انڈونیشیا میں طیارہ حادثہ: ’سمجھدار‘ پائلٹ اور نوبیاہتا جوڑے جن کے اہلخانہ پُرامید ہیں کہ وہ لوٹیں گے

جکارتہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں سمندر میں گر کر تباہ شدہ طیارے کے مسافروں اور عملے کے لواحقین انتظار کی تکلیف سے گزر رہے ہیں کیونکہ حکام اس طیارے کے ملبے اور باقیات کی تلاش کا کام جاری ہے۔

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے بوئنگ 737 مسافر بردار طیارے کے بلیک باکس کا پتہ لگانے کے لیے استعمال ہونے والا ’پنگ لوکیٹر‘ تکنیکی مسائل کا شکار ہے اور نیا آلہ جلد ہی منگوا لیا جائے گا۔

اب سنگاپور سے نئے ’پنگ لوکیٹر‘ کی آمد کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اب تک طیارے کے ملبے کا کچھ حصہ اور انسانی باقیات ملی ہیں۔

سنیچر کو جکارتہ سے پرواز بھرنے کے چند ہی منٹ کے بعد بوئنگ 737 مسافر بردار طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ اس پر کل 62 افراد سوار تھے۔

اس حادثے میں کسی کے زندہ بچ جانے کی امیدیں بظاہر معدوم ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پیر کو انڈونیشیا کی پولیس نے حادثے کا شکار ہونے والی عملے کی اہلکار اوکے بسما کی شناخت کی۔ ان کی عمر 29 برس تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ غوطہ خوروں نے انسانی باقیات، جہاز کے ٹکڑے اور کپڑے نکالے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 2600 اہلکار سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے تھے جن میں 50 کشتیاں اور 13 ائیر کرافٹ شامل ہیں۔

’کیپٹن عفوان: سمجھدار اور شفیق انسان‘

کیپٹن عفوان

،تصویر کا ذریعہENDAH

،تصویر کا کیپشنکیپٹن عفوان

اس بدقسمت طیارے کے پائلٹ 54 سالہ کیپٹن عفوان تھے۔ ان کے بھتیجے فرزہ مہردھیکا کہتے ہیں کہ ’ہم غم میں ہیں اور اب بھی ان کے زندہ بچ جانے کے لیے دعا گو ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ انکل اس دن گھر سے بہت جلدی میں نکلے تھے۔ ’وہ عام طور پر بہت اچھی طرح تیار ہوتے ہیں لیکن اس روز انھوں نے بغیر استری کے شرٹ پہن رکھی تھی۔‘

انھوں نے اپنے تینوں بچوں سے معذرت کی کہ وہ بچوں جلدی میں گھر سے جا رہے ہیں۔

عفوان سنہ 1987 میں کمرشل پائلٹ بننے سے پہلے ایئر فورس کے لیے بطور پائلٹ فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

ان کے اہلِخانہ اور ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ عقیدے کے پکے مسلمان تھے اور جنوبی جاوا کے ٹاؤن بوگر کے لوگوں کی امداد کرتے تھے اور اپنے کام کی جگہ پر بھی لوگوں کی مدد کرتے تھے۔

سوشل میڈیا پر ان کی پروفائل پکچر میں سپرمین کا کارٹون دکھائی دے رہا ہے جو دعا کر رہا ہے اور ساتھ میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ’اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنا اونچا اڑتے ہیں آپ کبھی جنت میں نہیں جائیں گے اگر آپ نماز نہیں پڑھتے۔‘

فرزا نے بتایا کہ ’وہ بہت اچھے انسان تھے وہ اکثر لوگوں کو صلاح مشورہ اور اچھی رائے دیتے تھے۔ اور وہ اپنے علاقے میں بہت جانی پہچانی شخصیت تھے اور اپنی رحمدلی کی وجہ سے مشہور تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں بہت دکھ میں ہوں اور جو کچھ ہوا اس پر یقین نہیں آ رہا۔ پلیز آپ انکل کے لیے اور اور ہمارے خاندان کے لیے دعا کریں۔‘

15 سالہ دندا آمیلیا جو تفریح کے لیے گھر سے نکلی تھیں

دندا کی والدہ ان کی تصویر دکھاتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہWIDIANINGSIH

،تصویر کا کیپشندندا کی والدہ ان کی تصویر دکھاتے ہوئے

اس طیارے کے مسافروں میں پندرہ سالہ دندا آمیلیا بھی موجود تھیں جو جکارتہ میں چھٹیاں منانے گئی تھیں۔

وہ اپنی والدہ کے باس کے ساتھ وہاں گئی تھیں، جن کے دو بچے بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ان کی والدہ لینا کا کہنا ہے کہ وہ اس خاندان کے ساتھ بہت عرصے سے کام کر رہی ہیں اس لیے جب ان کی بیٹی نے چھٹیاں باس کے بچوں کے ہمراہ گزارنے کی درخواست کی تو میں نے اسے منع نہیں کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کی بیٹی 27 دسمبر کو جکارتہ گئیں لیکن پھر واپس کبھی نہیں لوٹ سکی۔

بی بی سی انڈونیشیا سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی 15ویں سالگرہ کے روز گھر سے گئی تھیں اور وہ بہت خوش تھی۔

صحافیوں سے گفتگو میں لینا نے دندا کی تصویر بھی دکھائی۔

وہ کہہ رہی تھیں ’چھوٹی بیٹی واپس آ جاؤ۔‘

آنگا فرنندا افریان۔ ایک ماہی گیر جو کچھ ہی دن پہلے والد بنے تھے

سماٹرا میں موجود افراندا کہتی ہیں کہ اگر وہ چلا گیا ہے تو میں چاہتی ہوں کہ اسے یہاں لا کر اس کی تدفین کروں

،تصویر کا ذریعہBBC INDONESIA

،تصویر کا کیپشنسماٹرا میں موجود افراندا کہتی ہیں کہ اگر وہ چلا گیا ہے تو میں چاہتی ہوں کہ اسے یہاں لا کر اس کی تدفین کروں

افراندا نے بی بی سی انڈونیشیا کو بتایا کہ وہ اب بھی یہ امید کر رہی ہیں کہ شاید اس فلائیٹ میں موجود ان کا 29 سالہ بیٹا انگا فرنندا افریان ابھی تک زندہ ہو۔

سماٹرا میں موجود افراندا کہتی ہیں کہ ’جکارتہ میں ان کے اہلِخانہ معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ میں بھی جانا چاہتی ہوں لیکن وبا کی وجہ سے سفر مشکل ہے۔‘

انگا ایک ماہ پہلے ہی باپ بنے تھے۔ دونوں میاں بیوی کے یہاں یہ پہلے بچے کی پیدائش تھی۔

ان کی والدہ کہتی ہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد میرا بیٹا اپنے بیٹے کو بہترین زندگی دینے کے لیے سخت محنت کرنا چاہتا تھا۔

آنگا سامان لے جانے والی کشتیوں پر کام کرتے تھے۔ ان کی والدہ کہتی ہیں کہ جمعہ کو بہت دیر سے اس نے بتایا کہ اسے پونتیاناک جانا ہے کیونکہ کشتی خراب ہے اور اس کے مالک نے کہا ہے کہ وہ وہاں پہنچے۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ سفر تو اکثر کرتے تھے لیکن فضائی سفر بہت ہی کم، وہ زیادہ تر کشتی کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کا بیٹا بہت عزم و ہمت والا اور بہت ہی تابعدار بھی تھا۔

افراندا نے اپنے بیٹے کی تصویر اٹھا رکھی تھی جس میں اس نے یونیفارم پہنا ہوا ہے وہ کہتی ہیں کہ ’اگر وہ چلا گیا ہے تو میں چاہتی ہوں کہ اس کو گھر لے کر آؤں اور اس کی تدفین کروں۔ ‘

نیا شادی شدہ جوڑا: احسان ادہلان حاکم اور پتری واہیونی

حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں ایک نوبیاہتا جوڑا بھی موجود تھا۔ احسان اذلان حاکم اور پوتری واہیونی۔

احسان کے چھوٹے بھائی ارون عمرو حاکم نے ویب سایٹ کومپاس کو بتایا کہ ان کے بھائی کو سوکرو ہاٹا ایئر پورٹ سے کال موصول ہوئی کہ خراب موسم کی وجہ سے ان کی فلائٹ کینسل ہوئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ جوڑا کالیمنتان جا رہا تھا جہاں ان کی شادی کے بعد ایک تقریب ہونا تھی کیونکہ وہاں احسان کے دیگر رشتہ دار رہتے تھے۔

اگلے سنیچر کو یہ تقریب منعقد ہونا تھی لیکن اب یہ خاندان اکھٹے دعا کر رہا ہے۔

اندا ان کے شوہر محمد رذکے اور ان کا نومولود بچہ

یسریلانیتا کو جب طیارہ حادثے کی خبر ملی تو وہ بیہوش ہو گئیں کیونکہ اس میں ان کی بیٹی اندا حملیہ پتری، ان کا داماد محمد رزکے وحودی اور ان کا نومولود نواسہ سوار تھے۔

اندا جاوا میں بچے کی پیدائش کے لیے آئی تھیں اور اب واپس پونتیانک میں اپنے شوہر کے ہمراہ جا رہی تھیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق طیارے کے پرواز بھرنے سے پہلے اندا نے طیارے کے پروں کی تصویر واٹس ایپ کے ذریعے بجھوائی اور پیغام میں کہا کہ ’بہت بارش ہو رہی ہے۔‘

انھوں نے اپنے خاندان سے دعا کرنے کے لیے کہا تھا۔

حکام نے انڈونیشیا کے ہوائی اڈے پر ایک خصوصی سینٹر بنایا گیا تاکہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے عملے اور مسافروں کے قریبی لواحقین کے ڈی این اے سیمپلز لے لیں تاکہ شناخت کے عمل میں مدد ملے۔

پولیس کے سینئیر اسسٹنٹ کمشنر یانی پرمانہ کہتے ہیں کہ 51 اہلکاروں کو لاشوں کی شناخت کے لیے مختص ٹیم کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہ ملنے والے نمونوں کو اکھٹا کر سکیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ یہ عمل کم ازکم دو روز تک جاری رہے گا کیونکہ ابھی کچھ خاندان ایسے ہیں جو دارالحکومت پہنچنے کے لیے سفر کر رہے ہیں۔

ایک بزنس مین نے اپنے بیٹے کو کھو دیا

سی این این نیوز کے مطابق ایک تیس سالہ کاروباری شخص بزنس ٹرپ پر جکارتہ گئے ہوئے تھے اور واپس نگاراک میں اپنے خاندان کے پاس گھر جا رہے تھے۔ اُن کا گھر ایئر پورٹ کے نواح میں ہے۔

ان کی اہلیہ نے سی این این کو بتایا کہ میری اپنے شوہر سے بات ہوئی تھی۔

’وہ ایک بہت اچھے اور ملنسار انسان تھے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر نے جو آخری پیغام بھجوایا وہ یہ تھا کہ بیٹے کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں کیونکہ اسے بخار ہے۔ جبکہ اب ان کا بیٹا بار بار پوچھ رہا ہے کہ اس کے والد کب گھر لوٹیں گے۔