اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ملاقات کی خبریں گرم، سعودی عرب کی جانب سے تردید

اسرائیل

،تصویر کا ذریعہReuters

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی ملاقات سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔

انھوں نے اپنے پیغام میں لکھا: ’میں نے میڈیا میں امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان اور اسرائیلی حکام کے درمیان ملاقات کی خبریں دیکھی ہیں۔ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ ملاقات میں صرف امریکی اور سعودی حکام موجود تھے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اسرائیلی میڈیا کا دعوی

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اتوار کو خفیہ طور پر سعودی عرب گئے جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔

فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ماضی میں نیتن یاہو کے زیرِ استعمال رہنے والا ایک طیارہ سعودی عرب کے شہر نیوم گیا جہاں وہ پانچ گھنٹے تک رکا۔

اس سے قبل سعودی میڈیا نے خبریں چلائیں تھیں کہ امریکی سیکریٹری سٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی ولی عہد سے نیوم میں اتوار کو ملاقات کی تھی۔

تاہم واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے دورے کے حوالے سے اب تک باضابطہ طور پر دونوں ممالک کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ تاریخی طور پر ایک دوسرے کے حریف ممالک کے رہنماؤں کے درمیان پہلی ایسی ملاقات ہو گی۔ امریکہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیل کے متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے معاہدوں میں کردار ادا کیا ہے۔

سعودی عرب نے محتاط انداز میں اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا تاہم اس نے عندیہ دیا ہے کہ جب تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ نہیں ہوجاتا، تب تک وہ مذکورہ ممالک کی پیروی نہیں کرے گا۔

اسرائیل، سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہTwitter/@BarakRavid

مبینہ دورے میں اور کون شامل تھا؟

اس حوالے سے اب تک سعودی عرب یا اسرائیل کے حکام نے تصدیق نہیں کی ہے کہ اس طیارے میں نیتن یاہو سوار تھے، تاہم اسرائیلی میڈیا ادارے وثوق سے یہ دعویٰ کرتے نظر آ رہے ہیں۔

صحافی باراک راوید نے ٹویٹ کی کہ 'ذرائع' کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم خفیہ طور پر نیوم گئے جہاں انھوں نے ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی۔

انھوں نے مزید لکھا کہ اس موقع پر اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ یوسی کوہِن بھی ان کے ساتھ تھے۔

باراک نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار تو کیا ہے تاہم اس خبر کی تردید بھی نہیں کی ہے۔

انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ طیارہ گذشتہ روز شام پانچ بجے اڑا، بحیرہ احمر کے ساحل تک گیا اور پانچ گھنٹے بعد اس نے واپس اسرائیل کے لیے ٹیک آف کیا۔

اسرائیل، امارات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خلیجی ممالک اور اسرائیل کے تعلقات کی بحالی

یاد رہے کہ رواں سال اگست میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا تھا کہ ان کے درمیان امن معاہدے اور سفارتی تعلقات کے قیام پر اتفاق ہو گیا ہے۔

اس کے بعد امارات کے سرکاری حکم نامے کے تحت اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون ختم کر دیا گیا جس کے بعد اماراتی باشندے اور کمپنیاں اسرائیلی باشندوں اور کمپنیوں کے ساتھ مالی لین دین، روابط اور معاہدے قائم کر سکیں گی۔

اس کے بعد اکتوبر میں پہلے بحرین اور بعد میں سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان کر دیا۔

یہ تینوں معاہدے امریکہ کی زیرِ سرپرستی طے پائے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ انھیں اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ کی اس خارجہ پالیسی کو جاری رکھیں گے یا نہیں۔

مذکورہ بالا ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد سعودی عرب کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی گئیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرے گا، تاہم اب تک سعودی عرب نے اس حوالے سے پیش رفت نہیں کی ہے۔

اس کے علاوہ رواں ماہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان پر کچھ ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ہے تاہم بعد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے اس کی تردید کر دی تھی۔