تائیوان تنازعہ: جس نے ماضی میں دنیا کو جوہری خطرے سے دوچار کیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا نینسی پیلوسی کا تائی پے کا دورہ آبنائے تائیوان کے چوتھے بحران کا سبب بن سکتا ہے؟
ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ایوان نمائندگان کی صدر کے اس جزیرے کے دورے، جسے چین اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے، نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی کو اس سطح تک بڑھا دیا ہے جو کئی دہائیوں سے نہیں دیکھی گئی تھی۔
’تائیوان کی متحرک جمہوریت کی حمایت کے لیے امریکہ کی غیر متزلزل وابستگی‘ کو ظاہر کرنے کے لیے پیلوسی کا چیلنج جزیرے کے آس پاس کے سمندر میں چینی فوجی مشقوں سے پورا ہوا ہے، جس کے لیے وہ تائیوان کے علاقائی پانیوں تک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انتہائی کشیدگی کے بین الاقوامی تناظر میں، بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ دونوں ممالک ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں جو ماضی کی طرح سفارتی، سیاسی اور یہاں تک کہ فوجی بحران کا باعث بنے گی۔
آئیے جانتے ہیں کہ تائیوان کے معاملے پر دونوں ممالک اب تک کے تین بڑے بحرانوں سے کیسے گزرے ہیں؟
پہلا بحران (1954-1955)
کوریا کی جنگ کے فوراً بعد شروع ہونے والے اس پہلے بحران میں جب امریکہ نے محسوس کیا کہ آبنائے تائیوان، جسے تب ’فارموسا آبنائے‘ کہا جاتا ہے، پر غیر جانبدار رہنا چاہیے۔
تب چینی رہنما چیانگ کائی شیک 1949 میں اس وقت تائیوان فرار ہو گئے تھے جب ان کے ساتھی، کومنتانگ قوم پرست، ماؤ زے تنگ کے کمیونسٹ کے خلاف چینی خانہ جنگی ہار گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرزمین پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے پرعزم، کومنتانگ نے اگست 1954 میں چینی سرزمین کے ساحل سے بالکل دور Quemoy اور Matsu کے چھوٹے جزیروں پر اپنی فوجیں تعینات کیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عوامی جمہوریہ چین (PRC) کا ردعمل ان پر شدید بمباری کرنا تھا۔ یہ تنازعہ دوسرے جزیرہ نما تک پھیل گیا جن پر قوم پرست چین (جمہوریہ چین) کا بھی کنٹرول تھا جس میں دو امریکی بھی ہلاک ہوئے۔
اس خوف سے کہ چینی کمیونسٹ تائیوان پر بھی قبضہ کر لیں گے اور ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ مضبوط کر لیں گے، واشنگٹن نے تائی پے کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے۔
یہ بحران اس وقت ختم ہوا جب امریکہ نے عوامی سطح پر تائیوان کے دفاع کے لیے PRC کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی تیاری کا اعلان کیا۔ دوسری جانب سوویت یونین، جس نے کمیونسٹ بیجنگ کی حمایت کی، نے ان خطرات کے خلاف جوہری ردعمل کے طور پر کام کرنے کی خواہش کے کوئی آثار نہیں دکھائے۔
اگرچہ دونوں جماعتوں نے مذاکرات ختم کر دیے، لیکن تنازعہ غیر فعال رہا اور کمیونسٹ اور قوم پرست چین دونوں نے اگلے تین سالوں کو دوبارہ مسلح ہونے کے لیے استعمال کیا۔ جوہری خطرے کا سامنا کرتے ہوئے بیجنگ نے بھی 1955میں اپنا جوہری پروگرام شروع کیا۔
دوسرا بحران (1958)
ماؤ زے تنگ نے 1958 میں نیشنلسٹ فوجیوں کو نکالنے اور جزائر پر کنٹرول حاصل کرنے کے ارادے سے کوئیموئے اور ماتسو پر دوبارہ بمباری شروع کی۔
تنازعہ ایک بار پھر شروع ہوا اور امریکی صدر آئزن ہاور نے محسوس کیا کہ اگر کمیونسٹ اس چھوٹے جزیرے پر قبضہ کر لیں گے تو وہ تائیوان پر بھی حملہ کر سکتے ہیں۔ انھوں نے آر او سی کے فوجیوں کی حمایت کا فیصلہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے 1954 میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کے تحت آر او سی کی مدد کی درخواست کا جواب دیا۔
جاپان میں مقیم امریکی بحریہ کے ساتویں بحری بیڑے کو تقویت ملی، اور اس کے جہازوں نے نیشنلسٹ حکومت کو جزائر کی سپلائی لائنوں کی حفاظت میں مدد کی۔ امریکی فضائیہ کے کئی دستے بھی تائیوان میں آباد ہو گئے۔
جوہری خطرہ ایک بار پھر منڈلانے لگا تو کمیونسٹ چین نے بمباری ختم کر دی۔
آخر کار دونوں فریق ایک دلچسپ معاہدے پر پہنچ گئے۔ ایک ایسا معاہدہ جس نے تنازعے کو بڑھنے سے روکا۔
یہ صورت حال 1979 تک جاری رہی، جب امریکہ نے کمیونسٹ عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کر لیا اور بیجنگ حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے۔
اسی سال امریکی کانگریس نے تائیوان ریلیشنز ایکٹ پر بھی دستخط کیے، جو آج بھی نافذ العمل ہے اور جس کے ذریعے واشنگٹن نے جزیرے کی حکومت کو حملے کی صورت میں دفاع کے لیے ضروری آلات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
برسوں سے، اسی قانون نے چین کو اس علاقے کے الحاق سے، اور تائی پے کو یکطرفہ طور پر آزادی کا اعلان کرنے سے روکنے کے لیے ’اسٹرٹیجک ابہام‘ قائم رکھا ہے۔
تیسرا بحران (1995-1996)

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب تک کا آخری بڑا بحران 1995 میں اس وقت کے تائیوان کے صدر لی ٹینگ ہوئی کے نیویارک کی کورنیل یونیورسٹی کے دورے سے شروع ہوا، جہاں وہ ایک طالب علم تھے۔
چین نے اس دورے کو ’ون چائنا‘ کے تصور کا احترام کرنے کے اپنے عزم کے ساتھ دھوکہ دہی کے طور پر لیا، جس کے ذریعے صرف بیجنگ کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے جا سکتے ہیں نہ کہ اس علاقے کے ساتھ جس کو وہ ’بدمعاش صوبہ‘ سمجھتا ہے۔
یہی دلیل چین اب نینسی پلوسی کے تائیوان کے دورے پر بھی استعمال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
چین نے اس کا جواب کئی مہینوں کی فوجی مشقوں کے ساتھ دیا جس میں تائیوان کے پانیوں میں میزائل بیٹریاں لانچ کی گئیں اور جزیرے پر بڑے حملے کی مشق بھی کی گئی۔
جواب میں امریکہ نے ویتنام جنگ کے بعد ایشیا میں سب سے بڑی فوجی تعیناتی کی اور امریکی جنگی جہازوں کو آبنائے تائیوان منتقل کر دیا گیا۔
اگلے سال 1996 کے صدارتی انتخابات سے پہلے کے دنوں میں، بیجنگ نے میزائلوں کا ایک اور دور چلا کر تائیوان کے لوگوں کو لی ٹینگ ہوئی کو ووٹ دینے سے باز رکھنے کے لیے ڈرانے کی کوشش کی۔
مگر وہ حکمت عملی کام نہیں آئی۔ لی نے 54 فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی، لیکن دونوں طاقتیں فوجی تصادم کے بہت قریب تھیں۔












