ترکی: استنبول کے نائٹ کلب پر حملے کے مجرم کو 40 بار عمر قید کی سزا

عبدالقادر ماشارپیوف

،تصویر کا ذریعہAFP

ترکی کی ایک عدالت نے استنبول میں ایک نائٹ کلب پر حملہ کر کے 39 افراد کو ہلاک کرنے کے مجرم کو عمر قید اور قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔

ازبکستان کے شہری عبدالقادر ماشارپیوف کو اس سے قبل اس حملے کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور پیر کے روز عدالت نے انھیں چالیس مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

استنبول میں نائٹ کلب پر حملے کے مقدمے کی سماعت گذشتہ تین سال سے جاری تھی۔ یہ حملہ سنہ 2017 میں نیا سال شروع ہونے کے صرف ایک گھنٹے بعد کیا گیا تھا۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ترکی کی نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق عبدالقادر ماشارپیوف کو عمداً قتل کرنے اور ترکی کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔ انھیں جیل سے عارضی رہائی یا ’پیرول‘ کی رعایت حاصل نہیں ہو گی۔

ان قید کی سزاؤں کے علاوہ انھیں 79 افراد کو زخمی کرنے اور بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے کے جرم میں مزید 1368 سال قید میں گزارنے ہوں گے۔ اس حملے میں ملوث ایک اور شخص الیاس ماماشرپیوف کو مجموعی طور پر 1400 برس قید کی سزا سنائی گئی۔

استنبول

،تصویر کا ذریعہEPA

مجموعی طور پر اس شدت پسند تنظیم کے 48 افراد کو اس مقدمے میں قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں جبکہ گیارہ افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔

نائٹ کلب حملے میں کیا ہوا تھا؟

نیا سال شروع ہونے کے بعد تقریباً رات کے ڈیڑھ بجے جب لوگ نئے سال کا جشن منا رہے تھے، ایک مسلح شخص نے استنبول کے شمالی حصہ میں واقع ایک نائٹ کلب رینا میں فائرنگ شروع کر دی۔

ماشارپیوف ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر نائٹ کلب پہنچے انھوں نے گاڑی کی ڈگی سے ایک خود کار بندوق نکالی اور نائٹ کلب میں داخل ہو گئے۔

نگرانی کرنے والے کیمروں کی فوٹیج سے دیکھا جا سکتا ہے کہ کلب میں داخل ہونے سے قبل فائرنگ پارکنگ ہی میں شروع کر دی گئی اور پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں سے گولیاں ٹکرا ٹکرا کر ادھر ادھر بکھر رہی تھیں۔

بے دریغ فائرنگ کے دوران ماشارپیوف نے ہیڈ گرینڈ بھی استعمال کیے اور اس دوران وہ اپنی بندوق کو بار بار لوڈ کرتے رہے۔

اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں اسرائیل، فرانس، تیونس، لبنان، انڈیا، بیلجیئم، اردن اور سعودی عرب کے شہری بھی شامل تھے۔

ازبکستان سے تعلق رکھنے والے اس حملہ آور کو تلاش کے بعد 17 جنوری سنہ 2017 کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ترکی میں پولیس نے نام نہاد دولت اسلامیہ کے مشتبہ ٹھکانوں پر درجنوں چھاپے مارے ہیں۔ اس سال جولائی میں 27 مشتبہ افراد کو شہر میں شدت پسندی کی وارداتیں کرنے کے شبہ میں گرفتار کر لیا تھا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ترکی میں دولت اسلامیہ کے سرغنہ کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔