یو اے ای اور اسرائیل میں بڑھتے تجارتی تعلقات دونوں ممالک کو کیسے فائدہ پہنچا رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, نیٹلی لزبونا
- عہدہ, بزنس رپورٹر، تل ابیب
محمد ال خاجہ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں سٹاک ایکسچینج میں دن کے آغاز پر گھنٹی بجانے کے لیے ایک بٹن دباتے ہیں تو اچانک اس چمکتی دمکتی عمارت میں سونے کے اوراق سے بنے دل کے نشان روشن ہو جاتے ہیں۔
تالیوں کی گونج میں محمد ال خاجہ، جو اسرائیل میں متحدہ عرب امارات کے سفیر ہیں، ایکسچینج کے سربراہ اتائی بن زیو اور احمد ال زاوبی سے مصافحہ کرتے ہیں جو یو اے ای فنانشل سینٹر ابو ظہبی گلوبل مارکیٹ کے چیئرمین ہیں۔
یہ اسرائیل کی سٹاک مارکیٹ کے دن کی کوئی عام شروعات نہیں۔ بلکہ یہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے جو دو سال قبل امریکی سفارتکاری کے نتیجے میں طے پانے والے ابراہام اکارڈز کا نتیجہ ہے، جس میں بحرین بھی شامل تھا۔
اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کا بائیکاٹ ختم کرتے ہوئے مکمل سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی سٹاک ایکسچینج میں یہ منظر دیکھنے والے اماراتی سرمایہ کار صباح ال بنالی، جو یو اے ای کے وفد کا حصہ ہیں، مسکرا رہے تھے۔
انھوں نے کہا ’ہم تاریخ بنتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، ایک طویل، گہرے اور نتیجہ خیز تعلق کی ابتدا جو مشرق وسطی کے قدرتی ہمسائیوں کے درمیان بن رہا ہے۔‘
ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کاروباری تعلقات میں سب کے لیے فائدہ ہی فائدہ ہے۔
’مجھے توقع ہے کہ ہماری شراکت کے نتائج بہترین ہوں گے۔ لاجسٹکس، طبی اور زرعی ٹیکنالوجی سمیت سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں ہماری شراکت پہلے ہی مشترکہ پراجیکٹس کی شکل میں کافی آگے بڑھ چکی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ ماہ کے دورے کے بعد متعدد کاروباری معاہدوں پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔
معیشت دان اس بات پر متفق ہیں کہ ابراہام معاہدہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت میں اضافہ کرے گا۔ ایک جانب اسرائیل مضبوط ٹیکنالوجی سیکٹر رکھتا ہے جس میں عسکری ٹیکنالوجی بھی شامل ہے تو دوسری طرف یو اے ای سعودی عرب کے بعد مشرق وسطیٰ کی دوسری بڑی معیشت بن کر ابھرا ہے۔ تیل کی دولت سے مالامال ملک اب دیگر ذرائع آمدن پر توجہ دے رہا ہے۔
کیتکی شرما الگوردم ریسرچ کمپنی کی بانی اور چیف ایگزیکٹیو ہیں۔ یہ کمپنی ڈیٹا اور معاشی تحقیق پر دبئی میں کام کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہKETAKI SHARMA
ان کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم اگلے پانچ برس میں 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔
انھوں نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کی جانب توجہ مبذول کروائی جس کے مطابق 2020 سے 2021 تک اسرائیل کی متحدہ عرب امارات کو سالانہ برآمدات 74 ملین ڈالر سے بڑھ کر 384 ملین ڈالر تک جا پہنچی تھیں۔
اسی عرصے میں یو اے ای کی اسرائیل کو برآمدات 115 ملین ڈالر سے بڑھ کر 632 ملین ڈالر تک پہنچ چکی تھیں۔
شرما بتاتی ہیں کہ ’دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں میں زراعت، توانائی، سائبر سکیورٹی اور سمارٹ شہروں جیسے معاملات شامل ہیں۔‘
’فری ٹریڈ معاہدہ 2020 میں طے پایا تھا جس کے بعد 96 فیصد اشیا پر ٹیرف ختم ہو چکا ہے۔‘
ابراہام اکارڈز کے بعد سے اسرائیل اسلحہ کی فروخت کا ریکارڈ توڑ رہا ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق 2021 میں اس کی اسلحہ برآمدات 11 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی تھیں جس کا سات فیصد حصہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کو دیا گیا۔
سابق اسرائیلی وزیر دفاع موشے یالون نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کی مرکزی وجہ خطے میں مشترکہ سکیورٹی خدشہ ہے یعنی ایران۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے مطابق ’گذشتہ دہائی میں اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کو مشترکہ دشمنوں کا سامنا رہا یعنی ایران اور اس کی حمایتی تنظیمیں، اور اگرچہ فلسطین کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے لیکن اب عرب اسرائیل تنازع باقی نہیں رہا۔‘
تاہم فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل سے ایسے معاہدے کرنے والے ممالک پر شدید تنقید کی ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ عرب ممالک ان کی جدوجہد کو کمزور کر رہے ہیں۔
مشرق وسطی سے ہٹ کر دیکھیں تو مراکش بھی اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کا ایسا ہی معاہدہ کر چکا ہے۔ سوڈان نے بھی ایک معاہدہ کیا تھا تاہم اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا معاملہ التوا کا شکار رہا ہے۔
موشے یالون اب اسرائیلی سناپٹیک نامی کمپنی کے چیئرمین ہیں جو ابو ظہبی میں موجود انوسٹمنٹ فنڈ ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ ’دفاعی اتحاد مشرق وسطیٰ سے اسرائیلی تعلقات کا اہم جزو ہے۔‘ تاہم قومی سلامتی کی وجہ سے وہ اس کی زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کر سکتے۔
انھوں نے صرف اس بات کی تصدیق کی کہ ’ہم نے دفاع پر باہمی تعاون کا راستہ نکال لیا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ دیگر سیکٹرز میں بھی تعاون کے کافی مواقع ہیں۔
’مشرق وسطیٰ کے ممالک کو احساس ہو رہا ہے کہ ان کو تیل کے علاوہ بھی کچھ کرنا ہو گا اور اس کے لیے ان کو ٹیکنالوجی، صحرا میں زراعت اور پانی کی ضرورت ہے۔ اسرائیل میں ہم ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کر چکے ہیں۔ اس لیے ہمارے کئی مشترکہ مفادات ہیں۔‘
اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کی فرمز کے درمیان توانائی کے شعبے میں بھی معاہدے ہو رہے ہیں۔ گذشتہ سال ستمبر میں اسرائیلی کمپنی نیو میڈ نے اسرائیلی آف شور گیس فیلڈ تمار کا 22 فیصد حصہ یو اے ای کی مدابلا پٹرولیم کو ایک ارب ڈالر کے عوض فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہNEWMED ENERGY
نیو میڈ کمپنی کو حکومتی شرائط کی وجہ سے ایک نئے خریدار کی ضرورت تھی۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو یوسی ابو نے کہا تھا کہ ’مدابلا پٹرولیم کے ساتھ ہونے والا معاہدہ خطے میں ہماری سرگرمیوں اور ممالک سے تعلقات مضبوط کرنے کی جانب قدم ہے۔‘
ماس وساد اسرائیل کے فلسطینی شہری ہیں جو دعوسات نامی عربی زبان کی ایپ کے شریک بانی اور صدر ہیں۔
انھوں نے اپنی پارٹنر ٹیلی زنغر کے ساتھ مل کر اسی معاہدے کی وجہ سے اپنا کام مشرق وسطی تک پھیلا لیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ابراہام معاہدہ ایک گیم چینجز ثابت ہوا کیونکہ اب وہ اور ان کی ٹیم اسرائیل، یو اے ای اور بحرین کے درمیان آرام سے گھوم سکتے ہیں۔ انھوں نے اپنا گھر بھی ابو ظہبی منتقل کر لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMAS WASAD
ان کا کہنا ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کئی اہم معاملات میں رہنما بننا چاہتا ہے جن میں صحت بھی شامل ہے۔‘
ادھر کیتکی شرما کو امید ہے کہ اب متحدہ عرب امارات کے تجربے سے سیکھتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اسرائیل سے معاہدے کریں گے۔
’یہ ایک شروعات ہے۔ ہم سب مستقبل کے بارے میں پُرامید ہیں۔‘











