ترکمانستان کے صدر کے پسندیدہ کتے کے سونے کے مجسمے کی نقاب کشائی

ترکمانستان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنترکمانستان میں الابائی نسل کے کتے قومی ورثے کا حصہ ہیں

ترکمانستان کے صدر نے کتوں کی اپنی پسندیدہ نسل کو سب سے بڑے اعزاز سے نوازا ہے اور انھوں نے اپنے دلعزیز کتے کا ایک سونے کا دیوہیکل مجسمہ بنوایا ہے!

صدر قربان قلی بردی محمدوف نے منگل کو اس 19 فٹ اونچے مجسمے کی نقاب کشائی کی۔

یہ مجسمہ الابائی نسل کے کتے کا ہے جسے دارالحکومت عشق آباد میں نصب کیا گیا ہے۔

ترکمانستان میں الابائی کتوں کی افزائشِ نسل کی جاتی ہے اور ان کا تعلق وسطی ایشیا کے شیپرڈ کتوں کے خاندان سے ہے۔ ان کتوں کو چرواہے اپنے مویشیوں کی حفاظت کے لیے پالتے ہیں۔ ترکمانستان میں یہ کتے قومی ورثے کا حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب ملک کے صدر نے ان کتوں کو عزت دی ہے۔ گزشتہ برس صدر نے الابائی کتوں کے نام ایک کتاب وقف کی تھی۔

کتے کا یہ جاہ و جلال والا بڑا مجسمہ اپنی جگہ لیکن ترکمانستان میں آبادی کی اکثریت غربت اور محرومی میں زندگی گزار رہی ہے۔ آزادیِ اظہار مفقود ہے اور دنیا میں آزادیِ صحافت کی فہرست میں اس ملک کا شمار شمالی کوریا سے بھی نیچے ہے۔

نیوز ویب سائٹ یوریشیانیٹ کے مطابق کتے کے اس مجسمے کو ایک رہائشی علاقے میں نصب کیا گیا ہے جہاں نوکر شاہی سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر لوگ رہتے ہیں۔

گھوڑے کا مجسمہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس مجسمے کے ساتھ ایک ایل ای ڈی سکرین بھی لگی ہوئی ہے جس میں اس نسل کے کتوں کے بارے میں دکھایا جا رہا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس مجسمے کی تعمیر پر کتنی لاگت آئی ہے۔

سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ اس نسل کے کتوں کے 'فخر اور خود اعتمادی' کی عکاسی کرتا ہے۔

مجسمے کی نقاب کشائی کی تقریب کے دوران ایک لڑکے کو الابائی نسل کا ایک کتا تحفہ میں دیا گیا۔

کتوں کی یہ نسل ہاتھ سے تیار ہونے والے قالین اور دوڈ میں حصہ لینے والے آہل تیکے نامی نسل کے گھوڑوں کو سرکاری سطح پر ملک کے قومی ورثے کے اثاثے قرار دیا جا چکا ہے۔

صدر قربان قلی بردی محمدوف آہل تیکے نسل کے مقامی گھوڑوں سے اپنی محبت کا اظہار کر چکے ہیں۔ یہ گھوڑے اپنی خوبصورتی اور قوتِ برداشت کی وجہ سے مشہور ہیں۔

اس سے پہلے سنہ 2015 میں اس نسل کے گھوڑے پر بیٹھے ہوئے صدر کا ایک مجسمہ نصب کیا گیا تھا۔ صدر قربان قلی بردی محمدوف کبھی کبھار دوست ممالک کے رہنماوں کو گھوڑے یا کتے کے بچے کا تحفہ دیتے ہیں۔

ان رہنماوں میں ازبکستان کے سابق صدر اور مرحوم صدر اسلام کریموف، روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور قطر کے امیر بھی شامل ہیں۔

صدر قربان قلی بردی محمدوف پر ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد تنقید بھی ہوئی تھی جب انھوں نے ولادیمیر پوٹن کو تحفے میں دیے جانے والے کتے کو گلے سے پکڑ کر اٹھا تھا۔