روس یوکرین تنازع: یوکرین میں پھنسا انڈین شہری جسے خود سے زیادہ اپنے ’درندوں‘ کی فکر ہے

،تصویر کا ذریعہGIRIKUMAR PATIL
جنگ زدہ یوکرین میں ایک انڈین ڈاکٹر گزشتہ ایک ہفتے سے اپنے گھر کے تہہ خانے میں اپنے دو پالتو جانوروں کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک کالی چیتی اور دوسرا تیندوا ہے۔
گیری کمار پٹیل نے ان جانوروں کو کیئو کے چڑیا گھر سے خریدا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان کے بغیر وہاں سے کہیں نہیں جائیں گے۔ گیری کمار پٹیل مشرقی یوکرین کے خطے ڈونباس کے ایک چھوٹے سے شہر سیویروڈونیسک میں گزشتہ چھ سال سے رہ رہے ہیں۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے گیری کمار کرفیو میں نرمی کے دوران صرف اپنے ان پالتو درندوں کیا کھانا خریدنے کے لیے اپنے چھوٹے سے تہہ خانے سے باہر نکلتے ہیں۔ نر تیندوے کی عمر 20 ماہ ہے جبکہ چیتی چھ ماہ کی ہے۔
گیری کمار نے بتایا کہ تیندوا اس لیے ایک نایاب نسل سے ہے کیونکہ وہ ایک نر چیتے اور مادہ تیندوے کے ملاپ سے پیدا ہوا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ وہ ان جانوروں کے لیے اب تک دنبے، ٹرکی اور مرغی کا 23 کلو گوشت قریبی دیہات سے چار گنا مہنگے داموں خرید چکے ہیں۔
گیری کمار نے بی بی سی کو بتایا 'میری یہ بڑی بلیاں تہہ خانے میں میرے ساتھ ہی رات گزارتی ہیں۔ ہمارے آس پاس کافی زیادہ بمباری ہوتی رہتی ہے۔ میری بلیاں خوف زدہ ہیں۔ یہ کم کھا رہی ہیں۔ میں انھیں چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔'
انھوں نے کہا کہ یہ دوسری جنگ ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں لیکن یہ زیادہ خوفناک ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے بتایا کہ وہ پہلے لوہانسک میں رہتے تھے جہاں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود روس کے حمایت یافتہ باغی سنہ 2014 سے یوکرینی فوج سے لڑ رہے ہیں۔ اس علاقے میں لڑائی کی وجہ سے ان کا گھر اور ریسٹورنٹ تباہ ہو گیا تھا۔
اس کے بعد وہ وہاں سے 100 کلومیٹر دور سیویروڈونیسک منتقل ہو گئے جہاں انھوں نے ایک نیا گھر اور اپنے نئے جانور خریدے اور طب کے شعبے میں کام کرنا شرع کیا۔
'اب میں ایک میدانِ جنگ میں پھنس گیا ہوں۔ اس مرتبہ میں واقعی بہت پریشان ہوں۔ میرے والدین مجھے مسلسل کال کر رہے ہیں کہ میں واپس گھر چلا جاوں لیکن میں اپنے جانوروں کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔'
گیری کمار پٹیل، جن کا تعلق انڈیا کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش سے ہے، بتاتے ہیں کہ انھوں نے 20 مہینے قبل کیئو کے چڑیا گھر سے ان دونوں جانوروں کو 35 ہزار امریکی ڈالر میں خریدا تھا۔

روس کا یوکرین پر حملہ: ہماری کوریج
بی بی سی لائیو پیج: یوکرین پر روس کا حملہ، تازہ ترین صورتحال

انھوں نے بتایا کہ چڑیا گھر والوں نے جانوروں کو اس صورت میں نجی ملکیت میں دینے کی اجازت دی تھی کہ انھیں خریدنے والے کے پاس انھیں رکھنے کے لیے مناسب جگہ ہو۔
انھوں نے ان دونوں جانوروں کی پیدائش کے سرٹیفیکٹ بھی دکھائے جو انھیں چڑیا گھر کی انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے تھے۔
گیری کمار پٹیل نے بتایا کہ وہ سنہ 2007 میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے یوکرین آئے تھے۔ سنہ 2014 سے وہ آرتھوپیڈک ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں اور اب سیویروڈونیسک میں ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرتے ہیں جو جنگ کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ پرائیوٹ پریکٹس بھی کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGIRIKUMAR PATIL
سیویروڈونیسک میں گیری کمار اپنے چھ کمروں کے دو منزلہ مکان میں رہتے ہیں جس میں ان جانوروں کے لیے ایک مخصوص جگہ بھی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ اپنے پالتو جانوروں پر خرچ کر دیتے ہیں، ان کے پاس تین کتے بھی ہیں۔ وہ اضافی آمدنی کے لیے اپنے یو ٹیوب چینلز بھی چلاتے ہیں جہاں وہ اپنی چیتی اور تیندوے کی ویڈیوز لگاتے ہیں۔ ان کے 85 ہزار سبسکرائبرز ہیں۔
'مجھے ہمیشہ سے ایسے درندوں میں دلچسپی رہی ہے، میں ساوتھ انڈین فلم انڈسٹری کے سٹار چرنجیوی کی ایک فلم میں چیتوں کے ساتھ مناظر سے بہت متاثر تھا۔'
گیری کمار کے والد ایک بینک مینیجر اور والدہ سکول ٹیچر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے جانوروں سے محبت کرتے ہیں اور اپنے گھر میں کتے بلیاں اور پرندے رکھا کرتے تھے۔
ہائی سکول کے زمانے میں وہ اداکاری کے بھی شوقین تھے اور تیلگو ڈراموں میں چھوٹے موٹے کردار بھی ادا کرتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ یوکرین میں بھی وہ کئی مقامی فلموں اور سیریز میں غیر ملکی کا کردار ادا کر چکے ہیں۔
گیری کمار نے کہا کہ ان کے گھر سے روس کی سرحد صرف 80 کلومیٹر دور ہے لیکن روسی فوج کی وجہ سے وہاں پہنچنا مشکل ہے۔ علاقے میں بجلی کی سپلائی اور انٹرنیٹ اکثر بند ہو جاتا ہے لیکن گیری کمار کسی نہ کسی طرح سوشل میڈیا پر باقاعدگی سے اپنی ویڈیوز پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔
'یہاں پر میں واحد انڈین ہوں اور رات کے وقت اس علاقے میں بالکل اکیلا ہوتا ہوں۔ میرے زیادہ تر پڑوسی یہاں سے جا چکے ہیں لیکن میں رکا رہوں گا۔'









