اسرائیل، متحدہ عرب امارات کے معاہدے کے پیچھے فلسطینی شہری کے کردار پر مشرق وسطی میں غم و غصہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اسی سال بہت جلد متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے۔ اسرائیل کی ایک ویب سائٹ ٹائمز آف اسرائیل پر جمعہ کو شائع ہونے والی ایک خبر میں اسرائیل وزیر اعظم نتن یاہو کی طرف سے جلد متحدہ عرب امارات دورہ کرنے کی خواہش کے اظہار کی اطلاع دی گئی تھی۔
اس خبر کے مطابق نتن یاہو نے متحدہ عرب امارات میں بسنے والے یہودی برادری کے رہنماؤں سے 20 اگست کو ایک ویڈیو کال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت جلد متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے۔ یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے صرف ایک ہفتے قبل ہی اسرائیل سے معمول کے تعلقات استوار کرنے کا اعلان تھا۔
نتن یاہو نے کہا کہ 'امن ریاستِ اسرائیل کے لیے اچھا ہے، ہمارے لوگوں کے لیے بلکہ خطے کے تمام لوگوں کے لیے اچھا ہے۔'
یہودی رہنماؤں سے بات چیت میں انہوں نے کہا 'کہ میں امید کرتا ہوں کہ اس سال جلد ہی آپ سے ملنے کے لیے آؤں گا۔ اگر ہم نے کورونا وائرس کی وباء پر قابو پا لیا تو آپ سے مصافحہ بھی کر سکوں گا۔'
اس ویب سائٹ کے مطابق یہوری برادری نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امارات، اسرائیل معاہدہ ایک فلسطینی شہری کی وجہ سے ممکن ہوا؟
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کو، جسے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے، ممکن بنانے میں کئی اہم بین الاقوامی شخصیات کے ساتھ فلسطینی تنظیم الفتح سے منحرف ہونے والے ایک فلسطینی کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ محمد دہلان نامی اس شخص کو فلسطین میں ایک غدار قرار دیا جا رہا ہے اور اس معاہدے کو ممکن بنانے میں ان کے کردار پر فلسطینیوں میں سخت غصہ پایا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
محمد دہلان مشرق وسطیٰ میں اس وقت سب سے اہم اور طاقتور ترین شخص، متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان عرف ایم بی زیڈ کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 اگست کو اچانک متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان باہمی سفارتی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق ہونے کا اعلان کیا۔
فلسطین میں اس معاہدے کے خلاف زبردست عوامی رد عمل سامنے آیا اور مشتعل مظاہرین نے غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں ٹرمپ، ایم بی یڈ اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے پوسٹر نذر آتش کیے اور ان کو پیروں تلے روندا۔ غرب اردن اور رام اللہ میں دہلان کے خلاف بھی غصے کا اظہار اس انداز میں کیا گیا۔
اے ایف پی نے بتایا کہ 58 سالہ محمد دہلان غزہ میں سیکیورٹی کے سربراہ تھے لیکن سنہ 2007 میں جس وقت محمد عباس کی الفتح پارٹی کو حماس نے غزہ سے بے دخل کر دیا اس وقت انہوں نے محمد عباس کی تنظیم سے اپنی راہیں جدا کر لیں۔
چار سال بعد انھیں الفتح سے تخریب کاری کے الزآمات میں نکال دیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے جب ان کے گھر چھاپہ مارا یہ وہ وقت تھا جب انہوں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
وہ متحدہ عرب امارات منتقل ہو گئے اور یھیں انہوں نے سکونت اختیار کر لی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلسطین میں الفتح اور حماس دونوں نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے معاہدے کی مذمت کی ہے اور اس فلسطینی عوام سے دھوکہ قرار دیا ہے۔
وہ اس معاہدے کے پیچھے محمد دہلان کا ہاتھ دیکھتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات ربع صدی میں پہلا عرب ملک ہے جس نے یہودیوں کی ریاست سے تعلقات استوار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل 1994 میں اردن نے اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے۔
رام اللہ میں سیکیورٹی سروس کے ترجمان عدنان الضمری نے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ وہ اس میں ملوث ہے۔‘
’معاہدے میں کردار بے معنی ہے‘
اس کے برعکس اسرائیل کے خفیہ ادارے شن بیت کے ایک سابق سربراہ یاکوف پیری کا کہنا ہے دہلان اس معاہدے کرانے کے پیچھے نہیں ہیں۔
وہ دہلان کو اس وقت سے جانتے ہیں جب وہ غزہ میں سیکیورٹی کے سربراہ تھے اور انہیں مستقل بنیادوں پر دہلان سے رابطہ رکھنا پڑتا تھا اور اس کے بعد دونوں ذاتی طور پر ایک دوسرے سے رابطے میں رہے۔
پیری نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا ابو ظہبی میں اقتصادی امور پر مشیر کے طور پر وہ حکمران ایم بی زیڈ کے بہت قریب ہو گئے کیونکہ وہ اسرائیل کو بھی بہت قریب سے جانتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ دہلان پر معاہدہ کرانے کی ذمہ داری ڈال رہے ہیں وہ حقیقت بیان نہیں کر رہے گو کہ معاہدے سے قبل متحدہ عرب امارات جان والے بہت سے اسرائیل اہلکاروں سے ان کی ملاقات ہوئی تھی۔










