روس یوکرین جنگ: امریکہ نے یوکرین کو جنگی طیارے بھجوانے کی پولش تجویز کیوں مسترد کی

Avión MiG-29

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپولینڈ نے امریکی طیاروں کے بدلے اپنے روسی ساختہ مِگ 29 طیارے امریکہ کے حوالے کرنے کی پیشکش کی ہے

یوکرین اپنے مغربی اتحادیوں سے بار بار جنگی طیارے مہیا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے منگل کو ویڈیو لنک کے ذریعے برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ ’تیرہ روز سے ہم سے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ وہ تیرہ روز سے ہمیں کہہ رہے ہیں کہ وہ فضا میں ہماری مدد کریں گے، اور وہاں جہاز ہوں گے۔‘

لیکن یوکرین کو صرف طیاروں کی ضرورت نہیں بلکہ مِگ 29 جیسے روسی ساختہ طیاروں کی ضرورت ہے جنہیں یوکرینی پائلٹ اڑا سکتے ہیں۔

روسی ساختہ جنگی طیارے صرف چند یورپی ممالک کے پاس ہیں جو ماضی میں کمیونسٹ بلاک کا حصہ تھے۔

Aviones

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپولینڈ کے علاوہ بلغاریہ، سلواکیہ اور رومانیہ کے پاس بھی روسی ساختہ طیارے موجود ہیں

پولش تجویز مسترد

یوکرین کے پڑوسی ملک پولینڈ نے منگل کے روز اپنے تمام مِگ طیاروں کو جن کی کل تعداد 28 ہے، جرمنی میں نیٹو کے ایئربیس رامسٹین پہنچانے کی پیشکش کی تھی۔ پولینڈ نے کہا تھا کہ وہ تمام جہازوں کو امریکہ کے حوالے کر دے گا اور وہ ان طیاروں کو یوکرین کو دے سکتا ہے۔

پولینڈ کا کہنا ہے کہ اس کو مِگ 29 طیاروں کے بدلے میں امریکی ساختہ طیارے فراہم کر دیے جائیں۔

پولینڈ نے نیٹو اتحاد کے دوسرے ممبر ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ بھی روسی ساختہ طیارے یوکرین کو دے دیں۔

پولینڈ کے علاوہ بلغاریہ اور سلواکیہ کے پاس بھی روسی ساختہ طیارے ہیں۔

لیکن امریکہ پولینڈ کی پیشکش کے بارے میں زیادہ پرجوش نہیں ہے اور سمجھتا ہے کہ یوکرین کو طیارے فراہم کرنا اچھا خیال نہیں ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ پولش تجویز سے پورے نیٹو اتحاد کے بارے میں تشویش بڑھ جاتی ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان نے کہا ’ہم اس مسئلے پر اپنے نیٹو اتحادیوں اور پولینڈ سے بات چیت کرتے رہے ہیں ۔۔۔ لیکن ہم نہیں سمجھتے کہ پولینڈ کی تجویز قابل عمل ہے۔‘

line

روس کا یوکرین پر حملہ: ہماری کوریج

line

پینٹاگون کے ترجمان نے کہا کہ کسی ایسے آپریشن کو انجام دینے کا کوئی ’معقول جواز‘ نہیں ہے۔

البتہ امریکہ کی نائب صدر کمالا ہیرس پولینڈ اور رومانیہ کے دورے کے دوران یوکرین کو جنگی طیارے فراہم کرنے کے حوالے سے بات چیت کریں گیں اور یہ معاملہ ان کے ایجنڈے پر ہے۔

مکمل جنگ کا خوف

امریکہ نیٹو کو روس کے ساتھ براہ راست جنگ سے بچانا چاہتا ہے۔

روس نے رواں ہفتے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ملک نے اپنے اڈے یوکرین کے حوالے کیے تو اسے یوکرین کی جنگ میں شریک تصور کیا جائے گا۔

پولینڈ کی تجویز کے مطابق مِگ 29 جرمنی میں امریکہ یا نیٹو کے ہوائی اڈے سے اڑ کر یوکرین کی فضائی حدود میں روسی افواج کے خلاف کارروائیاں کریں گے۔‘

ولادیمیر پوتن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنروسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ جو ملک بھی اپنے ہوائی اڈے یوکرین کے حوالے کرے گا روس اسے شریک جنگ تصور کرے گا

روس اس عمل کو نیٹو ملک کی جانب سے روس کے خلاف جارحانہ کارروائی تصور کر سکتا ہے جس سے اس کو اس جنگ کو وسیع کرنے کا بہانہ میسر آ سکتا ہے۔

مغرب میں اس وقت سب سے بڑا خوف روس کے یوکرین پر حملے کے مغربی یورپ تک پہنچنے کا خوف ہے۔ اور اس سے زیادہ قابل تشویش بات یہ ہے کہ یہ جنگ کہیں جوہری جنگ میں نہ بدل جائے۔.

’ہم سے مشاورت نہیں ہوئی‘

امریکہ کی جانب سے پولینڈ کی تجویز کو مسترد کرنے کی ایک وجہ پولینڈ کی جانب سے بغیر کسی مشاورت کے تجویز پیش کرنا ہے۔

امریکہ کی وزارت خارجہ کی ڈپٹی سیکرٹری وکٹوریہ نولینڈ نے کہا ہے کہ ماضی میں یوکرین کو طیارے مہیا کرنے کی تجویز پر کوئی مشاورت نہیں ہوئی ہے۔

یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے پولینڈ نے یوکرین کو اسلحہ فراہم کیا ہے لیکن یوکرین کو جنگی طیارے فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔

لیکن اب پولینڈ نے جو تجویز پیش کی ہے اس میں زیادہ ذمہ داری امریکہ پر ڈالی گئی ہے۔

جرمنی نے بھی پولینڈ کی تجویز سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پولینڈ کے طیاروں کو یوکرین کے حوالے کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

پولینڈ میں مہاجرین کی آمد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیوکرین کی جنگ سے متاثرہ یوکرینی باشندوں کی ایک بڑی تعداد پولینڈ پہنچی ہے

اس کے علاوہ نیٹو ممبران کو یہ بھی خدشہ ہے کہ یوکرین جو مسلسل روسی حملوں کی زد میں ہے اس کے پاس کوئی قابل استعمال ہوائی اڈہ بچا ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ تجویز ناقابل عمل ہے۔

رواں ہفتے امریکہ نے یوکرین کو اسلحے کی فراہمی تیز کر دی ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اپنے پیٹریاٹ میزائیلوں کو پولینڈ منتقل کر رہا ہے تاکہ امریکہ یا اس کے کسی اتحادی پر ممکنہ حملے کے خطرے سے نمٹا جا سکے۔