دنیا کی قدیم ترین ممیوں کے ساتھ رہنا کیسا تجربہ ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہCourtesy University of Tarapacá
- مصنف, جین چیمبرز
- عہدہ, اریکا، چلی
اینا ماریہ نیتو کہتی ہیں کہ ’کچھ لوگوں کو کسی قبرستان کے اوپر رہنا عجیب لگ سکتا ہے مگر ہم اس کے عادی ہیں۔‘
وہ چلی کے ساحلی شہر اریکا کی رہائشی ہیں۔
پیرو کی سرحد پر واقع یہ شہر دنیا کے خشک ترین صحرا ایٹاکاما کے ریتلے ٹیلوں پر قائم ہے۔
16ویں صدی کے اوائل میں اس ساحلی شہر کے قیام سے قبل بھی یہ علاقہ ’چِنچورو‘ لوگوں کا مسکن تھا۔
جب رواں برس جولائی میں اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے ان لوگوں کی محفوظ کردہ سینکڑوں حنوط شدہ لاشوں کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تب یہاں بسنے والوں کی ثقافت بھی لوگوں کی نظر میں آئی۔
چنچورو ممیوں کو سب سے پہلے سنہ 1917 میں جرمن ماہرِ آثارِ قدیمہ میکس اوہل نے دستاویزی شکل دی تھی۔ انھیں ان میں سے کچھ محفوظ جسم ایک ساحل پر ملے تھے۔ مگر ان ممیوں کی عمر کے تعین میں کئی دہائیاں لگ گئیں۔
ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے ابتدائی طور پر معلوم ہوا کہ یہ ممیاں سات ہزار سال سے زیادہ پرانی ہیں، یعنی مشہور مصری ممیوں سے بھی دو ہزار سال زیادہ پرانی۔

چنچورو ثقافت کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہCourtesy University of Tarapacá

- یہ ثقافت سات ہزار قبلِ مسیح سے 1500 قبلِ مسیح تک پرانی ہے جب مٹی کے برتن بنائے جانے شروع نہیں ہوئے تھے
- یہ لوگ ساحل پر پھنسی مچھلیاں پکڑتے، شکار کرتے یا خوراک اکٹھی کرتے
- اس علاقے میں رہتے جو اب شمالی چلی یا جنوبی پیرو ہے
- یہ لاشیں نفیس اور خوش نظر آنے والے انداز میں حنوط کی گئیں
- مانا جاتا ہے کہ حنوط کرنے کی روایت گزر چکے لوگوں کی یاد تازہ رکھنے کے لیے شروع ہوئی

چنانچہ چنچورو ممیاں انسانوں کی حنوط کردہ لاشوں کا قدیم ترین ثبوت ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چنچورو ثقافت پر عبور رکھنے والے ماہرِ بشریات برنارڈو آریازا کہتے ہیں کہ یہ لوگ ارادی طور پر میتوں کو حنوط کیا کرتے تھے، یعنی یہ لوگ لاشوں کو صحرا میں رکھ کر ان کے خشک اور حنوظ ہونے کا انتظار کرنے کی بجائے ان پر خود کام کرتے۔
تاہم اس علاقے میں کچھ جگہوں پر قدرتی طور پر حنوط ہو چکی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔
آریازا کہتے ہیں کہ اس کام کے لیے جسم میں چھوٹے چیرے لگائے جاتے، اندرونی اعضا باہر کھینچ لیے جاتے اور کھال اتار لی جاتی جس کے بعد جسم کا اندرونی حصہ خشک ہونے لگتا۔
اس کے بعد چنچورو لوگ جسم کو قدرتی ریشوں اور ڈنڈیوں سے بھر دیتے تاکہ یہ سیدھا رہے، اس کے بعد بانس کے ٹانکوں کا استعمال کرتے ہوئے کھال کو واپس سی دیتے۔
وہ ممی کے سر پر گھنے سیاہ بال بھی چپکا دیتے، اور چہرے پر مٹی لیپ دیتے جبکہ آنکھوں اور منھ کے لیے جگہ کھلی چھوڑ دی جاتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہEye Ubiquitous
بالآخر جسم کو معدنیات سے حاصل قدرتی رنگوں کے ذریعے سیاہ یا سرخ کر دیا جاتا۔
آریازا کہتے ہیں کہ حنوط کرنے کے چنچورو طریقے مصری طریقوں سے نہایت مختلف ہیں۔
نہ صرف یہ کہ مصری حنوط کرنے کے لیے پٹیوں اور تیل کا استعمال کرتے تھے بلکہ صرف اشرافیہ کی لاشیں ہی حنوط کی جاتیں۔ دوسری جانب چنچورو افراد مردوں، عورتوں، کمسن بچوں، شیرخوار بچوں، اور یہاں تک کہ حمل کو بھی اُن کی حیثیت سے قطع نظر حنوط کیا کرتے تھے۔
مُردوں کے ساتھ رہنا
اریکا اور دیگر کئی جگہوں پر گذشتہ صدی میں سینکڑوں ممیوں کی دریافت کے بعد مقامی لوگوں نے ان ممیوں کے ساتھ اور کئی جگہوں پر تو ان کے اوپر رہنا بھی سیکھ لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کسی عمارت کی تعمیر کے دوران یا کسی کتے کے سونگھنے پر انسانی باقیات نکلنے کا تجربہ یہاں رہنے والی کئی نسلوں نے کیا ہے مگر ایک طویل عرصے تک اُنھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کتنی اہم ہیں۔
ماہرِ آثارِ قدیمہ جنینا کیمپوس فوئینتس کے مطابق ’کبھی کبھی لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ کیسے اُن کے بچے کھوپڑیوں سے فٹ بال کا کام لیتے اور ممیوں کے کپڑے اتار لیا کرتے تھے پر اب وہ جانتے ہیں کہ ایسا کچھ بھی ہو تو اسے چھوڑ دینا ہے اور ہمیں بتانا ہے۔‘
مقامی افراد اینا ماریہ نیتو اور پاؤلا پیمینتل کو اس بات پر خوشی ہے کہ یونیسکو نے چنچورو ثقافت کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔

یہ خواتین کھدائی کے دو مقامات کے قریب پڑوسیوں کی تنظیموں کی قیادت کرتی ہیں اور مقامی یونیورسٹی تراپاچیا کے سائنسدانوں کے گروہوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ چنچورو ثقافت کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا جا سکے اور ان جگہوں کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جا سکے۔
اب اس علاقے میں ایک میوزیم کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے جہاں قطار در قطار انسانی باقیات پر مضبوط شیشے رکھے جائیں گے اور لوگ اوپر سے ہی دیکھ سکیں گے۔
اس کے علاوہ مقامی لوگوں کو گائیڈ کے طور پر تربیت بھی دی جائے گی تاکہ یہ اپنے ورثے سے دوسروں کو آگاہ کر سکیں۔
اس وقت 300 سے زائد چنچورو ممیوں میں سے تھوڑی سی ہی تعداد نمائش کے لیے موجود ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کو سین میغوئل دی ازارپا آرکیالوجیکل میوزیم میں رکھا گیا ہے۔
تراپاچیا یونیورسٹی کے زیرِ انتظام یہ میوزیم اریکا سے 30 منٹ کی دوری پر موجود ہے اور یہاں حنوط کرنے کے طریقہ کار سے متعلق متاثر کُن نمائش کی جا رہی ہے۔
زیادہ ممیوں کی گنجائش والے ایک بڑے میوزیم کی بھی منصوبہ بندی ہے مگر انھیں محفوظ حالت میں رکھنے کے لیے بھاری فنڈز درکار ہیں۔
برنارڈو آریازا اور جنینا کیمپوس کو یقین ہے کہ اریکا اور قریبی پہاڑیوں پر اب بھی کئی خزانے اپنی دریافت کے منتظر ہیں مگر انھیں تلاش کرنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہے۔
میئر گیرارڈو اسپیندولا روحاس کو اُمید ہے کہ ان ممیوں کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے سے سیاحت کو فروغ ملے گا اور مزید فنڈز بھی آئیں گے۔

،تصویر کا ذریعہFelipe Tobar Alduante
مگر اُنھیں احساس ہے کہ کوئی بھی ترقی درست طریقے سے ہونی چاہیے، اس میں مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کام ہونا چاہیے اور سائٹس کا تحفظ ہونا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’روم یادگاروں کے اوپر بسا ہوا ہے، اس کے برعکس اریکا کے لوگ انسانی باقیات پر رہ رہے ہیں اور ہمیں ممیوں کو بچانے کی ضرورت ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ شہری منصوبہ بندی کے قوانین موجود ہیں اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ ہر تعمیراتی کام کی سائٹ پر موجود ہوتے ہیں تاکہ انمول باقیات کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
میئر اسپیندولا پُرعزم ہیں کہ چلی کے دوسرے علاقوں جہاں ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ٹور آپریٹرز نے سیاحتی مقامات سے بھرپور منافع کمانے کے لیے زمینیں خرید لی ہیں، اُن کے برعکس اریکا ورثہ مقامی لوگوں کے ہاتھوں میں ہی رہے گا اور مقامی آبادی کو فائدہ پہنچائے گا۔
مقامی تنظیم کی صدر اینا ماریہ پریتو کو اُمید ہے کہ ممیوں کو ملنے والی نئی شہرت ہر کسی کے حق میں بہتر ہو گی۔
’یہ ایک چھوٹا قصبہ ہے، مگر دوستانہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر سے سائنسدان اور سیاح یہاں آئیں اور اس حیرت انگیز چنچورو ثقافت کے بارے میں جانیں جس کے ساتھ ہم زندگی بھر سے رہ رہے ہیں۔‘











