فرانس میں ٹیچر کا سر قلم: ٹیچر سے متعلق ویڈیوز پر مسجد کو بند کرنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس کی حکومت نے پیرس میں اس مسجد کو بند کر نے کا حکم دیا ہے جہاں سے جمعے کو ہلاک کیے جانے والے ٹیچر سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تھیں۔
سیموئل پیٹی نامی ٹیچر نے اپنے طالب علموں کو پیغمبرِ اسلام سے متعلق خاکے دکھائے تھے جس کے بعد انھیں قتل کر دیا گیا۔
یہ مسجد پیرس کے شمالی میں واقع ہے جو بدھ کے روز سے چھ مہینے کے لیے بند رہے گی۔ مسجد کی جانب سے فیس بک پر پر جو ویڈیوز پوسٹ کی گئیں ان میں خاکوں کے بارے میں کچھ اقدام کرنے کی ترغیب دی گئی تھی اور سیموئل پیٹی کے سکول کا پتہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔ جس کے بعد انھیں قتل کیا گیا۔
مسجد کی جانب سے ان ویڈیوز پر 'افسوس' کا اظہار کیا گیا ہے۔
ٹیچر کی ہلاکت کے بعد مسجد کی جانب سے ان ویڈیو کلپس کو ہٹا (ڈلیٹ) دیا گیا اور قتل کی مذمت کی گئی ہے۔
سیموئل پیٹی کے قتل کے لرزہ خیز واقعے نے فرانس میں لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ اتوار کو لاکھوں لوگوں نے آزادیِ اظہار اور ٹیچر کے حق میں اور ریلیاں نکالیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس کے وزیرِ داخلہ جیرالڈ ڈارمینن نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسجد بند کر دی جائے گی اور اس حکم نامے پر آج شام دستخط کیے جائیں گے۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سیموئل پیٹی کے قتل سے کچھ ہی دیر پہلے مسجد کی جانب سے فیس بک پر ویڈیوز لگائی گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مسجد پیرس کے ایک مصروف مضافاتی علاقے میں واقع ہے اور مسجد میں نماز کے لیے جانے والے لوگوں کی تعداد 15 سو سے زیادہ ہے۔
اس سے پہلے فرانس میں اپنے شاگردوں کو پیغمبر اسلام کے متنازع خاکے دکھانے والے ٹیچر کا سر قلم کیے جانے کے واقعے کے بعد پولیس نے درجنوں مشبتہ اسلامی شدت پسندوں کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں۔
تفتیش میں شامل کیے جانے والوں میں سے کئی نے ہلاک کیے جانے والے ٹیچر سیموئل پیٹی کے قاتل کے حق میں پیغامات جاری کیے تھے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ 51 مسلم تنظیموں کے خلاف بھی تحقیقات کر رہی ہے۔
پولیس نے پیٹی کے مشتبہ قاتل کو جمعے کو پیرس کے ایک مضافاتی علاقے میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
فرانس کے وزیر داخلہ جیراڈ ڈارمینن نے کہا ہے کہ کئی مسلمان تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں سے پیغام دیا جا رہا ہے کہ ملک کے ’دشمنوں کو چین نہیں لینے دیا جائے گا‘ اور یہ کارروائیاں پورا ہفتہ جاری رہیں گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ 80 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے جن میں سے کئی نے پیٹی کے قاتل کے حق میں پیغام جاری کیے تھے۔
پولیس جن لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے ان میں سے بعض کا تعلق مسلمانوں کی مختلف تنظیموں سے ہے جن میں اسلاموفوبیہ کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ’کلیکٹو اگینسٹ اسلاموفوبیہ‘ بھی شامل ہے جس کے بارے میں حکومت کا خیال ہے کہ وہ فرانسیسی ریاست کے خلاف تشہیر کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAFP
اس تنظیم کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی تنظیم ہے جس کا مشن اسلاموفوبیہ کے خلاف جدوجہد کرنا ہے اور وہ اقوام متحدہ کے علاوہ دیگر عالمی تنظیموں کے ساتھ منسلک ہے۔
پیٹی نامی استاد کو پیرس کے مضافات کنفلانز سینٹ اونورائں میں قتل کیا گیا تھا۔ جمعے کو اس واقعے کے بعد پولیس نے چیچنیا سے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
تازہ ترین تحقیقات
انسداد دہشت گردی کے حکومتی وکیل ژان فراسو رچرڈ نے کہا ہے کہ پیٹی کو اس وقت سے دھمکیاں مل رہی تھیں جب انہوں نے آزادی اظہار کے بارے میں اپنی کلاس میں متنازع خاکے دکھائے تھے۔
پیٹی تاریخ اور جغرافیہ کے استاد تھے۔ انہوں نے حالیہ برسوں میں کئی کلاسوں میں اپنے شاگردوں کو یہ خاکے دکھائے اور مسلمان طالب علموں سے وہ یہ ہی کہتے تھے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خاکے ان کے لیے ناقابل برداشت یا اشتعال انگیز ہیں تو وہ انھیں نہ دیکھیں اور اپنے نظریں پھیر لیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مسلمانوں کے عقائد کے مطابق پیغمبر اسلام کا کسی قسم کا عکس یا تصویر ممنوع ہے اور اس کو انتہائی قابل مذمت سمجھا جاتا ہے۔
فرانس میں یہ معاملہ طنزیہ جریدے چارلی ایبڈو میں خاکے شائع کیے جانے کے بعد انتہائی سنگین صورت حال اختیار کر گیا تھا۔
فرانس میں یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب 2015 میں چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے میں دو افراد کی سہولت کاری کے الزام میں 14 افراد پر مقدمہ چل رہا ہے۔ اس واقعے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بہت سے فرانسیسی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہیں نسل پرستانہ اور امتیازی رویوں کا اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کی وجہ ان کا عقیدہ اور مذہب ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو کہ فرانس میں ایک عرصے سے عناد اور کشیدگی کی وجہ بنا ہوا ہے۔
استاد پیٹی کے قتل کے سلسلے میں کی جانے والی تحقیقات میں اب تک گیارہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان گرفتاریوں کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔
فرانس میں رد عمل کیا ہے
فرانس اس حملے کے بعد خوف اور صدمے کے عالم میں ہے۔ اختتام ہفتہ مختلف شہروں میں ہزاروں لوگوں نے پیٹی کی حمایت میں مظاہرے کیے جن میں شرکا نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا 'میں ٹیچر ہوں'۔
پیرس میں ہونے والے ایک مظاہرے میں ایک شخص نے ایک بینر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ 'جمہوریہ کے دشمنوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔' ایک اور شخص نے لکھا تھا 'میں پروفیسر ہوں اور میں سیموئل کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔'
فرانس کے صدر میکخواں نے کہا ہے کہ ’صاف ظاہر ہے کہ یہ حملہ اسلامی شدت پسندوں نے کیا ہے اور اس ٹیچر کو اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ آزادی اظہار کا درس دے رہا تھا۔
اتوار کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں صدر نے اطلاعات کے مطابق یہ کہا کہ ’اسلامی شدت پسندوں کو چین سے سونے نہیں دیا جائے گا‘۔
جمعے کو کیا ہوا
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص جو نارمنڈی سے ساٹھ میل کے فاصلے پر ایک گاؤں کا رہائشی تھا، وہ جمعے کی سہ پہر کو پیٹی کے سکول پہنچا اور وہاں طالب عملوں سے پیٹی کے بارے میں دریافت کیا۔ اس مشتبہ شخص کا بظاہر سکول یا مقتول ٹیچر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس شخص نے مقتول کا گھر جاتے ہوئے پیچھا کیا اور راستے میں ان کے سر پر وار کیا جس کے بعد ان کا سر قلم کر دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق اس شخص نے واردات کے بعد مبینہ طور پر ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ بھی لگایا۔
پولیس جب اس نوجوان کی طرف بڑھی تو اس نے ایئر گن سے ان پر فائر کیا۔ پولیس اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی جس میں اس نوجوان کو نو گولیاں لگئیں۔ اس کے پاس سے 30 سینٹی میٹر کا ایک چھرا بھی برآمد ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ شخص پہلے بھی کئی مرتبہ دیگر الزامات میں عدالت کے سامنے پیش ہو چکا تھا۔












