تائیوان تنازع: امریکہ چین پر گہری نظریں جمائے ہوئے ہے، امریکی جنرل

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیدار جنرل مارک ملے کا کہنا ہے کہ تائیوان پر چین کے فوری حملے کا کوئی امکان نہیں ہے مگر امریکہ بہت قریب سے اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
جنرل مارک ملے نے بی بی سی کو بتایا کہ چین واضح طور پر حملے کے لیے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے میں مگن ہے جو کسی بھی وقت آگے چل کر تائیوان پر حملہ کر سکتا ہے۔ امریکہ کے مطابق چین کا ایسا کرنے کا فیصلہ سیاسی نوعیت کا ہوگا۔
چین کا کہنا ہے کہ تائیوان چین سے ٹوٹ کر الگ ہونے والا ایک صوبہ ہے، جسے ہر صورت چین سے اتحاد کرنا چائیے وگرنہ ضرورت پڑنے پر طاقت کے ذریعے بھی ایسا کیا جا سکتا ہے۔
چین نے امریکہ پر تائیوان کی آزادی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور ایسی کسی بھی کوشش کو سختی سے کچلنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس وقت امریکہ تائیوان کا سب سے طاقتور اتحادی ہے، جس کا حال ہی میں چین کے ساتھ کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چین کئی جنگی طیارے تائیوان کے فضائی دفاعی علاقے میں بھیج رہا ہے، جبکہ امریکہ نے تائیوان کے پانیوں میں بحری جہاز بھیجے ہیں۔
مئی میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ چین تائیوان کے قریب اپنے جنگی طیارے اڑا کر خطرے سے کھیل رہا ہے۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر اس جزیرے پر حملہ ہوا تو وہ اس کی عسکری طور پر بھی حفاظت کریں گے۔
بیجنگ نے امریکہ پر تائیوان سے متعلق اپنے وعدے کی خلاف ورزی اور چین کے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے جواب دیا، اور کہا کہ ملک تائیوان کو باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کرنے سے روکنے کے لیے چین جنگ سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ہم چین پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں: امریکہ
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ان کے خیال میں چین تائیوان پر حملہ کرے گا پر امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملے نے بی بی سی کو بتایا کیا، ‘کرسکتا ہے، کرنا چاہیے، یا کرے گا‘ یہ اہم الفاظ ہیں۔
‘صلاحیت کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ چین واضح طور پر اس کی تیاری کر رہا ہے۔ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین کے صدر شی نے عوامی فورمز میں اس بات کا ذکر کیا ہے، انھوں نے تقاریر میں بھی واشگاف انداز میں کہا کہ انھوں نے پی ایل اے (چین کی پیپلز لبریشن (فوج) کو چیلنج دیا ہے کہ وہ تائیوان پر کسی بھی وقت حملہ کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔
امریکی جنرل نے چین سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ چاہے وہ (حملہ) کریں گے یا نہیں، یہ ایک سیاسی انتخاب ہے، یہ ایک پالیسی کا انتخاب ہے، یہ اس پر منحصر ہو گا کہ چین اس معاملے پر اس وقت خطرے اور فائدے کے توازن کو کیسے دیکھتا ہے۔
جنرل مارک ملے نے مزید کہا کہ ‘اس وقت کسی بھی چیز کے بارے میں کوئی اشارہ یا انتباہ نہیں ہے۔ لیکن میں پھر کہوں گا ہم اسے بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔‘
امریکہ کے تائیوان کے ساتھ کوئی باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن وہ اپنے ‘تائیوان ریلیشنز ایکٹ‘ کے تحت اسے ہتھیار فروخت کرتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو جزیرے کو اپنے دفاع کے لیے وسائل ضرور فراہم کرنا ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اس وقت چین کے ساتھ بھی رسمی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے اور سفارتی طور پر چین کے ایک چین پالیسی کی بھی حمایت کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTAIWAN PRESIDENTIAL OFFICE
چین جنگ کو خطرناک سمجھتا ہے
سنگاپور میں بی بی سی کی رپورٹر ٹیسا وونگ کا تجزیہ
ایک بڑا خوف یہ ہے کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو جنگ شروع ہو جائے گی۔ بیجنگ ماضی میں کہہ چکا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ طاقت کے ذریعے وہ اس جزیرے کو واپس لے گا۔
لیکن زیادہ تر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فی الحال ایسا ممکن نہیں ہے۔
اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا چین اس حملے میں کامیاب ہونے کی فوجی صلاحیت رکھتا ہے اور تائیوان اپنے فضائی اور سمندری دفاع کو کافی حد تک بڑھا رہا ہے۔
لیکن بہت سے لوگ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ بیجنگ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ایسا اقدام بہت مہنگا اور تباہ کن ہو گا۔۔ نہ صرف چین کے لیے، بلکہ دنیا کے لیے بھی۔
چین کا مستقل موقف یہ رہا ہے کہ وہ تائیوان کے ساتھ ‘دوبارہ پرامن اتحاد‘ چاہتا ہے۔۔ اور یہ کہ وہ صرف اس صورت میں فوجی کارروائی کرے گا جب اسے کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس اشتعال انگیزی کا ایک محرک ممکنہ طور پر تائیوان کا باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کرنا ہوگا۔ لیکن یہ وہ چیز ہے جس سے تائیوان کی صدر سائی انگ وین نے سختی سے گریز کیا ہے، تاہم یہ اور بات ہے کہ ان کا اصرار ہے کہ وہ پہلے سے ہی ایک خودمختار ریاست ہیں۔
زیادہ تر تائیوان اس پوزیشن کی حمایت کرتے ہیں، جسے ‘سٹیٹس کو‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اگرچہ تیزی سے اب ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ آزادی کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔
اسی طرح، امریکہ ایشیا میں ایک مہنگی فوجی مہم میں شامل ہونے سے کترا رہا ہوگا اور واشنگٹن نے بار بار اشارہ دیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا۔
یہ بھی پڑھیے
چین اور تائیوان: بنیادی باتیں
- چین اور تائیوان کے تعلقات خراب کیوں ہیں؟
چین اور تائیوان سنہ 1940 کی دہائی میں خانہ جنگی کے دوران تقسیم ہو گئے تھے، لیکن بیجنگ کا اصرار ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو طاقت کے ذریعے کسی وقت اس جزیرے پر دوبارہ قبضہ کر لیا جائے گا۔
- تائیوان کی حکومت کیسی ہے؟
اس جزیرے کا اپنا آئین، جمہوری طور پر منتخب رہنما، اور اس کی مسلح افواج میں تقریباً 300,000 فعال فوجی ہیں۔
- تائیوان کو کون پہچانتا ہے؟
صرف چند ممالک تائیوان کو تسلیم کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اس کے بجائے بیجنگ میں چینی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں۔ امریکہ کے تائیوان کے ساتھ کوئی باضابطہ تعلقات نہیں ہیں لیکن اس کے پاس ایک قانون ہے جس کے تحت اس جزیرے کو اپنے دفاع کے لیے وسائل فراہم کرنا شامل ہے۔











