یوکرین جنگ: روسی بینکوں کی سوئفٹ نظام سے بے دخلی، مرکزی بینک کے بین الاقوامی اثاثے منجمند کرنے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, رسل ہاٹن
- عہدہ, بزنس رپورٹر، بی بی سی نیوز
یورپی یونین، امریکہ اور اتحادیوں نے یوکرین جنگ کے ردعمل کے طور پر روس کے چند بینکوں کو بین الاقوامی ادائیگی کے نظام سوئفٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ نیٹو ممالک کی جانب سے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر روس کے خلاف اقدامات سامنے آ رہے ہیں جن میں ایک فیصلہ یہ بھی ہے کہ روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمند کر دیے جائیں تاکہ روس بین الاقوامی مالیاتی ذخائر تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔
یہ اقدامات اب تک روس کے خلاف سخت ترین اقدامات تصور کیے جا رہے ہیں۔
امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور یورپی یونین کے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان فیصلوں کا مقصد یہ ہے کہ روس کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے دور کر دیا جائے۔
واضح رہے کہ روس تیل اور گیس کی برآمدات کے لیے سوئفٹ نظام پر انحصار کرتا ہے۔
یوکرین کے وزیر اعظم نے اس فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ اس وقت ان پابندیوں سے بہت مدد ملے گی۔
ادھر یورپین کمیشن کے صدر ارسلا وان ڈر لیئن کے مطابق روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمند کرنے سے ماسکو کی مالی صلاحیت بھی متاثر ہو گی۔
سوئفٹ کا نظام کیا ہے؟
سوئفٹ ایک ایسی عالمی مالیاتی گذرگاہ ہے جہاں سے با آسانی سرحدوں کے پار رقوم کی ادائیگی ہو سکتی ہے۔ یہ سوسائٹی فار ورلڈ وائڈ انٹر بینک فنانشل ٹیلیکمونیکش کا مخفف ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی اور یورپی بینکوں نے سنہ 1973 میں اس کی بنیاد رکھی اور اس کا ہیڈکوارٹر بیلجیئم میں ہے۔ دنیا کے 200 ممالک کے 11 ہزار بینک اور دوسرے ادارے اس نظام کے ساتھ منسلک ہیں۔
لیکن سوئفٹ کوئی عام روایتی بینک نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا پیغاماتی نظام ہے جو صارفین کو ادائیگی کے آنے یا جانے کی اطلاعات فراہم کرتا ہے۔
سوئفٹ کے نظام سے روزانہ کھربوں ڈالر حکومتوں اور کمپنیوں کو منتقل ہوتے ہیں اور اس نظام سے روزانہ چار کروڑ پیغامات جاری ہوتے ہیں۔
ان چار کروڑ پیغامات میں سے روس کو جانے والے پیغامات کی شرح ایک فیصد ہے۔
سوئفٹ کا مالک کون ہے اور اسے کون چلاتا ہے؟
سوئفٹ کو امریکی اور یورپی بینکوں نے مل کر بنایا تھا جو چاہتے تھے کہ کوئی ایک بینک ادائیگیوں کا اپنا نظام وضع کر کے اس پر اجارہ داری قائم نہ کر لے۔ اب اس نیٹ ورک کے ساتھ 2000 بینک اور مالیاتی ادارے جڑے ہوئے ہیں۔
نیشنل بینک آف بیلجیئم امریکہ کے فیڈرل ریزرو بینک سیمت دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے ساتھ مل کر اس کی نگرانی کرتا ہے۔
سوئفٹ کا کہنا ہے کہ اس کا پابندیوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور اس حوالے سے تمام فیصلے متعلقہ حکومتیں کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سوئفٹ اپنے ممبران کے لیے عالمی تجارت کو محفوظ اور ممکن بناتا ہے اور اس سے توقع نہیں کی جاتی کہ وہ تنازعوں میں کسی ایک فریق کی طرفداری کرے گا۔
البتہ ایران کو 2012 میں اس کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کی وجہ سے اس نظام سے علیحدہ کر دیا گیا تھا جس سے اس کی تیل کی فروخت آدھی رہ گئی اور بیرونی دنیا سے تجارت 30 فیصد کم ہو گئی۔
سوئفٹ سے نکالنے سے روس پر کیا اثر پڑے گا؟
سوئفٹ نظام سے نکالے جانے کی صورت میں روسی کمپنیوں کو رقوم کی ادائیگی مشکل ہو جائے گی جس سے اس کی توانائی اور زرعی برآمدات بری طرح متاثر ہوں گی۔
ایسی صورت میں بینکوں کو براہ راست ادائیگیاں کرنا ہوں گی جس پر اضافی اخراجات آئیں گے۔ اس طرح روسی حکومت کے محصولات میں کمی واقع ہو گی۔
روس کو ایک بار پہلے بھی سوئفٹ نظام سے نکالنے کی دھمکی دی جا چکی ہے جب اس نے سنہ 2014 میں کرائمیا کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔
اس کے جواب میں روس نے کہا تھا کہ اگر اسے سوئفٹ نظام سے علیحدہ کیا گیا تو وہ اسے اپنےخلاف جنگ کا اعلان تصور کرے گا۔
مغربی اتحادی روس کو سوئفٹ نظام سے نکالنے کی دھمکی سے آگے نہیں بڑھے تھے لیکن اس کے بعد روس نے بیرونی دنیا سے لین دین کا اپنا نظام وضع کیا جسے نیشنل پیمنٹ کارڈ سسٹم یا ’میر‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن بہت کم ممالک اسے استعمال کرتے ہیں۔

روس کو سوئفٹ سے نکالنے پر یورپ اتنا منقسم کیوں ہے؟
روس کو سوئفٹ نظام سے نکالنے سے ایسی کمپنیوں کو نقصان ہو گا جو روس سے کاروبار کرتی ہیں، خاص طور پر جرمن کمپنیاں۔
روس یورپی یونین کو قدرتی گیس اور تیل مہیا کرنے والا بڑا ملک ہے اور اس کا متبادل ڈھونڈنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ دنیا میں پہلے ہی تیل اور قدرتی گیس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور یورپی حکومتیں اس وقت روس سے تیل و گیس کی سپلائی میں رخنہ نہیں ڈالنا چاہتیں۔
جن کمپنیوں کو روس سے رقوم لینی ہیں انھیں ادائیگیوں کے کسی متبادل نظام کو ڈھونڈنا ہو گا۔ کچھ لوگوں کے خیال میں عالمی بینکاری کے نظام میں افراتفری کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
روس کے سابق وزیر خزانہ ایلکسی کدرن کے مطابق روس کو سوئفٹ نظام سے نکالے جانے کی صورت میں اس کی معیشت میں پانچ فیصد کمی آ جائے گی۔
لیکن روس کی معیشت پر دیرپا اثرات کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ روس اپنی ادائیگیوں کو چین جیسے ممالک کے ذریعے کر سکتا ہے جنھوں نے اس پر پابندیاں عائد نہیں کی ہیں۔ چین کے پاس عالمی ادائیگیوں کا اپنا نظام موجود ہے۔
امریکہ کے قانون سازوں کی جانب سے روس کو سوئفٹ نظام سے نکالنے کے مطالبے سامنے آ رہے ہیں لیکن صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کی اولین ترجیح دوسری پابندیاں ہیں کیونکہ روس کو سوئفٹ سے نکالنے سے دوسرے ممالک کی معیشتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
روس کو سوئفٹ نظام سے نکالنے کے لیے یورپی ممالک کی حمایت ضروری ہو گی اور کئی یورپی ممالک اپنی معیشت کو نقصان کے ڈر سے اس سے ہچکچا رہے ہیں۔











