم گروپ دیا گیا ہے۔ ان کے دادا پرائمری پاس تھے، والد میٹرک تک پڑھ سکے جبکہ بھائی انجینیئر اور سرکاری ملازمت میں ہیں۔ ان کا تعلق تھر کی تحصیل چھاچھرو سے ہے۔
ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ دھرمو مل سے متاثر ہوئے تھے اور سوچا تھا کہ اس سے وہ مینسٹریم میں آ سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کمیونٹی میں مدد کا کوئی نظام موجود نہیں تاہم انفرادی مدد حاصل ہوتی ہے لیکن جب کوئی ہماری کمیونٹی کا شخص کسی منصب پر پہنچتا ہے تو کمیونٹی سمجھتی ہے کہ ہمارا کوئی وہاں موجود ہے۔‘
گوبند مینگھواڑ کہتے ہیں کہ ’کمیونٹی کو اس طرح فائدہ ہوتا ہے کہ کسی ضلع میں کوئی افسر اگر ہمارا کوئی جان پہچان والا ہے اور اس میں ہماری کمیونٹی کے کسی بندے کا کام ہو تو ہمارے ریفرنس کی وجہ سے وہ کام نسبتاً جلدی ہو جاتا ہے یہ معاشرے کا کڑوا سچ ہے کہ واسطے اور تعلقات سے کاموں میں آسانی ہوتی ہے۔‘
معصوم تھری کہتے ہیں کہ ’جو لوگ آگے بڑھے ہیں ان کی کلاس تبدیل ہوئی تو ان کے درمیان بھی وہ ہی فاصلے آ رہے ہیں جو اس سے قبل اپر کاسٹ اور لوئر کاسٹ کے تفریق کی وجہ سے تھے، جس کا سامنا مینگھواڑ کمیونٹی کر رہی تھی جو رجحان کافی منفی ہے۔
’اس تعلیم سے لوگوں کو بطور کمیونٹی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ انفرادی طور پر زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔‘












