کورونا کے زمانے میں دس ہزار مہمانوں والی شادی کیسے ممکن؟

،تصویر کا ذریعہfacebook.com/officialkunan
کورونا وائرس کے وبائی مرض نے بہت سے لوگوں کی بڑی دھوم دھام سے شادی کے خواب کو بہت متاثر کیا ہے۔
لیکن ملائیشیا کے ایک جوڑے نے پابندیوں کو غچہ دے دیا ہے کیونکہ وہاں مہمانوں کی تعداد کو 20 افراد تک محدود کیا گیا ہے لیکن اس جوڑے نے اپنی شادی میں اطلاعات کے مطابق دس ہزار افراد کو مدعو کیا اور سب نے کووڈ قواعد کے مطابق شرکت کی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں۔
لیکن ایسا ہو سکتا ہے اگر آپ اپنی شادی چلتی پھرتی شادی میں تبدیل کر دیں۔
یہ بھی پڑھیے
اتوار کی صبح نئے شادی شدہ جوڑے کو دارالحکومت کوالالمپور کے جنوب میں واقع پوتراجیا کی ایک عظیم الشان سرکاری عمارت کے باہر بٹھایا گیا تھا جہاں ان کے سامنے سے مہمانوں کا قافلہ اپنی اپنی گاڑیوں میں گزرتا رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گاڑیوں کی کھڑکیوں کو کھلا رکھا گیا اور مہمانوں کو شادی کی تقریب کی جھلک ملتی رہی جبکہ سماجی دوری کی پابندی پر عمل بھی ہوتا رہا۔
ایسا عام شادیوں میں ممکن نہیں لیکن دولھا تینگکو محمد حافظ اور دلھن اوسینے الاگیہ بھی عام جوڑے نہیں ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام
دولھا بااثر سیاستدان اور سابق وزیر کابینہ ٹینگکو عدنان کے بیٹے ہیں۔ خیال رہے کہ اتوار کا دن مسٹر عدنان کی سالگرہ کا بھی دن تھا۔
والد نے اس تقریب کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے فخریہ انداز میں فیس بک پر لکھا: 'مجھے بتایا گیا ہے کہ صبح سے یہاں دس ہزار سے زیادہ کاریں گزری ہیں۔'
'یہ میرے اور اور میرے اہل خانہ کے لیے باعث افتخار ہے۔ گاڑی سے باہر نکلے بغیر آپ سب کی حاضری کا بہت شکریہ کہ آپ نے تمام ضابطوں کا خیال رکھا۔'

،تصویر کا ذریعہfacebook.com/officialkunan
اس تقریب میں دس ہزار شرکا کے اپنی گاڑیوں سے گزرنے میں تقریبا تین گھنٹے لگے۔
تاہم خوش و خرم جوڑے کی جانب سے صرف ہاتھ ہلا کر ان کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ بھی انھیں اس سست رفتاری سے جاری قافلے میں گزرنے سے حاصل ہوا۔
ملائیشیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق سماجی دوری کے احکامات پر قائم رہتے ہوئے مہمانوں کو پیک کیا ہوا عشائیہ دیا گیا جو انھیں چلتی ہوئی ان کی گاڑیوں میں کھڑکیوں سے تھمایا گیا۔
یہ جشن دولھے کے سیاستدان کے والد کے بدعنوانی کے معاملے میں مجرم ثابت ہونے سے ایک دن قبل منعقد ہوا۔ انھیں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں پانچ لاکھ امریکی ڈالر کے فراڈ کا مجرم پایا گیا ہے اور انھیں جرمانے کے ساتھ 12 ماہ کی جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔
ملائیشیا اس وقت کووڈ 19 کی ایک نئی لہر کا مقابلہ کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر ملک میں کورونا وائرس کے تقریبا 92 ہزار مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 430 سے زیادہ افراد کی اموات ہوئی ہیں۔










