یوکرین کے معاملے پر کشیدگی: روس پر نئی پابندیاں بڑی غلطی ہوگی، پوتن کی امریکی صدر بائیڈن کو تنبیہ

بائیڈن، پوتن، امریکہ اور روس کے صدور کے درمیان جمعرات کو 50 منٹ طویل بات چیت ہوئی

،تصویر کا ذریعہTHE WHITE HOUSE VIA REUTERS

،تصویر کا کیپشنامریکہ اور روس کے صدور کے درمیان جمعرات کو 50 منٹ طویل بات چیت ہوئی

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے امریکی ہم منصب جو بائیڈن کو متنبہ کیا ہے کہ یوکرین کے مسئلے پر نئی پابندیوں کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بُری طرح متاثر ہوسکتے ہیں۔

جمعرات کی شب بائیڈن کے ساتھ فون کال کے دوران پوتن نے کہا کہ روس پر نئی پابندیاں ’بہت بڑی غلطی ہوگی۔‘

دوسری طرف بائیڈن نے پوتن کو باور کرایا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یوکرین میں مداخلت کی صورت میں فوری طور پر ردعمل دیں گے۔

روس کے مطالبے پر ہونے والی یہ کال رواں ماہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اس نوعیت کی دوسری ایسی گفتگو ہے۔ یہ کال قریب ایک گھنٹہ طویل تھی۔

یہ روس کے ساتھ یوکرین کی مشرقی سرحد پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش ہے۔ یوکرین کے حکام کے مطابق وہاں ایک لاکھ روسی فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔

مغربی ممالک کو ان حالات پر تشویش ہے۔ امریکی صدر بائیڈن نے یوکرین پر حملے کی صورت میں پوتن کو ایسی پابندیوں کی دھمکی دی تھی ’جو انھوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہوں۔‘

تاہم روس نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین میں مداخلت کرنے جا رہا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی وہاں مشقیں کر رہے ہیں۔ روس کے مطابق وہ اپنے فوجیوں کو اپنی سرزمین پر کہیں بھی تعینات کر سکتا ہے۔

پوتن اور بائیڈن کے درمیان کیا بات چیت ہوئی؟

اگرچہ دونوں فریقین نے کال کے دوران ایک دوسرے کو متنبہ کیا تاہم روس میں خارجہ پالیسی کے مشیر نے رپورٹرز کو بتایا کہ پوتن اس بات چیت سے ’خوش‘ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے مستقبل میں بات چیت کے لیے ’اچھا پس منظر‘ ملا ہے۔

ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس بات چیت کا لہجہ ’سخت اور معنی خیز‘ تھا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کے مطابق ’صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ ان مذاکرات میں پیشرفت صرف تناؤ میں کمی کے ماحول میں ہوسکتی ہے۔‘

پوتن، بائیڈن

،تصویر کا ذریعہEPA

انھوں نے مزید کہا کہ بائیڈن نے واضح کیا ہے کہ ’اگر روس نے یوکرین میں مزید مداخلت کی تو امریکہ اور اس کے اتحادی فوری طور پر اس کا جواب دیں گے۔‘

اگلے ماہ جنیوا میں امریکی اور روسی اہلکاروں کے درمیان مذاکرات متوقع ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب سے سفارتی حل تلاش کرنے کی گزارش کی ہے۔

جمعرات کی کال سے قبل چھٹیوں پر اپنے پیغام میں پوتن نے بائیڈن سے کہا کہ وہ اس بات پر ’مطمئن‘ ہیں کہ دونوں ’باہمی احترام اور ایک دوسرے کے قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر‘ ایک ساتھ کام کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ماسکو میں پوتن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ ’بات چیت چاہتے تھے۔‘

’ہم سمجھتے ہیں کہ صرف مذاکرات سے ان مسائل کا فوری حل ممکن ہے جو ہمارے بیچ بہت زیادہ ہیں۔‘

Línea

واشنگٹن میں انتہائی تشویش

تارا مکلیوی، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کے اہلکار جب یوکرین پر بات کرتے ہیں تو وہ پُراطمینان لگتے ہیں۔ کم از کم اس وقت جب وہ ویسٹ ونگ سے باہر ہوں۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا ہے کہ صدر بائیڈن اور پوتن کے درمیان جمعرات کو ہونے والی بات چیت ’سنجیدہ اور بامعنی‘ تھی۔

اس اہلکار نے مذاکرات کے بارے میں بتاتے ہوئے نپے تلے الفاظ استعمال کیے اور انھوں نے جارحانہ انداز میں روس کے خطرے پر بات کی۔ لیکن پس پردہ وہ اور وائٹ ہاؤس کے دیگر لوگ یوکرین میں ممکنہ مداخلت کے حوالے سے انتہائی پریشان ہیں۔

ایک متعلقہ اہلکار نے مجھے بتایا کہ روس نے ’واضح‘ اشارہ دیا ہے۔ اسی لیے سفارتی کوششوں کو تیز کیا گیا ہے۔

جمعرات کی بات چیت کو وائٹ ہاؤس کے حکام ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔ لیکن صرف ابھی کے لیے۔ وہ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اگلے سال تک مذاکرات جاری رکھ سکیں۔

Línea

یوکرین کے وزیر دفاع نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ دسمبر کے آغاز میں روس نے سرحد کے قریب ہزاروں فوجی تعینات کیے جو جنوری کے اواخر میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری کر سکتے ہیں۔

روس نے کہا ہے کہ سرحد پر فوجیوں کی تعیناتی مغربی ممالک کے اتحاد نیٹو کے خلاف ایک حفاظتی اقدام ہے۔ روس نیٹو سے ضمانت چاہتا ہے کہ وہ مشرق میں مزید نہیں پھیلے گا اور مخصوص ہتھیار یوکرین اور اس کے ہمسایہ ممالک میں نہیں بھیجے جائیں گے۔

امریکہ نے اس مطالبے کو مسترد کیا ہے جسے وہ کریملن کی جانب سے آزاد ممالک کے مستقبل کو کنٹرول کرنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔

یوکرین کو تاحال نیٹو کی رکنیت کی پیشکش نہیں کی گئی لیکن اس کے مغربی اتحاد سے قریبی تعلقات ہیں۔

روس اور یوکرین کے درمیان سرحدی کشیدگی نئی بات نہیں۔ سنہ 2014 میں روس نے یوکرین کے جزیرہ نما کریمیا علاقے کو اپنے اندر شامل کر لیا تھا۔ اس سے قبل اس نے یوکرین کے مشرق میں علیحدگی پسند مسلح بغاوت کی حمایت کی تھی جس میں وقفے وقفے کے ساتھ جھڑپوں میں قریب 14 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں نے روس کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس کے فوجیوں نے دوبارہ یوکرین میں مداخلت کی تو اسے سخت معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔