قدیم مصر: سائنسدانوں کا پہلی مصری حاملہ ممی دریافت کرنے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہWarsaw Mummy Project
پولینڈ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت کی ہے۔ یہ اپنی طرز کی واحد دریافت ہے۔
جمعرات کو جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں چھپنے والی ایک مضمون کے مطابق یہ دریافت وارسا ممی پراجیکٹ کے محققین نے کی ہے۔
2015 میں شروع ہونے والے پراجیکٹ میں وارسا کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کی جانچ پڑتال کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
پہلے خیال تھا کہ یہ کسی مرد پجاری کی ممی ہے لیکن سکین سے پتہ چلا کہ یہ کسی عورت کی ممی ہے جو حمل کے آخری مراحل میں تھی۔
اس منصوبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی ایسی خاتون کی باقیات ہیں جو 20 اور 30 سال کی عمر کے پیٹے میں تھی اور اس کا تعلق کسی اونچے خاندان سے تھا، جو پہلی صدی قبل مسیح کے دوران وفات پا گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جرنل میں چھپنے والے مضمون میں انھوں نے اپنی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ ’پیش ہے ایک حنوط شدہ حاملہ عورت کی ممی کی پہلی مثال اور اس طرح کے جنین کی پہلی ریڈیولوجیکل تصاویر۔‘
جنین کے سر کے گھیرے سے انھوں نے اندازہ لگایا کہ جب ماں کی موت نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہوئی تو اس وقت اس کی عمر 26 اور 30 ہفتوں کے درمیان ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہWarsaw Mummy Project
پولش اکیڈمی آف سائنسز کی ٹیم کے رکن وہچیک ایجسمنڈ نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹ پریس کو بتایا کہ ’یہ اب تک کی ہماری سب سے اہم اور سب سے بامعنی دریافت ہے۔‘
ماں کے پیٹ کے اندر سے چار بنڈل نکلے جن میں خیال ہے کہ اعضا کو حنوط کر کے رکھا گیا تھا، لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنین کو بچہ دانی سے نہیں ہٹایا گیا تھا۔
سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نہیں نکالا گیا اور الگ کیا گیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق بعد کی زندگی یا اسے نکالنے میں مشکلات سے ہو۔
’پر اسرار خاتون‘
ممی پراجیکٹ کے محققین نے اس کے متعلق مختلف رازوں کی وجہ سے اسے وارسا میں نیشنل میوزیم کی ’پراسرار خاتون‘ کا نام دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ممی کی باقیات کو سب سے پہلے یونیورسٹی آف وارسا کو 1826 میں عطیہ کیا گیا تھا۔ اسے دینے والے کا دعویٰ تھا کہ ممی تھیبیس کے شاہی مقبرے سے ملی تھی، لیکن محققین کہتے ہیں کہ انیسویں صدی میں نوادرات کی قدر بڑھانے کے لیے انھیں مشہور مقامات سے جھوٹ موٹ منسوب کر دیا جاتا تھا۔
اس کے تابوت اور سارکوفگس پر پرتعش نقش کاری کو دیکھ کر 20 ویں صدی کے ماہرین یہ یقین کرنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ اس کے اندر ایک مرد پجاری کی ممی ہے جس کا نام ہور جیہوٹی تھا۔
لیکن اب سائنس دانوں نے سکیننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے شناخت کے بعد کہا ہے کہ یہ ایک خاتون کی ممی ہے، جسے انیسویں صدی کے دوران کیس وقت قدیم نوادرات بیچنے والوں نے غلط تابوت میں بند کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہWarsaw Mummy Project

،تصویر کا ذریعہWarsaw Mummy Project
محققین کے مطابق ممی بہت ’اچھی حالت میں محفوظ‘ ہے لیکن اس کی گردن کے گرد کپڑے کو پہنچنے والے نقصان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کسی وقت قیمتی سامان ڈھونڈنے والوں نے کیا تھا۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کم از کم 15 اشیا جن میں ممی کی طرح کے تعویذ کا ایک ’مہنگا سیٹ‘ بھی شامل ہے، ممی کے اندر لپٹا ہوا برآمد ہوا ہے۔
پراجیکٹ کے محققین میں سے ایک ڈاکٹر مرزینا اوزاریک سلکے نے پولینڈ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ان کے شوہر نے پہلے ایک سکین کے دوران ایک ’چھوٹا سا پاؤں‘ دیکھا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ٹیم امید کرتی ہے کہ اب وہ ممی کے جسم میں سے کچھ ٹشو حاصل کر کے حنوط شدہ خاتون کی موت کی وجہ کا بھی تعین کرے گی۔









