ترکی کا اردوغان کارٹون پر چارلی ایبڈو کے خلاف قانونی کارروائی کا ارادہ

ترکی، فرانس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فرانسیسی طنزیہ جریدے چارلی ایبڈو کی طرف سے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ایک کارٹون کی اشاعت کے بعد ترکی نے جریدے کے خلاف ’قانونی، سفارتی کارروائی‘ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اس کارٹون میں صدر اردوغان کو ایک حجابی خاتون کا لباس اٹھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ترک استغاثہ نے طنزیہ جریدے کے خلاف سرکاری تفتیش شروع کر دی ہے۔

ترکی اور فرانس کے درمیان حالات فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں کی طرف سے ’بنیاد پرست اسلام‘ سے سختی سے نمٹنے کے بیان کے بعد مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

صدر اردوغان نے ترک شہریوں سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ صدر میکخواں کو ’دماغی چیک اپ‘ کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ حالیہ تنازع تب شروع ہوا جب فرانس میں سیموئل پیٹی نامی ایک استاد نے طلبہ کو پیغمبرِ اسلام سے متعلق خاکے دکھائے جس کے بعد انھیں قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد میکخواں نے خاکوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ان خاکوں کو نہیں چھوڑیں گے۔

مسلمانوں کے عقائد کے مطابق پیغمبرِ اسلام کا کسی قسم کا عکس یا تصویر ممنوع ہے اور اس کو انتہائی قابل مذمت سمجھا جاتا ہے۔

فرانسیسی صدر میکخواں کی جانب سے حال ہی میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں خاکوں اور فرانسیسی سیکیولر ازم کے دفاع کے تناظر میں ترکی کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت کئی مسلمان ممالک میں شدید ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔

اس وقت بھی فرانسیسی صدر میکخواں کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور دنیا میں فرانسسیسی اشیا کا بائیکاٹ کرنے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

ترکی، فرانس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ترکی کا ردعمل

اس نئے کارٹون سے ترک حکومت میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ صدارتی مواصلات کے ڈائریکٹر فرحتن التون نے کہا، ’چارلی ایبڈو نے بظاہر ہمارے صدر کے بارے میں کئی مبینہ کارٹون شائع کیے ہیں جو حقارت بھرے خاکوں پر مبنی ہیں۔ ہم اس جریدے کی طرف سے ثقافتی اور نسلی بنیادوں پر نفرت پھیلانے کی اس مکروہ کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔‘

ترک نائب صدر فواد اوکتے نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ’اس ذلت‘ کے خلاف آواز بلند کرے۔ انہوں نے ٹوئیٹر پر لکھا، ’آزادی خیال کے پیچھے چھپ کر آپ کسی کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔‘

ان کارٹونز کے ردعمل میں حکومت کے حامی ترک طنزیہ جریدے ’مسواک‘ نے اپنے ٹوئیٹر پیج پر صدر میکخواں اور چارلی ایبڈو پر تنقید کرتے ہوئے کئی کارٹون شائع کیے۔

چارلی ایبڈو اور تنازعوں کا پرانا رشتہ ہے۔ سن 2015 میں پیرس میں جریدے کے دفاتر پر ہونے والے حملے میں بارہ افراد مارے گئے تھے۔ یہ حملہ پیغمبر اسلام کے تضحیک آمیز خاکے شائع کیے جانے کے بعد اسلامی انتہا پسندوں کی طرف سے کیا گیا تھا۔

اسی سال روس نے چارلی ایبڈو پر سخت تنقید کی جب جریدے نے وادی سینا میں ہوائی جہاز کے کریش بارے میں دو کارٹون شائع کیے، جس میں 224 افراد، جن میں سے زیادہ تر روسی تھے ہلاک ہو گئے تھے۔

سن 2016 میں جریدے میں اطالوی زلزلہ متاثرین کو پاستا ڈش کے طور پر پیش کرنے پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

ترکی، فرانس

،تصویر کا ذریعہReuters

فرانس کے خلاف تازہ ترین ردِعمل کیا ہے؟

مسلم دنیا میں صدر میکخواں کے خلاف ان کی جانب سے بظاہر اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف حملوں کی وجہ سے غصہ پیدا ہو رہا ہے۔

اس غصے کی وجہ سے مظاہرے ہو رہے ہیں جبکہ فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں۔ دوسرے ممالک میں موجود فرانسیسی شہریوں کو بھی سیکیورٹی وارننگز دے دی گئی ہیں۔

بنگلہ دیش میں بدھ کو سینکڑوں لوگوں نے بیت المکرم قومی مسجد کے باہر فرانس مخالف مظاہرے میں حصہ لیا۔ مظاہرین نے میکخواں کے پتلے بھی جلائے۔

ملائیشیا میں ایک مذہبی گروہ نے بھی دکانوں سے فرانسیسی مصنوعات ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ملائیشیائی مشاورتی کونسل (ایم سی سی) نے کہا کہ بائیکاٹ سے 'فرانس کو مضبوط پیغام جائے گا۔'

ترکی، فرانس

،تصویر کا ذریعہEPA

فرانسیسی مصنوعات پہلے ہی اردن، قطر، کویت اور دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے سپرمارکیٹس سے ہٹا لی گئی ہیں۔

مصر کی جامعہ الازہر کے امامِ اعظم نے 'مسلم مخالف' اقدامات کو مجرمانہ قرار دینے کی اپیل کی ہے۔ ملک کے صدر عبدالفتاح السیسی نے بدھ کو کہا کہ اگر ڈیڑھ ارب لوگوں کا دل دکھ رہا ہے تو آزادی اظہار کو رکنا چاہیے۔

تحفظ کے خدشات کے پیشِ نظر فرانسیسی وزارت خارجہ نے انڈونیشیا، عراق اور موریطانیہ میں اپنے شہریوں کو وارننگ جاری کرتے ہوئے انھیں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔