اسرائیل کا عرب ممالک کے ساتھ فضائی دفاعی اتحاد بنانے کا منصوبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیر دفاع بنی گینز نے کہا ہے کہ اسرائیل امریکہ کی سرپرستی میں خطے میں فضائی دفاعی اتحاد تشکیل دے رہا ہے جس کو آئندہ ماہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے سعودی عرب کے دورے سے بہت مدد ملے گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ کے اتحادی اُن عرب ممالک سے جو ایران کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اسرائیل نے اپنے تعلقات بہتر کیے ہیں اور اب ان کو مشترکہ فضائی دفاعی نظام کی پیش کش کی جا رہی ہے۔
خیلجی ریاستیں اور عرب رہنما ابھی تک اس خطے کے لیے اسرائیل کی طرف مجوزہ مشترکہ فضائی دفاعی نظام کے بارے میں خاموش ہیں۔
امریکہ کو توقع ہے کہ خطے کے مسلمان ملکوں اور اسرائیل کے درمیان تعاون اور خاص طور پر دفاع اور سکیورٹی کے ضمن میں ان ملکوں کو اسرائیل کے قریب کر دے گا اور ایران کو خطے میں تنہا کرنے میں مدد ملے گی۔
اس معاہدے سے اسرائیل کے عرب اور مسلمان ملکوں بشمول خطے کے سب سے اہم ملک سعودی عرب سے تعلقات اور زیادہ بہتر ہو جائیں گے۔ اسرائیل کے متحدہ عرب امارات اور بحرین سے ‘ابراہم اکارڈ‘ کے تحت پہلے ہی تجارتی اور سفارتی تعلقات قائم ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کے وزیر دفاع بنی گینز نے اسرائیل کے ارکان پارلیمان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس مشترکہ فضائی دفاعی نظام کو ’مڈل ایسٹ ایئر ڈیفنس الائنس‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کے تحت پہلے ہی تعاون شروع ہو چکا ہے۔
اسرائیل کی سرکاری دستاویز کا حوالے دیتے ہوئے روئٹرز نے لکھا ہے کہ اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا کہ ’گذشتہ ایک سال سے میں پینٹاگون اور امریکہ انتظامیہ میں اپنے پاٹنرز (ساتھیوں) کے ساتھ ایک وسیع پروگرام کی رہنمائی کر رہا تھا جس سے اسرائیل اور خطے کے ملکوں کے درمیان تعاون میں اضافہ ہو گا۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے کشیدہ رہے ہیں۔ صدر جو بائیڈن کے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔
امریکہ صدر جو بائیڈن اور ان کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی کا جمال خاشقجی کے قتل پر، جس کا الزام سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر عائد کیا جاتا ہے، بڑا سخت موقف رہا ہے۔
حال ہی میں واشنگٹن میں جس سڑک پر سعودی سفارت خانے کی عمارت قائم ہے اس کو جمال خاشقجی کا نام دے دیا گیا ہے۔
جولائی کی 16 تاریخ کو امریکی وزارتِ دفاع کی ایک پریس بریفنگ میں جب دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس سے سڑک کو جمال خاشقجی کے نام سے منسوب کرنے کے حوالے سے تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انھوں نے صاف انکار کر دیا تھا۔
صدر جو بائیڈن تیرہ جولائی سے سولہ جولائی کے سعودی عرب کے دورے کے دوران خلیج رابطہ کونسل ’جی سی سی‘ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
جی سی سی کے اس اجلاس میں عراق، مصر اور اُردن کے سربراہان کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے اور اس ہی وجہ سے اسے جی سی سی پلس تھری کا نام دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے شہر جدہ میں جی سی سی پلس تھری کا اجلاس منعقد کیا جائے گا۔












