سعودی تیل تنصیبات پر حملہ: سعودی عرب کی وزارت توانائی کا جیزان میں تیل کی تنصیبات پر حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ

سعودی تیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سعودی عرب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھوں نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے جیزان صوبے میں سعودی تیل کی تنصیبات پر کیے جانے والے حملے کو ناکام بنا دیا ہے جس میں بغیر پائلٹ والی کشتیوں کا استعمال ہوا تھا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سعودی پریس ایجنسی کے مطابق جمعرات کو رات گئے سعودی وزارت توانائی کی جانب سے جاری ایک اعلامیہ میں کہا گیا کہ سعودی دفاعی حکام نے ’دھماکہ خیز مواد سے لدی دو کشتیوں کو تباہ کر دیا جو حوثی باغیوں نے تیل کی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے بھیجی تھیں۔‘

ایس پی اے کے مطابق حملہ بدھ کی شب ہوا تھا اور اس کی وجہ سے تیل کی تنصیبات پر آگ لگ گئی تھی لیکن اس پر بعد میں قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

نقشہ جیزان

سعودی عرب کی جانب سے کہا گیا کہ سعودی توانائی کی اہم تنصیبات پر ایسا حملہ نہ صرف سعودی عرب پر حملہ ہے بلکہ ’دنیا کی توانائی کی فراہمی، آزاد تجارت اور عالمی معیشت کے استحکام کو بھی خطرہ ہے۔‘

سعودی عرب سے یمن پر پانچ برس قبل کیے گئے حملے کے بعد سے حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں نے بارہا جواب میں سعودی تیل کی تنصیبات، فوجی اہداف اور ہوائی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونوں سے حملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ موسم گرما میں شمالی سعودی عرب میں تیل کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو کی تیل تنصیبات پر ایک غیر متوقع اور شدید حملہ کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری حوثی ملیشیا نے قبول کی تھی، تاہم سعودی عرب کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ایران کا کردار ناقابل تردید ہے۔

تیل تنصیبات حملہ

،تصویر کا ذریعہReuters

حوثی عسکریت پسندوں اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد کے پانچ سالہ تنازع میں اندازً دس ہزار یمنی شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے جن میں سے زیادہ تر سعودی اتحادیوں کے حملوں کا نشانہ بنے تھے۔

اس کے علاوہ قحط اور بیماریوں کے پھیلنے سے بھی ہزاروں افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔