متحدہ عرب امارات، اسرائیل معاہدہ خلیجی ریاستوں کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, فرینک گارڈنر
    • عہدہ, بی بی سی سکیورٹی نامہ نگار

’تاریخ ساز‘۔ ’گیم چینجر‘۔ ’دھوکہ‘۔ اس مہینے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے اُس حیران کن اعلان کو طرح طرح کے القابات سے نوازا جا رہا ہے جس کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اب اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات قائم کرے گا۔

سنہ 1979 میں مصر کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے قائم کیا گیا جس کے بعد اردن نے ایسا ہی معاہدہ سنہ 1994 میں کیا۔

ان دونوں کے بعد اب یو اے ای تیسرا عرب ملک بن گیا ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات باضابطہ طور پر قائم کر لیے ہیں اور یہ خلیج کی چھ عرب ریاستوں میں پہلا ملک ہے جس نے ایسا کیا ہے۔

توقع ہے کہ مستقبل میں عمان، بحرین اور ممکنہ طور پر مراکش بھی ایسا قدم اٹھائیں۔

یہ بھی پڑھیے

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین خفیہ طور پر تعلقات سالوں سے قائم تھے لیکن اس حالیہ معاہدے کی تفصیلات آخر وقت تک خفیہ رکھی گئی تھیں۔

متحدہ عرب امارات کی ابو ظہبی میں وزارت خارجہ سے اس بارے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ہی خطے کے کسی اور عرب ملک سے اس بارے میں بات کی گئی۔

اس اعلان سے ہر کوئی سکتے میں آ گیا لیکن سب سے زیادہ جھٹکا فلسطینیوں کو لگا جنھوں نے اس فیصلہ کو ’پیٹھ میں خنجر گھونپ دینا‘ قرار دیا کیونکہ ان کو ابھی تک اپنی الگ ریاست نہیں دی جا رہی اور نہ ہی اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

اسرائیل اور عمان

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنعمان کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ روابط نہیں ہیں لیکن اعلیٰ حکام ایک عرصے سے رابطے میں ضرور ہیں

لندن میں واقع انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے ایمل ہوکائیم نے اس معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’اس میں فلسطینیوں کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔‘

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور حقیقی طور پر حکمرانی کرنے والے شیخ محمد بن زید کے لیے یہ معاہدہ ایک جوئے سے کم نہیں ہے لیکن اس بازی میں ان کی جیت کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔

اس معاہدے میں جو واضح خطرہ ہے وہ یہ کہ اس فیصلے سے خطے میں یو اے ای مسلمانوں میں کافی غیر مقبول ہو جائے گا اور سوشل میڈیا پر تو انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور لوگ الزام لگا رہے ہیں کہ ’وہ بک گئے۔‘

اور اگر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو مغربی کنارے کو مزید الحاق نہ کرنے کے وعدے سے مکر گئے تو نہ صرف یہ اماراتی شیخ کے لیے بہت شرمناک ہو گا بلکہ ممکن ہے کہ یہ معاہدے ہی ختم ہو جائیں۔

لیکن دوسری جانب ایسا کرنے کا مطلب ہے کہ وائٹ ہاؤس سے بھی تنقید کو دعوت دینا اور ویسے بھی، خلیجی ریاستوں میں عام عوام کی جانب سے کیے جانے والا مظاہرہ ریاست کو نہیں بھاتا اور وہ اسے برداشت نہیں کرتیں۔

البتہ ایمل ہوکائیم کہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں امارات کے لیے خطرے شاید کم ہیں۔

’یہ معاہدہ خطے میں امارات کی ساکھ کو متاثر نہیں کرے گا۔ یہ اس علاقے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کی عکسی کرتا ہے اور اس کی مدد سے یو اے ای کی امریکہ میں بہت پذیرائی ہوگی جو کہ امارات کی یمن کی جنگ میں شرکت کرنے سے متاثر ہوئی تھی۔‘

یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ اس معاہدے کے محرکات کیا ہیں اور اس میں یو اے ای کے لیے کیا فائدہ ہے جو کہ بذات خود ایک قدرے نئی ریاست ہے اور اس کا قیام صرف 1971 میں ہوا تھا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور ابو اظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید

،تصویر کا ذریعہReuters/Getty Images

،تصویر کا کیپشناسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور ابو اظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید

اگر بات مختصر کی جائے، تو اس کے دو جواب ہیں: ٹیکنالوجی اور سٹریٹیجک مفاد۔

سعودی عرب اور بحرین سمیت متحدہ عرب امارات کو علاقائی پڑوسی ایران پر نہ صرف اعتبار نہیں ہے، بلکہ وہ شاید اس سے ڈرتے بھی ہیں۔

خلیجی ممالک کے رہنما خطے کا نقشہ دیکھتے ہیں اور انھیں یہ نظر آتا ہے کہ ایران متعدد پابندیوں کے باوجود کس طرح اپنے مفادات دیگر ممالک میں مستحکم کر رہا ہے اور مشرق وسطی میں کیسے اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں، اور ایران کے پراکسی گروہ اب عراق، شام اور یمن میں موجود ہیں۔

اسرائیل کو بھی اسی نوعیت کے خدشات ہیں، خاص طور پر جب بات ایران کے جوہری پروگرام کی ہو۔

پھر اس کے علاوہ ایک ’سیاسی اسلام‘ کا تصور ہے، جس کا پرچار اخوان المسلمین کرتے رہے ہیں اور چند خلیجی رہنما اس تصور کو اپنی بادشاہت کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔

اخوان المسلمین کو سب سے زیادہ ناپسند کرنے والے فرد ہیں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یو اے ای نے لیبیا میں اخوان کے خلاف لڑنے والی قوتوں کی مدد کی ہے۔

زمینی حقائق کو دیکھیں تو اس حکمت عملی کی مدد سے مشرق وسطی کے مختلف قدامت پسند ممالک میں ایک غیر اعلانیہ شراکت داری قائم ہوگئی ہے اور اس میں اب اسرائیل بھی شامل ہے جس کی مدد سے ان کی خفیہ ایجنسی کی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

پھر دوسرا عنصر ہے ٹیکنالوجی کا جس میں شامل ہے بائیو ٹیکنالوجی، صحت، دفاع، اور سائبر نگرانی۔ یو اے ای پہلے ہی اسرائیل کے بنائے ہوئے جاسوسی کے پروگرام اپنے شہریوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

اسرائیل خطے میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے سب سے آگے ہے۔ اور اگر یو اے ای کے ساتھ ان کا معاہدہ کامیاب ہو گیا تو یہ عرب امارات کے لیے مستقبل میں بہت کارآمد ہو گا اور اس سے ان کے اپنے شہریوں کو فائدہ پہنچے گا۔

متحدہ عرب امارات

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمجھے یاد ہے کہ میں نے مسقط میں اسرائیل کے دفتر ان سے موقف لینے کے لیے فون کیا تو وہاں فون اٹھانے والے نے عبرانی زبان میں سلام کیا، لیکن فوراً ہی اس کو بدل کر مجھے عربی زبان میں سلام کیا

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اسرائیل نے خطے کے دیگر ممالک سے اپنے مراسم قائم کرنے کی کوشش کی ہو۔

سنہ 1995 میں اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن، جنھیں کچھ عرصے کے بعد ایک انتہا پسند یہودی نے قتل کر دیا تھا، نے اپنے وزیر خارجہ شمعون پیریز کو عُمان اور قطر ایک سرکاری دورے پر بھیجا۔

اس کے بعد اسرائیل نے ان دونوں ممالک میں اپنے تجارتی دفاتر قائم کیے لیکن اس کی زیادہ تشہیر نہیں کی۔

مجھے یاد ہے کہ میں نے مسقط میں اسرائیل کے دفتر ان سے موقف لینے کے لیے فون کیا تو وہاں فون اٹھانے والے نے عبرانی زبان میں سلام کیا، لیکن فوراً ہی اس کو بدل کر مجھے عربی زبان میں سلام کیا۔

لیکن یہ تجارتی سرگرمیاں بنیامن نتن یاہو کے وزیر اعظم بننے کے بعد ختم ہو گئیں جب اسرائیل نے لبنان میں دخل اندازی شروع کی اور فلسطینیوں کی جانب سے دوسرے انتفادہ کا آغاز ہوا۔

لیکن اب حالیہ سالوں میں ایران کے بڑھتے ہوئے عزائم کی روشنی میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں تعلقات تیز رفتاری سے بڑھے ہیں۔

بہت ممکن ہے کہ مستقبل میں اگر اسرائیل اور امارات کے معاہدے میں کوئی رخنہ نہ پڑے تو بحرین، عُمان اور قطر بھی متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات قائم کریں۔

لیکن سعودی عرب شاید ایسا فوری طور پر نہ کر سکے۔

یہ سنہ 2002 کی بات ہے جب اس وقت کے سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے ایک امن منصوبہ بیروت میں پیش کیا تھا جس کے مطابق عرب ممالک اسرائیل کی حیثیت کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار تھے بشرطیکہ اسرائیل اپنی سرحد 1967 میں ہونے والی جنگ سے پہلے والی حدود تک واپس لے جائے۔

اس تجویز سے اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن کچھ ہی دن بعد حزب اللہ نے بمباری شروع کر دی اور کسی بھی قسم کے مذاکرات ہونے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔

آج مشرق وسطیٰ ایک مختلف جگہ ہے اور جو بات ماضی میں ناقابل یقین لگتی تھی، اب حقیقت بن گئی ہے۔

ایک اماراتی اہلکار کہتے ہیں: ’یہ معلوم ہے کہ معاہدے کا اعلان ہونے کے بعد انٹرنیٹ پر یو اے ای میں سب سے زیادہ کیا سرچ کیا جا رہا تھا؟ لوگ ڈھونڈ رہے تھے ’اسرائیل میں ہوٹل‘۔ لوگ بے چین ہیں اسرائیل جانے کے لیے۔‘