لاڑکانہ کے مکینک کے بیٹے کی سی ایس ایس افسر بننے کی کہانی

زوہیب قریشی کے والد لاڑکانہ کے معروف موٹر میکنک عبدالطیف قریشی تھے

،تصویر کا ذریعہZohaib Qureshi

،تصویر کا کیپشنزوہیب قریشی کے والد لاڑکانہ کے معروف موٹر میکنک عبدالطیف قریشی تھے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے زوہیب قریشی کے لیے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنا کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ ایک مشکل اور تکلیف دہ سفر تھا۔ ہر قدم پر انھیں نئی مشکل اور پہلے سے زیادہ جدوجہد کا سامنا رہا۔

سنہ 2019 کے سینٹرل سپیریئر سروس کے امتحانات کے نتائج میں وہ میرٹ لسٹ پر 260ویں نمبر پر آئے۔ اکتوبر سے شروع ہونے والی تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ ان لینڈ اینڈ ریونیو کے محکمے میں اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

زوہیب قریشی نے اپنی کہانی صحافی زبیر خان کو سنائی ہے۔ سنیے ان کی کہانی ان کی ہی زبانی۔

میرے بچے بھی افسر بنیں گے

’میرے بابا عبدالطیف قریشی لاڑکانہ کے مشہور موٹر مکینک تھے۔ لاڑکانہ اور گرد و نواح کے تمام بڑے لوگ اور افسر ان سے اپنی گاڑیاں ٹھیک کروایا کرتے تھے۔

’ہمارا گھر ہمارے گیراج کی بالائی منزل پر تھا۔ بچپن ہی میں دیکھا کہ بابا اور امی ہمیشہ یہ بات کرتے تھے کہ ہم تینوں کو خوب پڑھائیں گے اور یہ بڑے افسر بنیں گے۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

یہ 2003 کی بات ہے۔ مجھے اور میرے بڑے بھائی احمر قریشی کو بابا نے لاڑکانہ کے مشہور پرائیوٹ سکول شمس پبلک سکول میں داخل کروایا۔

میں نے چھٹی جماعت تک اپنی امی ہی سے پڑھا تھا وہ ہی ہوم ورک وغیرہ کرواتی تھیں۔ بابا اور امی ہمیں سی ایس ایس کروانا چاہتے تھے جس کے لیے انھوں نے مجھے انگریزی کی ٹیوشن بھی لگا دی تھی۔

جب میں چھٹی اور ساتویں کلاس میں پہنچا تو اس وقت کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے طالب علموں کو مخصوص قسم کے شاندار یونیفارم میں بڑی شان سے آتا جاتا دیکھتا تو میرے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی کیڈٹ کالج لاڑکانہ میں پڑھوں۔

اس خواہش کا ذکر بابا اور امی سے کیا تو وہ فورا راضی ہو گئے۔ امی نے کہا کہ محنت کرو امتحان پاس کرو اور جہاں چاہتے ہو پڑھو ہمیں تو بہت خوشی ہو گی۔

کیا بیٹے کی فیس ادا کر لو گے؟

Zohaib Qureshi

،تصویر کا ذریعہZohaib Qureshi

،تصویر کا کیپشنعبدالطیف قریشی لاڑکانہ کے مشہور موٹر میکنک تھے

جب کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے آٹھویں کلاس کے داخلے شروع ہوئے میں نے امتحان دیا اور پاس ہوگیا۔

مگر ایک عجیب بات ہوئی جب میں داخلہ وغیرہ جمع کروانے کے لیے گیا تو وہاں پر موجود عملے نے میرے بابا سے پوچھا کہ کیا تمھیں پتا ہے کہ یہ لاڑکانہ کیڈٹ کالج ہے۔ تم بیٹے کی فیس ادا کرسکو گے۔ میرے بابا نے کہا کہ فکر نہ کریں میں محنت کرسکتا ہوں بیٹے کے لیے سب کچھ کر لوں گا۔

یہ 2005 کی بات ہے،اس زمانے میں میری تین ماہ کی فیس 24 ہزار روپے ہوتی تھی۔ بابا اچھے اور بڑے میکنک تو ضرور تھے مگر ظاہر ہے اتنی آمدن تو نہیں تھی۔ مگر اس فیس کا وسیلہ خود بخود اس طرح پیدا ہوگیا کہ میرے بابا نے کچھ سال قبل اپنے بچوں کے نام پر بینک میں ایک لاکھ روپیہ رکھا ہوا تھا۔

کچھ مشکل کے بعد ہمیں وہ پیسے مل گئے اور منافع لگ کر اب وہ دس لاکھ بن گئے تھے۔ اب جب ان پر منافع آتا تو بابا اس سے میری فیس ادا کرتے تھے۔

سب کچھ بظاہر ٹھیک چل رہا تھا۔ میرے بابا کے پاس جب بڑے لوگ گاڑیاں ٹھیک کروانے آتے تو وہ بڑے اشتیاق کے ساتھ ذکر کرتے تھے کہ میرے تینوں بچے پڑھ رہے ہیں۔ میرا تو بالخصوص ذکر کرتے کہ وہ کیڈٹ کالج میں پڑھتا ہے۔

میں نے 2010 میں لاڑکانہ کیڈٹ کالج سے اعزاز کے ساتھ ایف ایس سی کی تھی۔ مجھے بہترین طلب علم کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ مگر اب بابا کی طبیعت کچھ خراب رہنا شروع ہو چکی تھی۔

ایف ایس سی کے بعد میں نے دو مرتبہ کمیشن افسر بننے کی کوشش کی۔ دونوں مرتبہ آئی ایس بی تک پہنچا مگر منتخب نہ ہوسکا۔ بہت مایوسی ہوئی مگر میرے بابا، امی، آپی اور بھائی میرے مددگار بن گئے۔

میں کبھی بھی نہیں بھول سکوں گا کہ بابا نے کہا کہ کیا ہوا اگر منتخب نہیں ہوئے، دنیا تو ختم نہیں ہوئی چلو آگے بڑھو، پڑھو اور سی ایس پی افسر بنو۔

اس کے بعد مہران یونیورسٹی جامشورو میں مکینیکل انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا۔ ظاہر ہے بابا سارا خرچہ اٹھا رہے تھے۔ میری آپی اور بڑے بھائی پڑھ رہے تھے۔ اس دوران 2012 میں بابا کی طبیعت زیادہ خراب ہونا شروع ہو گئی۔ وہ شوگر کے دائمی مریض تھے احتیاط نہیں کرتے تھے۔

بھائی نے گیراج سنبھال لیا

یونیورسٹی سے میرا کبھی کبھار ہی گھر آنا ہوتا تھا۔ بابا کی طبیعت خراب ہوتی چلی گئی۔ بڑا بھائی تو پڑھ رہا تھا اس نے بابا کی صورتحال دیکھ کر خود ہی گیراج آنا شروع کر دیا۔ بابا کے منع کرنے کے باوجود اس نے ہم سب کے لیے قربانی دی اور کام سیکھنا شروع کر دیا۔

2012 میں بابا کی طبیعت زیادہ خراب ہونا شروع ہوگئی۔ جس پر اب وہ گھر ہی پر رہتے تھے جبکہ بھائی گیراج میں کام کرتے تھے۔لوگوں کو پتا چلنا شروع ہوگیا کہ اب بابا گیراج میں نہیں ہوتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب گاڑیاں آنا کم ہو چکی تھیں۔ گیراج کا کام تقریباً ختم ہوچکا تھا۔ جس پر بھائی نے گیراج والی جگہ ایک ہوٹل والوں کو کرائے پر دے دی تو خود دور ایک علاقے میں گیراج کھول کر نئے سرے سے جدوجہد شروع کر دی تھی۔

میں جب گھر آتا تو کہتا کہ میں پڑھائی چھوڑ کر کوئی ملازمت کرتا ہوں تو بابا مجھے حسرت بھری نظروں سے دیکھتے، بھائی اور آپی میرا حوصلہ بڑھاتے وہ مجھے کہتے کہ تم بس دل لگا کر پڑھو اور سی ایس ایس کر لو پھر سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔

اس دوران بابا کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو ان کو لے کر آغا خان ہسپتال کراچی چلے گے۔ وہ ہسپتال میں ہوتے مگر میرے امتحان یا کلاسیں ہو رہی ہوتیں۔ اس دوران میں کچھ گھنٹوں کے لیے ان کے پاس جاتا۔

اس موقع پر بابا مجھ سے پوچھتے کہ امتحان تو نہیں ہو رہا، کلاس تو نہیں ہے۔ بابا سے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا کلاسوں یا امتحان کا کہتا تو وہ کہتے کہ جاؤ اپنی پڑھائی دل لگا کر کرو۔

بابا کے علاج کے دوران ہماری تمام جمع پونجی ختم ہو گئی اور بابا بھی اتنی ہی زندگی لے کر آئے تھے۔ میں ان کی کوئی خدمت نہیں کر سکا تھا جس کا مجھے بہت ملال ہے۔

بابا کی موت کے بعد میں ٹوٹ گیا تھا۔ میرے سامنے وہ سب مناظر خواب کی طرح گھومتے تھے جن میں بابا گیراج میں کام کرتے ہوئے اپنے گاہگوں سے کہتے کہ بس بیٹا کیڈٹ کالج چلا گیا ہے بس چند ہی سال میں آفسر بن جائے گا۔

میرے والد 2014 میں فوت ہوئے۔ میں نے 2015 میں مہران یونیورسٹی سے انجینئرنگ میں ڈگری لے لی تھی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ سی ایس ایس کیسے کیا جائے۔ کچھ بھی پتا نہیں تھا۔

یونیورسٹی سے فارغ ہوا تو سندھ کے محکمہ تعلیم میں مانیٹرنگ اسٹنٹ کی ملازمتیں آئیں۔ میں نے امتحان اور انٹرویو دیا اور منتخب ہو گیا۔ اب یہ ہوتا تھا کہ صبح موٹر سائیکل پر نکلتا اور شام کو واپس آتا۔ مگر شام کو گھر واپس آ کر سی ایس ایس کی تیاری کرنے کی کوشش کرتا۔

اس دوران ایک لیکچرر شپ آئی وہاں امتحان دیا تو وہاں بھی کامیاب ہوگیا مگر وہ عارضی تھی۔ امی، آپی اور بھائی کچھ ماہ تو میری روٹین دیکھتے رہے۔ پھر ایک دن آپی نے پوچھا کہ میرا کیا پروگرام ہے۔ میں نے کہا کہ ملازمت کررہا ہوں۔ اس کے ساتھ سی ایس ایس کی تیاری بھی کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

آپی نے کہا کہ نہیں بھائی اس طرح نہیں چل سکتا۔ سی ایس ایس کی تیاری مذاق نہیں ہے۔ اس کے لیے دل جمعی اور محنت کی ضرورت ہے۔ مگر میں تو بہت کچھ سوچ رہا تھا۔

گھر کے معاشی حالات کے بارے میں، آپی اور بھائی کب تک محنت کر سکتے تھے۔ جس وجہ سے ملازمت چھوڑنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا مگر پھر بھائی نے کہا کہ کیا مسئلہ ہے۔ بابا کی خواہش کون پوری کرے گا۔ بھائی نے کچھ اس لہجے میں کہا کہ میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوگیا۔

میری تنخواہ 35 ہزار روپیہ تھی۔ یہ 2017 کا سال تھا۔ اس دوران میں نے کوئی ڈیڑھ لاکھ روپیہ جمع کرلیا تھا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ جو ملازمت میں کررہا ہوں یہ میرا مستقبل نہیں ہے۔ مگر معاشی حالات بھی میرے سامنے تھے۔

اس کے ساتھ امی، آپی اور بھائی کا اصرار بڑھتا جارہا تھا۔ میں عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھا۔ ایک طرف میرے بابا کی خواہش، میرے گھر والوں کا ارمان اور دوسری طرف خدشات اور یقین کرئں کہ کچھ بھی پتا نہیں تھا کہ سی ایس ایس کی تیاری کیسے کرنی ہے۔ کیا پڑھنا ہے۔

میں جب بھی فارغ ہوتا تو لاڑکانہ کی لائبریری میں چلا جاتا وہاں پر پڑھتا، کچھ ایسے لوگوں کے پاس بھی گیا جنھوں نے سی ایس ایس کیا ہوتا تھا ان سے مدد مانگی مگر بہت ہی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر مدد ملی۔

اب کشتیاں جلانا پڑیں

Zohaib Qureshi

،تصویر کا ذریعہZohaib Qureshi

ایک دن میں ملازمت سے گھر آیا تو آپی نے کچھ عجیب سے لہجے میں کہا بھائی کیا بات ہے یہ ہی ملازمت کرنی ہے۔ بابا کی خواہش کو کون پورا کرے گا۔ مجھے ایسے لگا کہ یہ سی ایس ایس مجھے اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے بابا، بہت ہی محبت کرنے والی امی اور قربانیاں دینے والی آپی اور بھائی کے لیے کرنا ہے۔

کچھ معلومات حاصل کیں۔ میرے ایک دوست اسلام آباد میں ہوتے تھے اور سی ایس ایس ہی کی تیاری کررہے تھے۔ میں نے ان سے بات کی انھوں نے کچھ بتایا اور سمجھایا اور کہا کہ اسلام آباد آ جاؤں مل کر تیاری کرتے تھے۔

اب فیصلہ کن گھڑی تھی۔ دو، تین راتیں سو نہیں سکا، ملازمت چھوڑنے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ پھر ایک صبح اٹھا امی، آپی اور بھائی کو بتایا کہ میں اب سی ایس ایس کی تیاری کرنے اسلام آباد جا رہا ہوں۔ انھوں نے حوصلہ افزائی کی۔ ملازمت سے استعفی دیا اور اسلام آباد چلا گیا۔

صرف چھت ہی رات گزارنے کے لیے دستیاب تھی

یہ سال 2018 تھا۔ پہلے اسلام آباد کے ایک نجی ہاسٹل میں رہائش رکھی مگر ظاہر ہے میرا کل اثاثہ ڈیڑھ لاکھ تھا اور اسلام آباد کا شہر چند ہی دونوں میں کس بل نکل گئے۔ اس موقع پر پھر میرے دوست میری مدد کو آئے انھوں نے ایک سرکاری ہاسٹل میں رہائش کا انتظام کیا۔

یہ ہاسٹل خرچے کے لحاظ سے تو بہت کم تھا۔ تین ہزار ماہوار مگر دیگر بہت مسائل تھے۔ کھانے کا مسئلہ، ٹوائلٹ کے لیے کسی اور جگہ جانا پڑتا تھا۔ پانی لانے کے لیے رات کو دو بجے کسی اور جگہ جانا پڑتا تھا مگر رات گزارنے کو چھت دستیاب تھی۔

سی ایس ایس کی تیاری کے لیے میں نے دن رات ایک کر دیا تھا۔ اپنی انگریزی بہتر کرتا، انگریزی میں گھنٹوں بیٹھ کر مضمون لکھتا، دنیا جہاں کے اخبار پڑھتا تھا، جو کچھ کرسکتا تھا کرتا رہا۔

اب ایک اور مسئلہ بھی ہو چکا تھا۔ میرے دوست، رشتہ داروں کو جب پتا چلتا کہ میں نے سی ایس ایس کرنے کے لیے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ہے تو وہ عجیب عجیب باتیں کرتے تھے۔ ایسی باتیں کرتے کہ میری دل آزاری ہوتی، اسی ماحول کے اندر میں نے سی ایس ایس کا امتحان دیا اور واپس لاڑکانہ چلا آیا۔

مگر جب نتیجہ آیا تو میرا ایک مضمون رہ گیا تھا۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔ مضمون کیا رہا میرے دنیا ہی اچاٹ ہوگئی۔

اس دوران آپی اور بھائی کی بھی شادی ہوگئی تھی۔ بھائی کا کام کچھ اچھا ہو گیا تھا۔ ان کو جب پتا چلا کہ میرا ایک مضمون رہ گیا تو انھوں نے کہا کوئی بات نہیں دوبارہ کوشش کرو۔ ایک مضمون ہی تو رہا ہے، اگلے سال اس میں ضرور کامیاب ہو جاؤ گے جبکہ امی کچھ خفا سی ہوئیں مگر انھوں نے بھی حوصلہ بڑھایا۔

ادھر سب دوست رشتہ دار فون کرتے، ملاقات ہوتی تو مجھے ملازمت سے استعفیٰ دینے پر ملامت کرتے تھے، حالانکہ استعفیٰ میں نے دیا تھا، ذمہ دار بھی میں خود ہی تھا۔ میری آپی، بھائی، چاچو کو کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر لوگوں کو کیا مسئلہ تھا۔

یہ وہ موقع تھا جب میں مایوس ہو گیا تھا۔ بہت کچھ سوچتا اور چپ ہوجاتا تھا ساتھ ساتھ ملازمت بھی تلاش کرتا تھا مگر لگتا تھا کہ ملازمت تو جیسے روٹھ ہی گئی ہے۔ اس موقع پر بھی میرے کچھ دوست میری مدد کو پہنچے۔

سندھ پبلک سروس کا اشتہار آیا اوردوست نے فارم بھروائے مجھ سے دستخط کروائے اور بھجوا دیا۔ اب 2019 تھا ملازمت تھی نہیں سندھ پبلک سروس کا امتحان دیا تو پاس ہو گیا۔

میں نے اس مرتبہ امی، آپی اور بھائی سے کہا کہ میں اسلام آباد جانا چاہتا ہوں انھوں نے اجازت دے دی۔ میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ چاہے کچھ بھی ہو مجھے سی ایس ایس کرنا ہے۔ مگر اپنے گھر والوں کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔

اب وہ ہی اسلام آباد،وہ ہی مشکلات وہ ہی ہاسٹل تھا۔ اپنا موبائل نمبر بھی بند کر دیا صرف گھر والوں کو فون کرتا اور بند کر دیتا تھا۔ صبح اٹھتا، لائبریری جاتا، پڑھتا جاتا اور لکھتا جاتا۔ نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کی فکر۔

ایک جنون طاری ہوچکا تھا کہ مجھے سی ایس ایس کرنا ہے۔ اپنے لیے نہیں مگر ان کے لیے کرنا تھا جن کا میں فخر بنا ہوا تھا۔ مجھے نہیں پتا میں نے کتنے دن اسلام آباد میں گزارے اور کس طرح گزارے بس امتحان ہوا اور میں واپس لاڑکانہ چلا آیا۔

جب کامیابی چند قدم دور تھی

لاڑکانہ میں پھر وہ ہی باتیں تھیں، وہی طعنے تھے۔ میں جگہ جگہ ملازمت تلاش کرتا پھر رہا تھا۔ یہاں تک کہ یقین کریں چند دن میں میرا بیگ مختلف مقامات پر ڈاک کی رسیدوں سے بھر چکا تھا۔ ہر صبح حسرت سے اٹھتا کہ آج کوئی کال لیٹر، کوئی انٹرویو کوئی امید، مگر کچھ بھی نہ ہوتا جو مجھے مزید احساس جرم میں مبتلا کرتا تھا۔

اس دوران سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحریری امتحان کا اعلان ہوا۔ میں اس میں کامیاب ہوگیا۔ چند دن بعد انٹرویو کی تاریخ بھی آگئی۔

اس دوران انٹرویو ہوا مگر میں رہ گیا تھا۔ جانتے ہیں کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان دیا تو اس وقت کہا چلو سی ایس ایس نہیں تو سندھ پبلک سروس کمیشن ہی سہی کوئی نہ کوئی محکمہ تو مل جائے گا۔

انٹرویو میں رہنے کی خبر بھی تمام رشتہ داروں اور دوستوں کو مل گئی۔ اب ایک بار پھر وہ ہی طنز کے نشتر، میں اور میری بے روزگاری تھی۔

یہ وہ حالات تھے جب میں تنہائی میں خوب روتا اور اللہ سے دعا کرتا کہ اللہ سائیں مجھ پر نہیں تو میرے گھر والوں پر رحم و کرم کر دے۔

بی بی سی

خوشی کے آنسو

یہ اکتوبر 2019 تھا۔ میں اپنے چاچو کے لیے دوائی لینے کے لیے کیا ہوا تھا۔ مجھے پتا چلا کہ سی ایس ایس کے تحریری امتحان کا نتیجہ آچکا ہے۔ یقین کریں اس وقت میری ٹانگوں میں جان نہیں تھی۔ بمشکل چاچو کی دوائی لی اور دیوار کے قریب کھڑا ہوگیا۔

مجھے میرے دوست نے فون کیا کہ یار تمھارا نام تو کامیاب امیدواروں کی فہرست میں ہے۔ اس نے مجھے سے رول نمبر کنفرم کرنا چاہتا میں نے کہا کہ گھر جا کر بتاتا ہوں۔

پھر دوسرے دوست کا فون آیا۔ اس کو بھی یہ ہی کہا۔ گھر آکر اپنی رول نمبر سلپ تلاش کرنا شروع کردی۔ اس دوران میرا بھائی آیا پوچھا کیا کر رہے ہو میں نے کہا کچھ نہیں تو وہ مسکرا دیا، کچھ نہ بولا، اس کے بعد آپی بھی آگئیں انھوں نے بھی پوچھا میں نے کہا کچھ نہیں، وہ بھی مسکرا دیں۔

تھوڑی ہی دیر میں گھر والوں میں سے کسی نے رول نمبر سلپ لا دی۔ رول نمبر سلپ میں نتیجہ دیکھا تو میں تحریری امتحان میں پاس ہو گیا تھا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔ بھائی اور آپی سامنے آگئے وہ ابھی مسکرا بھی رہے تھے، جیسے انھیں پہلے سے پتا ہو۔

میں دوڑا دوڑا امی کے پاس گیا اور ہم سب مل کر اتنا روئے، اتنا روئے کے میں بتا نہیں سکتا مگر یہ خوشی کے آنسو تھے۔

تمھارا تو کوئی حال نہیں

اب ایک اور مشکل مرحلہ تھا انٹرویو۔ آپی اور بھائی نے کہا جدھر دل چاہتا ہے جاؤ اور انٹرویو کی تیاری کرو۔

میں کراچی چلا آیا۔ یہاں پر ایک ادارے میں داخلہ لیا تو وہاں پر بہت تیز طرار لڑکے، لڑکیاں تھیں۔ وہاں پر موجود میڈم نے بھی سب کے سامنے کہہ دیا کہ تمھارا تو کچھ حال نہیں ہے۔

سب کے سامنے کہے ہوئے ان جملوں نے میرا دل چیر کر رکھ دیا۔ بس پھر ایک جنون طاری ہو گیا کہ انٹرویو پاس کرنا ہے، ہر حال میں کرنا ہے۔

میں شیشے کے سامنے کھڑا ہو جاتا گھنٹوں اردو، انگریزی میں شیشے کے سامنے بات کرتا، تقریر کرتا وہ سب کچھ کرتا جس کی مجھے سمجھ تھی۔

جب محنت رنگ لائی

پھر اسلام آباد چلا آیا۔ یہاں پر سیکھنے کے لیے کئی کئی انٹرویو دیتا، انگریزی پڑھتا جو کچھ کرسکتا تھا کرتا۔ اس دوران انٹرویو کی کئی تاریخیں تبدیل ہوئیں مگر مئی میں انٹرویو ہو ہی گیا۔

میں امید اور مایوسی کی کیفیت میں رہا، ساتھ ساتھ ملازمتیں بھی تلاش کرتا رہا۔ آپی، بھائی اور امی میری حوصلہ افزائی کرتے۔ چند دن پہلے پتا چلا کہ انٹرویو کے نتائج بھی آچکے ہیں کامیاب امیدواروں کو محکمے بھی الاٹ ہو گئے ہیں۔ مگر میں اپنے کمرے سے نہیں نکلا۔

جب کافی وقت گزر گیا تو آپی آئیں ہمیشہ کی طرح میرے لیے مسکراتے ہوئے خوشخبری لائیں۔ میرا نمبر 260 واں تھا اور مجھے اِن لینڈ اینڈ ریونیو کا محکمہ الاٹ ہوا تھا اور اکتوبر سے میری تربیت شروع ہو گی۔

جانتے ہیں ہم سب مل کر ایک بار پھر روئے۔ یہ بھی خوشی اور کامیابی کے آنسو تھے۔ یہ میری کامیابی نہیں تھی میرے گھر والوں کی کامیابی تھی۔

اتوار کو پوری دنیا میں فادر ڈے منایا گیا تو ہم پھر پرنم آنکھوں سے اپنے والد کو یاد کرتے رہے۔ وہ ہوتے تو ہم ان کو بتاتے کہ دیکھیں جو خواب آپ نے دیکھا پورا ہوگیا۔

یہ سچ ہے کہ اگر محنت کی جائے دل سے کی جائے اور دیوانہ وار کی جائے تو کچھ تاخیر ہوسکتی ہے مگر وہ رنگ ضرور لاتی ہے۔‘